بریکنگ نیوز،،،خبردار،
28 ویں،آئینی ترمیم کا مجوزہ مسودہ،
آپ بھی پڑھیں
اٹھائیسویں آئینی ترمیم کی شق نمبر ایک پاکستان کے لیے نئے صوبے اور نیا انتظامی ڈھانچہ.. صفحہ نمبر ایک اور دو دیکھ لیں .. زرائع سوشل میڈیا و صحافتی زرائع،،،
(تجویز کردہ آئینی مسودہ)
باب اول: ریاست کا انتظامی ڈھانچہ
پاکستان ایک وفاقی، جمہوری اور آئینی ریاست ہوگا، جس میں مضبوط وفاق، بااختیار صوبے اور مکمل خودمختار بلدیاتی نظام قائم کیا جائے گا۔ تمام ریاستی ادارے آئین کے تابع ہوں گے۔
باب دوم: نئے صوبے
بہتر انتظام، متوازن ترقی اور عوام کو سہولیات کی فراہمی کے لیے ملک کو انتظامی بنیادوں پر درج ذیل صوبوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
پنجاب
1. شمالی پنجاب
2. سنٹرل پنجاب
3. جنوبی پنجاب
4. پوٹھوہار
5. بہاولپور
سندھ
6. کراچی
7. حیدرآباد
8. میرپورخاص
9. سکھر
10. لاڑکانہ
خیبر پختونخوا
11. پشاور
12. ہزارہ
13. ملاکنڈ
14. ڈیرہ اسماعیل خان
بلوچستان
15. کوئٹہ
16. مکران
17. ژوب
18. قلات
دیگر وفاقی اکائیاں
19. گلگت بلتستان
20. آزاد جموں و کشمیر (آئینی و سیاسی اتفاقِ رائے کے مطابق)
⸻
باب سوم: صدرِ مملکت
صدر ریاست، وفاق اور آئین کی علامت ہوگا۔
صدر کا انتخاب براہِ راست عوام کریں گے۔
صدر وفاقی حکومت کا سربراہ ہوگا۔
وفاقی کابینہ صدر کے ماتحت کام کرے گی۔
صدر قومی سلامتی، خارجہ پالیسی اور وفاقی اداروں کا نگران ہوگا۔
⸻
باب چہارم: وفاقی کابینہ
تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ وفاقی کابینہ کے رکن ہوں گے۔
ہر وزیراعلیٰ اپنے صوبے کے معاملات میں بااختیار ہوگا لیکن قومی و وفاقی معاملات میں صدر کو جواب دہ ہوگا۔
قومی پالیسی سازی میں تمام وزرائے اعلیٰ شریک ہوں گے تاکہ وفاق اور صوبوں کے درمیان مکمل ہم آہنگی قائم رہے۔
⸻
باب پنجم: گورنر
ہر صوبے میں ایک گورنر ہوگا جو وفاق اور صدرِ مملکت کا نمائندہ ہوگا۔
گورنر آئین کے نفاذ اور وفاقی پالیسی پر عمل درآمد کی نگرانی کرے گا۔
اگر کوئی وزیراعلیٰ آئین کی خلاف ورزی کرے یا اپنی آئینی ذمہ داریاں ادا نہ کرے تو گورنر، صدر کی منظوری سے، آئینی طریقۂ کار کے مطابق وزیراعلیٰ کو معزول کرنے کی سفارش یا اقدام کر سکے گا، جس کا عدالتی جائزہ وفاقی آئینی عدالت میں لیا جا سکے گا۔
⸻
باب ششم: وفاقی مقننہ
قومی اسمبلی ختم کر دی جائے۔
سینیٹ واحد وفاقی قانون ساز ایوان ہوگا۔

