پشاور: خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو میں سیکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران پاک فوج کے ایک کیپٹن نے جام شہادت نوش کیا جبکہ 7 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے 7 اگست کو خفیہ اطلاع کی بنیاد پر ضلع ہنگو میں آپریشن شروع کیا۔ اطلاعات کے مطابق علاقے میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی۔
سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے دوران 7 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن کے دوران 27 سالہ کیپٹن حمزہ اکرم بھی شہید ہوئے۔ شہید افسر کا تعلق ضلع نارووال سے تھا اور وہ اپنے دستوں کی قیادت کرتے ہوئے دہشت گردوں کا تعاقب کر رہے تھے کہ شدید جھڑپ کے دوران جام شہادت نوش کر گئے۔
پاک فوج کے مطابق ہلاک دہشت گرد سیکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عام شہریوں کے خلاف متعدد دہشت گرد حملوں میں ملوث رہے تھے۔
آپریشن کے بعد علاقے میں کلیئرنس اور سینیٹائزیشن آپریشن بھی شروع کیا گیا تاکہ ممکنہ طور پر چھپے ہوئے دیگر دہشت گردوں کا سراغ لگا کر علاقے کو مکمل طور پر محفوظ بنایا جا سکے۔
آئی ایس پی آر نے دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک بھر میں عزمِ استحکام کے تحت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھیں گے۔
مستونگ میں بھی آپریشن، 3 دہشت گرد ہلاک
دوسری جانب سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بلوچستان کے ضلع مستونگ کے علاقوں کمبیلا اور آسی آباد میں سرچ اور سینیٹائزیشن آپریشن کے دوران فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 3 دہشت گرد ہلاک جبکہ 12 مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔
ذرائع کے مطابق یہ کارروائی آپریشن ردالفتنہ-3 کے تحت کی گئی، جس کے دوران سیکیورٹی فورسز نے تقریباً 68 مربع کلومیٹر علاقے میں سرچ اور کلیئرنس آپریشن کیا۔
ذرائع نے بتایا کہ کارروائی کے دوران تین دہشت گرد مارے گئے جبکہ ان میں سے دو کی لاشیں بھی برآمد کر لی گئیں۔ چار دیگر دہشت گرد زخمی ہوئے، جن میں ایک اہم کمانڈر شوکت ماما بھی شامل ہے۔
سیکیورٹی اہلکاروں نے کارروائی کے دوران 12 مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کر دی۔ فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانے بھی تباہ کیے اور علاقے سے تنظیم سے متعلق جھنڈے ہٹا دیے۔
پاکستان میں 2021 کے بعد سے بالخصوص خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (CRSS) کی رپورٹ کے مطابق 2026 کی دوسری سہ ماہی کے دوران دونوں صوبے ملک میں دہشت گردی اور تشدد سے متاثر ہونے والے اہم ترین علاقے رہے۔
رپورٹ کے مطابق سہ ماہی کے دوران ملک بھر میں تشدد سے ہونے والی ہلاکتوں میں تقریباً 96 فیصد خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ریکارڈ کی گئیں۔ خیبر پختونخوا میں 475 ہلاکتیں ہوئیں، جو مجموعی تعداد کا 61 فیصد سے زائد ہیں، جبکہ بلوچستان میں 265 افراد جاں بحق ہوئے۔
خیبر پختونخوا میں تشدد کے 151 واقعات رپورٹ ہوئے، جو ملک بھر کے مجموعی واقعات کا تقریباً 57 فیصد بنتے ہیں، جبکہ بلوچستان میں 94 واقعات ریکارڈ کیے گئے۔
سیکیورٹی فورسز کی حالیہ کارروائیاں دونوں صوبوں میں دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف جاری وسیع تر آپریشن کا حصہ ہیں، جن کا مقصد دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنا اور شہریوں و سیکیورٹی اہلکاروں کو مزید حملوں سے محفوظ بنانا ہے۔


