
میاں افتخار احمد
ایک الہامی و سائنسی دیباچہ:قرآن مجید کی سورۃ الشمس، جو کہ مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی اور ترتیب کے اعتبار سے 91ویں سورہ ہے، محض چند مختصر آیات پر مشتمل ہے مگر اس کے معانی اور اشارے اتنی گہرائی میں جا پہنچتے ہیں کہ جدید سائنس کی دو عظیم شاخیں یعنی فلکیات اور نیورولوجی اپنے جدید ترین آلات کے ساتھ بھی ان کی رموز سے پردہ نہیں اٹھا سکتیں۔ یہ سورہ اللہ تعالیٰ کی متعدد قسموں سے شروع ہوتی ہے، جہاں سورج، چاند، دن، رات، آسمان اور زمین پر قسم کھائی گئی ہے۔ ان قسموں کا مقصد محض تاکید نہیں، بلکہ کائنات میں چھپی ہوئی ایک عظیم حقیقت کی طرف توجہ مبذول کرانا ہے: ہر نظام میں توازن ہے، ہر حرکت میں سمیٹری ہے، اور یہ توازن اسی ذات کی طرف لے جاتا ہے جس نے اسے قائم کیا۔ انسان کا شعور بھی اسی کائناتی قانون کے ماتحت ہے۔ سورۃ الشمس کے آخری حصے میں ارشاد ہوتا ہے کہ جس نفس کو پاک کر لیا گیا وہ کامیاب ہوا، اور جس نے اسے دبا دیا وہ ناکام ہوا۔ یہ وہ مرکزی نقطہ ہے جہاں فلکیاتی سمیٹری اور نیورولوجیکل توازن ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں۔ پیش نظر مضمون میں ان دونوں شعبوں کی روشنی میں سورۃ الشمس کا تجزیہ کیا جائے گا، اور یہ ثابت کیا جائے گا کہ قرآنی تعلیمات جدید سائنسی دریافتوں سے نہ صرف ہم آہنگ ہیں بلکہ ان سے کہیں آگے نکل جاتی ہیں۔
سورۃ الشمس کی فلکیاتی بنیاد: کائناتی ہم آہنگی کا اعلان:سورۃ الشمس کی پہلی آیت میں ارشاد ہے: و الشمس و ضحیٰھا۔ یعنی قسم ہے سورج کی اور اس کی دھوپ کی۔ سورج ہمارے نظام شمسی کا مرکز ہے، جس میں زمین سمیت تمام سیارے گردش کر رہے ہیں۔ سورج کے اندر ہائیڈروجن کے ایٹم فیوز ہو کر ہیلیم بنتے ہیں، اور اس عمل میں ہر سیکنڈ لاکھوں ہائیڈروجن بم برابر توانائی خارج ہوتی ہے۔ پھر بھی سورج پھٹتا نہیں، کیونکہ اس کی اپنی کششِ ثقل اس توانائی کو متوازن رکھتی ہے۔ فلکیاتی سمیٹری کا پہلا اصول یہی ہے کہ سورج کا درجہ حرارت، اس کا حجم، اس کی روشنی کا زاویہ، سب ایک ایسے حسابی توازن پر قائم ہیں جسے ریاضی کی زبان میں ہم جیوڈیسک مساوات کہتے ہیں۔ یہ توازن اربوں سال سے قائم ہے، اور قرآن نے اسی توازن کو ضحیٰ (دھوپ کی روشنی) کے لفظ میں سمیٹ دیا ہے۔ دھوپ صرف روشنی کا نام نہیں، بلکہ یہ اس توانائی کی علامت ہے جو زمین پر زندگی کے لیے شرط اول ہے۔ اس روشنی کے بغیر نہ فتوسنتھیسز ہو سکتی ہے، نہ آکسیجن بن سکتی ہے، اور نہ ہی انسان کا وجود ممکن ہے۔
