چمن میں مولانا محمد حنیفؒ کی ساتویں برسی پر کانفرنس، ہزاروں افراد شریک

چمن میں منعقدہ مذہبی کانفرنس کی منظرکشی، جہاں علمائے کرام نے مولانا محمد حنیفؒ کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور بلوچستان کی امن و امان کی صورتحال پر گفتگو کی۔

چمن (سید سردار محمد کھونڈئی)

جامعہ دارالعلوم اسلامیہ چمن میں شہیدِ اسلام مولانا محمد حنیفؒ کی ساتویں برسی کے سلسلے میں ایک عظیم الشان کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ کانفرنس کا اہتمام جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے زیرِ اہتمام کیا گیا، جبکہ سیکیورٹی کے انتظامات جمعیت انصار الاسلام فورس نے سنبھالے۔

مذہبی و سیاسی رہنماؤں کا خطاب

کانفرنس سے جمعیت علمائے اسلام کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع، مولانا مفتی محمد قاسم، صوبائی جنرل سیکریٹری مولانا آغا محمود شاہ، صوبائی سرپرست مولانا حافظ محمد یوسف، صوبائی رہنما مولانا مفتی غلام حیدر، حاجی نواز خان کاکڑ، صوبائی فنانس سیکریٹری حاجی غوث اللہ اچکزئی، ضلعی امیر چمن مولانا عبدالمنان، مولانا موسیٰ گل، شیخ الحدیث مولانا شرف الدین، ضلعی امیر قلعہ عبداللہ مولانا فتح محمد، جے ٹی آئی کے صوبائی صدر حکمت اللہ کاکڑ، مولانا مفتی حمداللہ، جے ٹی آئی کے صوبائی جنرل سیکریٹری عبدالمنان کاکڑ اور دیگر علمائے کرام نے خطاب کیا۔

کانفرنس میں شیخ الحدیث مولانا گل محمد، مولانا شمس اللہ، چیئرمین حاجی امان اللہ، شیخ الحدیث مولانا محمد صادق، قاری سلیم اللہ، مولانا محمد میر، شہیدِ اسلام کے قریبی ساتھی مولانا داد محمد، مولانا خیر محمد، مولانا عبد الولی، مفتی محمد مسلم عاجز، مولانا وزیر محمد، مولانا عبدالمنان، حاجی عطا اللہ، مولانا عبد الستار، مولانا نعمت اللہ، حافظ نعمت اللہ نعمانی، مولوی عبد الخالق ثانی سمیت دیگر معزز علمائے کرام بھی شریک ہوئے۔

مولانا محمد حنیفؒ کی دینی و سیاسی خدمات کو خراجِ عقیدت

مقررین نے شہیدِ اسلام مولانا محمد حنیفؒ کی دینی، علاقائی اور سیاسی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی گراں قدر خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ مولانا محمد حنیفؒ کی جدوجہد اور خدمات ان کے پیروکاروں اور علاقے کے لوگوں کے لیے اہمیت رکھتی ہیں اور ان کا کردار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال پر تشویش

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے بلوچستان میں بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بدامنی کے باعث عوام کی زندگی مشکلات کا شکار ہو چکی ہے۔

مقررین نے الزام عائد کیا کہ علمائے کرام اور طلبہ کو شہید کیا جا رہا ہے، جبکہ ذمہ داری سے بچنے کے لیے ان واقعات کا الزام انتہا پسند تنظیموں پر ڈال دیا جاتا ہے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ جمعیت علمائے اسلام بلوچستان میں جاری بدامنی کے خلاف جلد صوبہ بھر میں احتجاجی تحریک شروع کرے گی۔

شاہراہوں پر محفوظ سفر اور عوام کے تحفظ کا مطالبہ

کانفرنس کے شرکاء نے حکومتِ پاکستان اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

مقررین نے بالخصوص صوبے کی شاہراہوں پر محفوظ سفر کو یقینی بنانے اور عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے مؤثر انتظامات کرنے پر زور دیا۔

کانفرنس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ بلوچستان میں امن کے قیام، عوام کے تحفظ اور بدامنی کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔

Related posts

Leave a Comment