Picture of Nadeem Ali

Nadeem Ali

لندن: انگلینڈ کرکٹ ٹیم نے پاکستان کے خلاف آئندہ تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے لیے دو سال بعد ڈین لارنس کو قومی اسکواڈ میں واپس بلا لیا ہے۔ سابق کپتان بین اسٹوکس کی ریٹائرمنٹ کے بعد خالی ہونے والی مڈل آرڈر کی پوزیشن پر لارنس کو نمبر چھ پر بیٹنگ کی ذمہ داری سونپی جائے گی۔

جمعرات کو انگلینڈ کے قومی سلیکٹر مارکس نارتھ نے پاکستان کے خلاف پہلے دو ٹیسٹ میچوں کے لیے 16 رکنی اسکواڈ کا اعلان کیا۔ انہوں نے تصدیق کی کہ ڈین لارنس مڈل آرڈر کو مضبوط کریں گے، جبکہ جارڈن کاکس انجری کے باعث اسکواڈ سے باہر ہونے والے جیکب بیتھل کی جگہ نمبر تین پر بیٹنگ کریں گے۔

جو روٹ کو ایک بار پھر انگلینڈ کی ٹیسٹ ٹیم کی قیادت سونپی گئی ہے۔ پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان سیریز کا پہلا ٹیسٹ 19 اگست سے ہیڈنگلے، لیڈز میں کھیلا جائے گا۔

29 سالہ ڈین لارنس نے اپنا آخری ٹیسٹ میچ ستمبر 2024 میں سری لنکا کے خلاف کھیلا تھا، جہاں انہیں اوپنر کے طور پر آزمایا گیا تھا۔ اس کے بعد وہ قومی ٹیم سے باہر رہے، تاہم رواں سیزن میں کاؤنٹی چیمپئن شپ میں شاندار فارم کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہوں نے 65 سے زائد کی اوسط سے رنز بنائے اور پانچ سنچریاں اسکور کیں، جس کے بعد انہیں دوبارہ قومی ٹیم میں جگہ ملی۔

دوسری جانب جارڈن کاکس نے رواں سال نیوزی لینڈ کے خلاف اوول ٹیسٹ میں ڈیبیو کیا تھا، جب انہوں نے بین اسٹوکس کی جگہ ٹیم میں شمولیت اختیار کی۔ اب انہیں پاکستان کے خلاف نمبر تین پر اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع ملے گا۔

انگلینڈ کے فاسٹ بولر برائیڈن کارس بھی ہاتھ کی انجری سے صحت یاب ہونے کے بعد ٹیم میں واپس آگئے ہیں۔ سابق نائب کپتان اولی پوپ کو بھی کم بیک کا موقع دیا گیا ہے، جنہیں آسٹریلیا کے خلاف ایشز سیریز میں ناقص کارکردگی کے بعد ٹیم سے باہر کر دیا گیا تھا۔

آف اسپنر شعیب بشیر نے بھی اپنی جگہ برقرار رکھی ہے، تاہم ابھی یہ فیصلہ نہیں ہوا کہ ہیڈنگلے کی پچ پر انگلینڈ ایک ماہر اسپنر کے ساتھ میدان میں اترے گا یا نہیں۔

پاکستان کے خلاف ابتدائی دو ٹیسٹ میچوں میں انگلینڈ کی کوچنگ کی ذمہ داری عارضی طور پر مارکس ٹریسکوتھک نبھائیں گے، جبکہ بعد ازاں نیوزی لینڈ کے سابق کپتان اسٹیفن فلیمنگ مستقل ریڈ بال ہیڈ کوچ کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔

اسکواڈ کے اعلان کے موقع پر مارکس نارتھ نے کہا کہ ٹیم میں نوجوان اور تجربہ کار کھلاڑیوں کا متوازن امتزاج رکھا گیا ہے تاکہ مضبوط پاکستانی ٹیم کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ ڈین لارنس نے کاؤنٹی کرکٹ میں غیرمعمولی کارکردگی دکھائی ہے اور انہیں یقین ہے کہ وہ اپنے تجربے اور مہارت سے مڈل آرڈر کو مضبوط کریں گے۔ انہوں نے جارڈن کاکس کو بھی انگلینڈ کے مستقبل کے باصلاحیت بیٹرز میں شمار کرتے ہوئے ان پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔

انگلینڈ کی ٹیم اس سیریز میں دباؤ کے ساتھ میدان میں اترے گی، کیونکہ وہ اپنے گزشتہ نو ٹیسٹ میچوں میں سے سات ہار چکی ہے اور دسمبر 2024 کے بعد کوئی بھی ٹیسٹ سیریز جیتنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔

دوسری جانب پاکستان کی ٹیم ویسٹ انڈیز کے خلاف حالیہ دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز 1-1 سے برابر کرنے کے بعد انگلینڈ پہنچے گی، جہاں گرین شرٹس اچھی کارکردگی کا سلسلہ برقرار رکھنے کی کوشش کریں گے۔

پاکستان کے خلاف پہلے دو ٹیسٹ میچوں کے لیے انگلینڈ کا اسکواڈ:

بین ڈکٹ، ایمیلیو گے، جارڈن کاکس، جو روٹ (کپتان)، ہیری بروک، ڈین لارنس، جیمی اسمتھ (وکٹ کیپر)، گس اٹکنسن، برائیڈن کارس، جوفرا آرچر، جوش ٹنگ، شعیب بشیر، سیم کک، میتھیو فشر، اولی پوپ اور اولی رابنسن۔