Picture of Nadeem Ali

Nadeem Ali

آسام، کیرالہ اور جموں و کشمیر شدید بارشوں، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے بری طرح متاثر، ہزاروں افراد محفوظ مقامات پر منتقل۔

نئی دہلی: بھارت میں مون سون کی شدید بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے، جہاں جولائی سے اب تک 100 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ ہزاروں شہری اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق شمال مشرقی ریاست آسام مون سون سے سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے، جہاں شدید بارشوں اور سیلاب کے باعث کم از کم 87 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ ریاست کے وزیراعلیٰ ہمانتا بسوا سرما نے بتایا کہ ضلع سیوا ساگر سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، جہاں 47 افراد ہلاک ہوئے جبکہ کئی علاقے اب بھی زیرِ آب ہیں۔

ریاستی حکومت نے متاثرین کی امداد اور بحالی کے لیے عوام سے مالی تعاون کی اپیل کی ہے۔ وزیراعلیٰ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ متاثرہ علاقوں میں ہونے والی تباہی ماضی کی نسبت کہیں زیادہ سنگین ہے اور مالی نقصان تو پورا کیا جا سکتا ہے، مگر جانوں کا نقصان ناقابلِ تلافی ہے۔

متاثرہ علاقوں سے سامنے آنے والی تصاویر میں دیکھا گیا کہ امدادی کارکن کشتیوں اور عارضی بیڑوں کی مدد سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر رہے ہیں جبکہ کئی دیہات مکمل طور پر سیلابی پانی میں ڈوب چکے ہیں۔

دوسری جانب جنوبی ریاست کیرالہ میں بھی مسلسل بارشوں نے تباہی مچا دی ہے، جہاں 15 افراد ہلاک جبکہ سات افراد لاپتا ہیں۔ شدید بارشوں کے باعث لینڈ سلائیڈنگ اور دریاؤں میں طغیانی نے متعدد علاقوں کو متاثر کیا ہے۔

ریاستی حکومت نے 300 سے زائد امدادی کیمپ قائم کیے ہیں جہاں 10 ہزار سے زائد بے گھر افراد کو پناہ دی جا رہی ہے، جبکہ امدادی ٹیمیں لاپتا افراد کی تلاش اور متاثرین کی مدد میں مصروف ہیں۔

ادھر جموں و کشمیر میں بھی موسلادھار بارشوں کے باعث اچانک آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے کم از کم 31 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ حکام کے مطابق کئی علاقوں میں مختصر وقت میں ہونے والی غیر معمولی بارشوں نے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلائی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ مون سون کی بارشیں بھارت کی زراعت کے لیے انتہائی اہم ہیں، تاہم موسمیاتی تبدیلی کے باعث ان بارشوں کی شدت اور بے قاعدگی میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے ہر سال سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور جانی و مالی نقصانات بڑھ رہے ہیں۔

پڑوسی ملک سری لنکا بھی شدید مون سون بارشوں کی لپیٹ میں ہے، جہاں فلیش فلڈز اور مٹی کے تودے گرنے سے کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

سری لنکا کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ سینٹر کے مطابق تقریباً 12 ہزار افراد اپنے گھروں سے بے دخل ہو کر امدادی مراکز میں منتقل ہو چکے ہیں، جبکہ ملک کے مشرقی علاقوں میں شدید خشک سالی کے باعث حکومت کو ٹینکرز کے ذریعے پینے کا پانی فراہم کرنا پڑ رہا ہے۔

سری لنکن حکومت نے حالیہ شدید موسمی حالات کی وجہ ایل نینو (El Niño) موسمیاتی رجحان کو قرار دیا ہے، جو بحرالکاہل کے پانیوں کے درجہ حرارت میں اضافے کے باعث دنیا بھر میں موسم کے نظام کو متاثر کرتا ہے۔

دونوں ممالک میں امدادی کارروائیاں تیزی سے جاری ہیں، جبکہ محکمہ موسمیات نے آئندہ چند روز میں مزید شدید بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے شہریوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے۔