حکیم سلطان احمد داؤدی ۔خدمتِ خلق اور تعمیرِ وطن کا روشن چراغ –

میاں افتخار احمد

وہ جو خدمتِ خلق اور وطن کی محبت میں جینے والے اور مٹنے والے تھے، وہ جو قائداعظم ثانی کہلائے، وہ شخصیت جو یادوں سے کبھی رخصت نہ ہوئی، ایک شخصیت اور بے شمار کردار تھے، وہ تھے حکیم سلطان احمد داؤدی۔ ان  کی بیماری اگست دو ہزار آٹھ میں شدت اختیار کر گئی اور وہ28 اگست 2008 کو دوپہر کے وقت اس دارِ فانی سے رخصت ہو گئے۔ آج ان کی  18ویں برسی ہے ۔وہ صحیح معنوں میں ایک سماجی درویش تھے، جنہوں نے آزادی وطن اور تعمیر وطن کے محاذ پر اپنی پوری زندگی لگا دی۔ میں جب ان کی زندگی کی یادوں میں گم ہوتا ہوں تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ بچپن، نوعمری، جوانی اور بڑھاپے تک ان کی لگن ایک طاقتور پاکستان کی آرزو تھی۔ انہوں نے جب انیس سو اڑتیس کے دوران ہونے والی مردم شماری کے لیے ایک مؤثر تحریک چلائی کہ زیادہ سے زیادہ مسلمان اپنا اندراج کروائیں تاکہ الیکشن کے دوران ووٹنگ میں مسلمانوں کی عددی حیثیت بڑھ سکے تو انہیں ہندوؤں کی مزاحمت پر اٹھارہ ماہ کے لیے پابند سلاسل ہونا پڑا۔ میری والدہ جولائی انیس سو سینتالیس میں فیصل آباد آ گئیں، جبکہ والد فساد زدہ علاقے میں چھپے رہے اور اکیس اگست کو انتہائی پریشان کن حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے پاکستان پہنچے۔ وہ فساد زدہ علاقہ امرتسر میں سولہ اگست تک چھپے رہے اور شدید مصائب جھیلنے کے بعد وطن عزیز پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ نو عمری ہی سے وہ قائد اعظم والی جناح کیپ، سفید شلوار اور قمیض پہنتے تھے، جبکہ ان کی جسمانی مشابہت بھی قائد اعظم جیسی تھی، جس کی وجہ سے لوگ انہیں محبت سے قائداعظم ثانی کہا کرتے تھے۔ ان کی شخصیت میں ایک ایسا وقار تھا جو دور سے ہی انہیں دوسروں سے ممتاز کر دیتا تھا، ان کی جسامت، مخصوص لباس، سر پر ٹوپی، آنکھوں پر عینک اور چہرے پر سنجیدگی کے ساتھ ایک خاص شرافت اور متانت، ان کا سراپا اپنی جگہ ایک مکمل تعارف تھا۔ ممتاز روحانی بزرگ بابا جی سرکار صوفی برکت علی رحمتہ اللہ علیہ کے ساتھ ان کا تعلق انیس سو اڑسٹھ کی دہائی میں دارالاحسان سانگلہ ہل میں قائم ہوا جو مرتے دم تک قائم رہا۔ بابا جی نے اپنے مرکز کو چلانے کے لیے جو کمیٹی بنائی تھی اس میں وہ شامل تھے، بابا جی نے انیس سو اسی کی دہائی میں ایک کمیٹی تشکیل دی جس کا انچارج انہیں بنایا گیا، اس کمیٹی کا مقصد جگھی نشیں گگڑوں کو دائرہ اسلام میں لانا تھا۔ الحمد للہ اس ٹیم کو یہ شرف حاصل ہوا کہ انہوں نے ایک لاکھ گگڑوں کو محدود مدت میں مسلمان کیا، انہیں تعلیم کے ذریعے تہذیبی زندگی کی طرف مائل کیا اور جھگیوں سے نکال کر ان کے لیے رہائشی کالونیاں تعمیر کروائیں اور انہیں وہاں آباد کیا۔ اس سارے کام سے بابا جی اسقدر خوش تھے کہ انہوں نے انہیں اپنے ہاتھوں سے انتہائی خوبصورت سرٹیفکیٹ عطا کیا۔ گگڑوں کو تہذیب کے دائرے میں لانے والے اس پروجیکٹ کو اقوام متحدہ کی طرف سے بھی بے حد سراہا گیا اور اس کام کو ایک رول ماڈل قرار دیتے ہوئے سن دو ہزار سات میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون جب پاکستان آئے تو انہوں نے انہیں بنی نوع انسان کی خدمت پر سماجی سائنسدان کے عالمی تہنیتی اعزاز سے نوازا۔ وہ سن انیس سو تہتر سے دو ہزار سات تک مسلسل چونتیس برس انجمن بہبودی مریضاں کے تحت خدمات انجام دیتے رہے، یہ تنظیم محکمہ سماجی بہبود حکومت پنجاب کا پروجیکٹ تھا، اس کے تحت وہ سول ہسپتال میں روزانہ مریضوں کی تیمارداری کرتے تھے اور نادار مریضوں کی ادویات کا بندوبست بھی کرتے تھے۔ اس سارے


کام کی ذمہ داری بھی صوفی برکت علی رحمتہ اللہ علیہ نے انہیں سونپی تھی اور بابا جی کی یہ خواہش رہی کہ اس کام میں غفلت نہیں کرنی چاہیے۔ انہیں زندگی میں ستارہ امتیاز، تحریک پاکستان گولڈ میڈلسٹ اعزاز کے ساتھ ساتھ سینکڑوں سرکاری اعزازات اور عہدے ملتے رہے لیکن انہوں نے انتہائی سادگی سے زندگی گزاری اور زندگی بھر خدمت انسانی کے چراغ روشن رکھے، جو آج بھی روشن ہیں۔ ان کے نام سے ایک سڑک فیصل آباد میں منسوب ہے، حکیم سلطان احمد داؤدی روڈ، پیپلز کالونی نمبر ایک، فیصل آباد۔ وہ ایک اچھے دوست، اچھی زبان، رزق حلال اور خوش اخلاقی کے حامل شخص تھے۔ کچھ لوگ دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں مگر یادوں سے کبھی رخصت نہیں ہوتے، وقت گزرتا رہتا ہے، موسم بدلتے رہتے ہیں، زندگی اپنی رفتار سے آگے بڑھتی رہتی ہے، مگر بعض چہرے، بعض آوازیں، بعض ملاقاتیں اور بعض شخصیات دل کے نہاں خانے میں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔ باپ کی جدائی بھی شاید زندگی کا ایسا ہی دکھ ہے جس کی شدت وقت گزرنے کے ساتھ کم نہیں ہوتی بلکہ عمر کے ساتھ اس کی کسک اور گہری ہو جاتی ہے، زندگی کے بہت سے لمحے ایسے آتے ہیں جب انسان بے اختیار اپنے باپ کی شفقت، محبت، نصیحتوں، دعاؤں اور سایہ شفقت کو شدت سے یاد کرتا ہے، دل چاہتا ہے کہ کاش وہ ایک بار پھر سامنے بیٹھے ہوں، کاش ان کی آواز سنائی دے، کاش ان سے کوئی بات پوچھنے، کوئی دکھ بانٹنے اور ان کی دعاؤں کے سائے میں چند لمحے بیٹھنے کا موقع دوبارہ مل جائے، مگر زندگی میں دوبارہ ہمیشہ نصیب نہیں ہوتا۔ حکیم سلطان احمد داؤدی بھی اپنی اولاد اور دوستوں کے لیے ایک ایسی ہی محبت بھری اور ناقابل فراموش یاد کا نام ہیں، ان کی برسی آتی ہے تو ماضی کے کئی دریچے ایک ساتھ کھل جاتے ہیں اور فیصل آباد کا کچہری بازار، اخبارات کی پرانی مارکیٹ، صبح سویرے کی گہماگہمی، اخبارات کے بنڈل، صحافیوں اور اخبار فروشوں کی آمدورفت اور ان سب کے درمیان ایک باوقار شخصیت کا سراپا آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے۔ وہ زمانہ بھی کیا خوب زمانہ تھا جب کچہری بازار صرف کاروبار کی جگہ نہیں بلکہ شہر کی سماجی، صحافتی اور سیاسی زندگی کا ایک اہم مرکز محسوس ہوتا تھا، صبح کے وقت وہاں ایک خاص رونق ہوتی تھی، اخبارات کی مارکیٹ میں صحافت سے وابستہ لوگوں کی آمدورفت رہتی، مختلف حلقوں کے افراد ایک دوسرے سے ملتے اور چند لمحوں کی ملاقات بھی تعلق کی ایک خوبصورت کڑی بن جاتی تھی۔ انہی مانوس چہروں میں حکیم سلطان احمد داؤدی کا چہرہ بھی اپنی منفرد پہچان رکھتا تھا، وہ روزانہ صبح سویرے کچہری بازار آتے تھے اور اکثر ان سے ملاقات ہو جاتی تھی، ان کی شخصیت میں ایک ایسا وقار تھا جو دور سے ہی انہیں دوسروں سے ممتاز کر دیتا تھا، ہم ان کی جسامت، قدوقامت اور پہناوے کی وجہ سے محبت سے انہیں قائداعظم ثانی کہا کرتے تھے۔ یہ نام اگرچہ بے ساختہ انداز میں رکھا گیا تھا مگر ان کی شخصیت میں واقعی ایک ایسا رعب، وقار اور متانت موجود تھی جو انہیں مجمع میں بھی منفرد بنا دیتی تھی، وہ گزرتے تو نظر خود بخود ان کی طرف اٹھ جاتی اور ملاقات ہو جاتی تو یوں محسوس ہوتا جیسے کسی پرانے شناسا سے مل کر دن کا آغاز مزید خوشگوار ہو گیا ہو۔ آج جب وقت کی رفتار بہت کچھ اپنے ساتھ بہا لے گئی ہے تو کچہری بازار کی وہ پرانی صبحیں بھی یادوں کا حصہ بن چکی ہیں، بہت سے چہرے جو کبھی روزمرہ زندگی کا حصہ تھے اب صرف یادوں میں دکھائی دیتے ہیں، بہت سی آوازیں جو کبھی آس پاس گونجتی تھیں اب خاموشی میں تبدیل ہو چکی ہیں، بہت سے لوگ جن سے ملنا معمول تھا آج ان سے ملنے کے لیے صرف یادوں کا سہارا باقی ہے۔ انسان کی زندگی بھی عجیب ہے، جن لوگوں کی موجودگی کو ہم روزمرہ کا معمول سمجھتے ہیں ایک دن وہی لوگ ہماری زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ بن جاتے ہیں، ان کے ساتھ گزرا ہوا ایک لمحہ، ایک مختصر ملاقات، ایک جملہ، ایک مسکراہٹ اور کبھی کبھی صرف ان کا سامنے سے گزر جانا بھی بعد میں ایک ایسی یاد بن جاتا ہے جسے انسان پوری زندگی اپنے دل میں سنبھالے پھرتا ہے۔ حکیم سلطان احمد داؤدی کی یاد بھی میرے لیے ایسی ہی ایک یاد ہے جو وقت کی گرد میں دھندلی نہیں ہوئی بلکہ عمر کے ساتھ ماضی کی وہ تصویریں مزید واضح ہوتی جا رہی ہیں، شاید انسان جب خود زندگی کے سفر میں آگے بڑھتا ہے تو اسے اپنے بزرگوں کی قدر اور ان کی جدائی کا احساس زیادہ شدت سے ہونے لگتا ہے۔ ماں اور باپ دو ایسے خوبصورت الفاظ ہیں جن میں پوری زندگی کی محبت سمٹ آتی ہے، ماں کہتے ہوئے منہ کھلتا ہے کیونکہ ماں وہ ہستی ہے جس کے سامنے اولاد اپنے دل کی ہر بات کہہ دیتی ہے، اپنی خوشی، اپنا غم، اپنی پریشانی، اپنی کمزوری اور اپنے دل کا ہر راز ماں کے سامنے رکھ دیتی ہے، اور باپ کہتے ہوئے جیسے منہ بند ہو جاتا ہے کیونکہ باپ اکثر الفاظ سے زیادہ اپنے کردار سے زندگی کی تربیت کرتا ہے، وہ اولاد کو حالات کے سامنے ڈٹ جانا، مشکل وقت میں صبر کرنا، ناکامی کے بعد دوبارہ اٹھنا، اپنے قدموں پر کھڑا ہونا، خاموشی سے ذمہ داریاں نبھانا اور زندگی کی دھوپ میں استقامت کے ساتھ چلتے رہنا سکھاتا ہے۔ باپ کی محبت کا انداز شاید مختلف ہوتا ہے مگر اس محبت کی گہرائی میں کوئی کمی نہیں ہوتی، باپ اولاد کے لیے ایک ایسے شجر کی مانند ہوتا ہے جس کا سایہ زندگی بھر تحفظ کا احساس دیتا ہے، اولاد اس شجر کی شاخیں ہوتی ہیں، اس کی دعائیں سایہ ہوتی ہیں اور اس کی محبت وہ زمین ہوتی ہے جس میں اولاد کی شخصیت پروان چڑھتی ہے۔ لیکن ایک دن یہ شجر بوڑھا ہو جاتا ہے اور پھر دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے، اس کے بعد انسان کو زندگی کی دھوپ پہلے سے کہیں زیادہ محسوس ہوتی ہے، جب انسان خود عمر کے اس حصے میں پہنچنے لگتا ہے جہاں بالوں میں سفیدی اترنے لگتی ہے، قدموں میں تھکن محسوس ہونے لگتی ہے اور زندگی کے کئی تجربات سامنے آ چکے ہوتے ہیں تو اسے اپنے والدین کی موجودگی کی قدر پہلے سے کہیں زیادہ محسوس ہوتی ہے، تب سمجھ آتا ہے کہ جن سایوں کو ہم زندگی بھر معمول سمجھتے رہے وہ دراصل اپنی اولاد کے لیے اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت تھے۔ اولاد کے ساتھ ساتھ ان کا رویہ دوستوں اور ان کی اولادوں کے ساتھ بھی ویسا ہی تھا، حکیم سلطان احمد داؤدی کی یاد بھی اسی احساس کے ساتھ دل میں اترتی ہے۔ کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ اگر آج پھر کچہری بازار کی انہی پرانی گلیوں میں جا کر کھڑا ہو جاؤں، اخبارات کی اس پرانی مارکیٹ کے ماحول کو تلاش کروں اور صبح کے انہی لمحوں کو واپس لانے کی کوشش کروں تو شاید کہیں سے وہی باوقار شخصیت آتی ہوئی دکھائی دے، وہی بلند قد، وہی مخصوص لباس، وہی عینک اور وہی انداز، شاید ہم پھر انہیں دیکھ کر مسکرا دیں اور کہیں قائداعظم ثانی تشریف لے آئے۔ مگر زندگی میں گزرا ہوا وقت واپس نہیں آتا، لوگ دوبارہ اسی صورت میں نہیں ملتے اور ماضی دوبارہ حال نہیں بنتا، البتہ یادیں بار بار لوٹتی ہیں اور انسان کو اپنے ساتھ ایک ایسے زمانے میں لے جاتی ہیں جہاں بچھڑ جانے والے لوگ آج بھی موجود ہوتے ہیں، یہی یادوں کی سب سے بڑی خوبی ہے کہ وہ وقت اور فاصلے کی پابند نہیں ہوتیں۔ انسان آنکھیں بند کرے تو برسوں پہلے کا منظر سامنے آ جاتا ہے، کسی پرانی جگہ کا نام سنے تو بھولی ہوئی آوازیں یاد آ جاتی ہیں اور کسی بچھڑے ہوئے شخص کا ذکر ہو تو دل میں اس کی پوری شخصیت ایک لمحے میں زندہ ہو جاتی ہے۔ حکیم سلطان احمد داؤدی بھی آج ہمارے درمیان موجود نہیں مگر ان کی یاد زندہ ہے، کچہری بازار کی ان پرانی صبحوں میں ان کی یاد زندہ ہے، ان سے ہونے والی ملاقاتوں میں ان کی یاد زندہ ہے، ان کے مخصوص حلیے اور باوقار شخصیت میں ان کی یاد زندہ ہے اور سب سے بڑھ کر ان لوگوں کے دلوں میں ان کی یاد زندہ ہے جنہوں نے انہیں قریب سے دیکھا، ان سے ملاقات کی اور ان کی محبت و شفقت محسوس کی۔ برسی دراصل صرف کسی کی وفات کی تاریخ یاد کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ اس بات کا موقع بھی ہے کہ ہم چند لمحوں کے لیے زندگی کی تیز رفتار دوڑ سے نکل کر اپنے ان لوگوں کو یاد کریں جو کبھی ہماری زندگی کا حصہ تھے اور آج ہماری یادوں کا حصہ ہیں۔ کچھ لوگ دولت چھوڑ جاتے ہیں، کچھ شہرت، کچھ عہدے اور کچھ اپنے پیچھے ایسی محبتیں اور یادیں چھوڑ جاتے ہیں جن کی کوئی قیمت نہیں ہوتی، حکیم سلطان احمد داؤدی بھی اپنی اولاد، عزیزوں، دوستوں اور ملنے والوں کے لیے ایسی ہی قیمتی یادیں چھوڑ گئے ہیں۔ وقت گزر گیا، حالات بدل گئے، کچہری بازار کی رونقیں بدل گئیں، اخبارات کی دنیا نے بھی ایک نیا روپ اختیار کر لیا، مگر کچھ یادیں ایسی ہوتی ہیں جن پر وقت کا کوئی اثر نہیں ہوتا، وہ دل میں اسی طرح محفوظ رہتی ہیں جیسے کسی پرانی کتاب کے درمیان رکھا ہوا پھول، جس کی خوشبو شاید کم ہو جائے مگر اس کی یاد باقی رہتی ہے۔ حکیم سلطان احمد داؤدی کی یاد بھی میرے لیے ایسا ہی ایک محفوظ پھول ہے، آج ان کی برسی پر دل کی گہرائیوں سے دعا نکلتی ہے کہ اے اللہ رب العزت، حکیم سلطان احمد داؤدی کی کامل مغفرت فرما، ان کی تمام کوتاہیوں، لغزشوں اور خطاؤں سے اپنے فضل و کرم کے ساتھ درگزر فرما، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، اسے جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا دے، ان کی قبر کو کشادہ، روشن، پر سکون اور نورانی فرما، قبر کی وحشت اور تنہائی کو اپنی بے پایاں رحمت سے دور فرما، ان کے درجات بلند فرما اور انہیں اپنی رحمتوں کے سائے میں جگہ عطا فرما، یا اللہ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب فرما، حضور اکرم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت نصیب فرما اور قیامت کے دن انہیں اپنے محبوب اور صالح بندوں میں شامل فرما، ان کی نیکیوں کو قبول فرما، ان کی لغزشوں سے درگزر فرما اور ان کے لیے ایسا اجر جاری فرما جو ان کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد بھی ان کے نامہ اعمال میں اضافہ کرتا رہے، ان کی اولاد اور اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرما اور انہیں اپنے بزرگ کی یاد کو نیک اعمال، دعا اور محبت کے ساتھ زندہ رکھنے کی توفیق عطا فرما۔ وقت گزر جائے گا، ہم بھی اس دنیا کے مسافر ہیں، ایک دن ہماری یاد بھی کسی کے دل میں اسی طرح دستک دے گی جیسے آج حکیم سلطان احمد داؤدی کی یاد دل پر دستک دے رہی ہے، شاید آنے والے وقت میں کوئی شخص کچہری بازار سے گزرے، کسی پرانی صبح کو یاد کرے، اخبارات کی کسی پرانی مارکیٹ کا ذکر سنے اور اچانک اسے ایک باوقار اور منفرد شخصیت یاد آ جائے اور وہ محبت سے کہے کہ حکیم سلطان احمد داؤدی بھی یہاں آیا کرتے تھے، جنہیں ہم ان کی قدوقامت اور باوقار شخصیت کی وجہ سے قائداعظم ثانی کہا کرتے تھے۔ یہی کسی انسان کی اصل زندگی ہے کہ وہ اپنے جانے کے بعد بھی کسی کی یاد، کسی کی دعا، کسی کی آنکھ کی نمی اور کسی کے لبوں کی مسکراہٹ میں زندہ رہے۔ حکیم سلطان احمد داؤدی دنیا سے رخصت ہو گئے مگر ان کی محبت اور یاد باقی ہے، کچہری بازار کی ان پرانی صبحوں میں ان کی یاد باقی ہے، اپنے لوگوں کے دلوں میں ان کی یاد باقی ہے اور ان کی اولاد کی محبت میں وہ ایک شجر سایہ دار کی طرح ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، ان کی قبر کو نور و سکون سے بھر دے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، آمین یا رب العالمین۔