جولائی کے دوران دنیا بھر میں اوسط درجہ حرارت ریکارڈ سطح تک پہنچ گیا، جبکہ مغربی یورپ سمیت کئی خطوں میں شدید گرمی اور خشک سالی کی صورتحال نے موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرات کو نمایاں کردیا۔
فرانس اور اسپین سمیت کئی علاقوں میں جولائی کا درجہ حرارت تاریخی سطح پر پہنچ گیا، جبکہ ساحل، وسطی امریکا اور دیگر خطوں میں بھی لاکھوں افراد کو غیر معمولی گرمی کا سامنا کرنا پڑا۔
دنیا کے مختلف حصوں میں ریکارڈ توڑ گرمی نے ماہرین اور حکام کے لیے تشویش بڑھا دی ہے۔
طویل عرصے تک جاری رہنے والی شدید گرمی انسانی صحت، زراعت، پانی کے ذخائر اور قدرتی ماحول کو متاثر کرسکتی ہے۔ بلند درجہ حرارت خشک سالی اور جنگلات میں آگ کے خطرے کو بھی بڑھا دیتا ہے۔
مغربی یورپ میں غیر معمولی گرمی اور خشک موسم نے پہلے ہی کئی علاقوں میں ماحول اور انفرااسٹرکچر پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
ریکارڈ گرمی کے ساتھ ساتھ مغربی یورپ کے بعض علاقوں میں مٹی کی نمی کی سطح بھی تشویشناک حد تک کم ریکارڈ کی گئی ہے۔
مٹی میں نمی کی کمی گرمی کے اثرات کو مزید شدید بنا سکتی ہے کیونکہ زمین سے پانی کے بخارات بننے کا عمل کم ہوجاتا ہے، جس کے نتیجے میں سطح مزید گرم اور خشک ہوسکتی ہے۔
خشک زمین اور بلند درجہ حرارت کا امتزاج جنگلات میں آگ اور زرعی نقصان کے خطرے کو بھی بڑھا سکتا ہے۔
ریکارڈ گرمی نے یورپ، ساحل اور وسطی امریکا سمیت متعدد خطوں کو متاثر کیا ہے، جہاں کروڑوں افراد غیر معمولی موسمی حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔
شدید گرمی بالخصوص بزرگ افراد، بچوں، بیمار افراد اور کھلے ماحول میں کام کرنے والے مزدوروں کے لیے زیادہ خطرناک ہوسکتی ہے۔
متاثرہ علاقوں میں حکام نے شہریوں کو پانی زیادہ پینے، دھوپ میں غیر ضروری طور پر نکلنے سے گریز کرنے اور شدید گرمی کے اوقات میں جسمانی سرگرمیاں محدود رکھنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
جولائی کے درجہ حرارت کے نئے ریکارڈ نے دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلی اور عالمی حدت کے اثرات پر بحث کو مزید تیز کردیا ہے۔
ماہرین کے مطابق قدرتی موسمی عوامل سال بہ سال درجہ حرارت میں تبدیلی کا سبب بن سکتے ہیں، تاہم طویل مدت میں عالمی درجہ حرارت میں اضافے کا رجحان گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج سے جڑا ہوا ہے۔
مسلسل بڑھتا ہوا درجہ حرارت حکومتوں کے لیے موسمیاتی موافقت، پانی کے بہتر انتظام، جنگلات میں آگ سے بچاؤ اور ہیٹ ویو سے نمٹنے کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔
دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث شدید گرمی اب صرف موسمی مسئلہ نہیں رہی بلکہ صحت، معیشت، زراعت اور ماحولیات کے لیے ایک بڑا عالمی چیلنج بنتی جا رہی ہے۔

