نئی دہلی میں ووٹر فہرستوں کے خلاف احتجاج، سکیورٹی سخت

Police personnel and protesters gather in New Delhi during an opposition demonstration against voter-list revisions.

ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کے خلاف احتجاج، نئی دہلی میں سکیورٹی سخت

راہول گاندھی کی قیادت میں اپوزیشن جماعتوں کا رام لیلا میدان تک مارچ، چیف الیکشن کمشنر سے استعفے کا مطالبہ، پولیس کی بھاری نفری تعینات

بھارت میں ووٹر فہرستوں کی متنازع نظرثانی کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کے احتجاج کے پیش نظر دارالحکومت نئی دہلی میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ کانگریس رہنما راہول گاندھی کی قیادت میں ہونے والے احتجاج میں مختلف اپوزیشن جماعتوں، طلبہ تنظیموں اور نوجوانوں کی بڑی تعداد میں شرکت متوقع ہے۔

اپوزیشن جماعتوں کا دعویٰ ہے کہ احتجاج میں لاکھوں افراد شریک ہوسکتے ہیں۔ مظاہرین نے ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کے عمل پر اعتراض کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔

حکام کے مطابق احتجاج کے مقام پر پولیس اہلکاروں کے علاوہ ہنگامہ آرائی سے نمٹنے والی گاڑیاں بھی تعینات کی گئی ہیں۔ دہلی ٹریفک پولیس نے ممکنہ رش کے پیش نظر شہریوں کو ٹریفک ڈائیورژن اور متبادل راستوں سے متعلق انتباہ جاری کیا ہے۔

اپوزیشن جماعتوں نے اتوار کو وسطی دہلی سے رام لیلا میدان تک تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر طویل مارچ کرنے کا اعلان کیا ہے، جہاں احتجاجی ریلی منعقد ہوگی۔ بھارتی خبر رساں ادارے اے این آئی کی ویڈیو میں احتجاجی مقام کے قریب لاٹھیوں سے لیس سکیورٹی اہلکاروں اور ہنگامہ آرائی سے نمٹنے والی گاڑیوں کو دیکھا جاسکتا ہے۔

سینئر پولیس افسر روہت راجبیر نے اے این آئی کو بتایا کہ ریلی میں شرکت کے لیے لوگوں کی آمد شروع ہوچکی ہے۔ ان کے مطابق احتجاجی مقام اور مارچ کے راستے پر سکیورٹی سمیت دیگر ضروری انتظامات کیے گئے ہیں۔

الیکشن کمشنر سے استعفے کا مطالبہ کیوں؟

اپوزیشن جماعتیں، طلبہ تنظیمیں اور نوجوانوں کے گروپ گزشتہ ماہ سے ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔ مظاہرین کا بنیادی مطالبہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کا استعفیٰ ہے۔

اپوزیشن کا الزام ہے کہ ووٹر فہرستوں میں نظرثانی کے عمل سے حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو فائدہ پہنچایا جارہا ہے۔ تاہم الیکشن کمیشن نے کسی بھی سیاسی جماعت کی حمایت کرنے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جن ووٹرز کے نام غلطی سے فہرستوں سے خارج ہوئے ہیں، وہ دوبارہ اندراج کراسکتے ہیں۔

دوسری جانب بی جے پی نے اپوزیشن جماعتوں پر جمہوری عمل کو نقصان پہنچانے اور انتخابی نظام پر بلاجواز سوالات اٹھانے کا الزام عائد کیا ہے۔

بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس نے ستمبر میں اپنی ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر کے دو نائبین نے ووٹر فہرستوں کی نظرثانی، رجسٹریشن کے طریقہ کار اور ڈیجیٹل نظام سے متعلق بعض خدشات داخلی سطح پر اٹھائے تھے۔

خبر کے مطابق گزشتہ سال شروع کیے گئے نظرثانی کے عمل کے دوران ووٹر فہرستوں سے 13 کروڑ سے زائد نام خارج کیے گئے، جو جاپان کی مجموعی آبادی سے بھی زیادہ ہیں۔ اس عمل پر اپوزیشن اور الیکشن کمیشن کے درمیان اختلافات برقرار ہیں۔

Related posts

Leave a Comment