قائداعظمؒ کا 11 اگست کا تاریخی خطاب آئین کا رہنما اصول بنایا جائے۔ اکمل بھٹی
اقلیتوں کے مساوی حقوق، سیاسی نمائندگی، مذہبی آزادی اور جبری تبدیلیٔ مذہب کی روک تھام کے لیے مؤثر قانون سازی کی جائے،
فیصل آباد (میاں افتخار احمد) مینارٹیز الائنس پاکستان کے چیئرمین اکمل بھٹی ایڈووکیٹ نے مطالبہ کیا ہے کہ 11 اگست 1947 کو قائداعظم محمد علی جناحؒ کی جانب سے دستور ساز اسمبلی سے کیے گئے تاریخی خطاب کو پاکستان کے لیے رہنما اصول کے طور پر اپنایا جائے اور اسے آئین کے دیباچے میں شامل کیا جائے۔ قومی اقلیتوں کے دن کے موقع پر اقلیتی برادریوں کی یاد میں منعقدہ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے اکمل بھٹی نے کہا کہ پاکستان میں مذہبی اقلیتیں ملک سے انتہا پسندی، فرقہ واریت اور دہشت گردی کا خاتمہ چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مینارٹیز الائنس پاکستان مذہبی اقلیتوں کی نمائندہ تحریک ہے اور تمام اقلیتوں کے لیے مساوی حقوق، مساوی شہریت اور مساوی مواقع کے حصول کے لیے اپنی آئینی اور جمہوری جدوجہد جاری رکھنے کے عزم پر قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خوشحالی اور ترقی کا انحصار اچھی حکمرانی، بدعنوانی کے خاتمے اور ہر شہری کو سستا اور فوری انصاف فراہم کرنے پر ہے۔ اکمل بھٹی نے قومی اقلیتوں کے دن کے موقع پر وفاقی وزیر شہباز بھٹی، بشپ جان جوزف، جسٹس اے آر کارنیلیس، جسٹس بھگوان داس، جسٹس دوراب پٹیل، ایم ایل شاہانی، ڈاکٹر روتھ فا، دیوان بہادر ایس پی سنگھا، چندو لال، سی ای گبن، سیسل چودھری اور دیگر محب وطن اقلیتی شخصیات کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے تحریک پاکستان سے لے کر ملک کی تعمیر و ترقی تک ہر شعبے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے نوجوان مرد و خواتین پاکستان کی سرحدوں کا دفاع کرتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں اور شہادت کے اعلیٰ ترین اعزاز سے سرفراز ہو رہے ہیں۔ وطن سے محبت اور پاکستان سے وفاداری اقلیتی برادریوں کے دلوں میں گہری جڑیں رکھتی ہے اور متعدد چیلنجز، مشکل حالات اور امتیازی سلوک کے باوجود اقلیتیں قومی پرچم کے نیچے مضبوطی سے کھڑی ہیں۔ اکمل بھٹی نے کہا کہ یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں نے کئی دہائیوں سے اقلیتی برادریوں کو نظرانداز کیا اور ان کے دیرینہ مسائل حل کرنے میں ناکام رہیں، تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ دانشمندانہ اور بصیرت افروز قیادت اقلیتی برادریوں کے خدشات اور مسائل کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔ انہوں نے نئے صوبوں کے قیام کو ایک اہم قومی ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر آئین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے انتظامی تنظیم نو کی جاتی ہے اور اقلیتوں سمیت دیگر پسماندہ برادریوں کو مساوی سیاسی نمائندگی فراہم کی جاتی ہے تو مینارٹیز الائنس پاکستان اس کی حمایت کرے گا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ نابالغ لڑکیوں کی جبری تبدیلیٔ مذہب کی روک تھام کے لیے مکمل اور مؤثر قانون سازی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی شخص یا گروہ کو مذہب کے نام پر بچوں، اقلیتی برادریوں کے افراد، ان کی جان و مال یا مذہبی عقائد کو خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ اکمل بھٹی نے موجودہ مشترکہ انتخابی نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس میں متعدد خامیاں موجود ہیں اور خواتین و اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستوں کا موجودہ طریقہ کار ملک کی بڑی آبادی کو اپنے نمائندوں کے براہ راست انتخاب کے حق سے محروم کرتا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 51 میں ترمیم کی جائے، قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں میں اضافہ کیا جائے، انتخابی حلقوں کی منصفانہ حد بندی کی جائے اور اقلیتوں کی مؤثر سیاسی نمائندگی یقینی بنانے کے لیے دوہرے ووٹ کا نظام متعارف کرایا جائے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ دہشت گردی، مذہبی منافرت اور پرتشدد انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے پورے ملک میں نیشنل ایکشن پلان پر مکمل اور مؤثر عملدرآمد کیا جائے۔ انہوں نے حساس مذہبی قوانین کے غلط استعمال کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کرنے اور ان بے گناہ افراد کو انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا جو برسوں سے مقدمات کی سماعت اور فیصلوں کے انتظار میں قید ہیں۔ انہوں نے پرتشدد ہجوم کے حملوں اور قانون کو ہاتھ میں لینے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی اور سزا یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔ اکمل بھٹی نے ملک بھر میں اقلیتی طلبہ کے لیے پانچ فیصد تعلیمی کوٹہ مختص کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کے مساوی مواقع فراہم کیے بغیر معاشرے میں حقیقی مساوات اور پائیدار ترقی ممکن نہیں۔ اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ پاکستان کے آئین کے تحت دیے گئے بنیادی حقوق ہر شہری کو بلاامتیاز مکمل طور پر حاصل ہونے چاہئیں اور تمام امتیازی آئینی دفعات کا خاتمہ کیا جانا چاہیے۔ ریلی سے شمعون گل، انوش بھٹی، صدف عدنان، سرفراز گل، فادر خالد رشید، فادر ظفر، پادری سیمسن، پادری نثار، پادری حور ارشد اور دیگر مذہبی، سیاسی و سماجی رہنماؤں نے بھی خطاب کیا اور تمام پاکستانی شہریوں کے لیے مساوات، انصاف، مذہبی آزادی اور آئینی حقوق کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا۔