دوسری آیت میں ارشاد ہے: و القمر اذا تلیٰھا۔ یعنی قسم ہے چاند کی جب وہ سورج کے پیچھے چلتا ہے۔ یہاں تلیٰھا کا لفظ انتہائی اہم ہے، جس کا مطلب ہے پیروی کرنا، پیچھے آنا، یا کسی کے نقش قدم پر چلنا۔ فلکیاتی اعتبار سے چاند زمین کا قدرتی سیارچہ ہے جو زمین کے گرد بیضوی مدار میں چکر لگاتا ہے، اور اسی دوران وہ سورج کی روشنی کو منعکس کرتا ہے جسے ہم چاندنی کہتے ہیں۔ چاند کا اپنا کوئی روشنی کا ذریعہ نہیں، وہ محض سورج کی روشنی کا آئینہ ہے۔ اور جب قرآن کہتا ہے کہ چاند سورج کے پیچھے چلتا ہے تو اس سے مراد چاند کا مدار میں وہ مقام ہے جہاں وہ سورج کی روشنی کو اس طرح منعکس کرتا ہے کہ زمین پر موسموں کی تبدیلی، مدو جزر کا نظام، اور یہاں تک کہ بعض جانوروں کی افزائش نسل کا وقت بھی اس سے وابستہ ہو جاتا ہے۔ یہاں ایک اور لطیف حقیقت یہ ہے کہ چاند ہر ماہ اپنے تمام مراحل سے گزرتا ہے، جسے ہم ہلال، بدر، اور محاق کے نام سے جانتے ہیں۔ یہ مراحل بھی ایک خاص سمیٹری کے تحت ہوتے ہیں، اور ان کا کوئی ایک مرحلہ بھی بے ترتیب نہیں ہوتا۔ اگر چاند اپنے مدار سے صرف ایک ڈگری بھی ہٹ جائے تو زمین پر سمندر اپنے کناروں سے باہر آ جائیں، یا پھر مدو جزر کا نظام ختم ہو جائے، جس سے سمندری حیات تباہ ہو جائے۔
تیسری آیت میں ارشاد ہے: و النہار اذا جلیٰھا۔ یعنی قسم ہے دن کی جب وہ سورج کو روشن کر دیتا ہے۔ دن کا ظہور دراصل زمین کے اپنے محور پر گھومنے کا نتیجہ ہے۔ جب زمین کا ایک حصہ سورج کی طرف ہوتا ہے تو وہاں دن ہوتا ہے، اور دوسری طرف رات۔ دن کی خاصیت یہ ہے کہ یہ اشیاء کو واضح کر دیتا ہے، چھپے ہوئے رازوں کو کھول دیتا ہے۔ یہاں جلیٰھا کا لفظ تجلی (ظہور) سے آیا ہے، یعنی جس طرح سورج اپنی روشنی سے کائنات کو منور کرتا ہے، اسی طرح دن بھی اس روشنی کو مکمل کرتا ہے۔ فلکیاتی سمیٹری کے مطابق دن کی لمبائی اور رات کی لمبائی کا تناسب زمین کے اس جھکاؤ پر منحصر ہے جو 23.5 ڈگری ہے۔ اگر یہ جھکاؤ صرف ایک ڈگری بھی کم یا زیادہ ہو جائے تو زمین پر انتہائی درجہ حرارت کے علاقے بن جائیں، اور زندگی ممکن نہ رہے۔
چوتھی آیت میں ارشاد ہے: و الیل اذا یغشیٰھا۔ یعنی قسم ہے رات کی جب وہ سورج کو ڈھانک لیتی ہے۔ یغشیٰھا کا مطلب ہے ڈھانپنا، چھپا دینا، یا پردہ ڈال دینا۔ جب رات آتی ہے تو یہ سورج کی روشنی کو ہماری آنکھوں سے چھپا دیتی ہے، لیکن حقیقت میں سورج روشن ہے، رات صرف زمین کے اس حصے کو تاریک کر دیتی ہے۔ یہ تاریکی بھی ایک نعمت ہے کیونکہ اس میں مخلوقات آرام کرتی ہیں، انسان سوتے ہیں، اور پودوں میں بعض اہم کیمیائی عمل رات ہی میں مکمل ہوتے ہیں۔ رات کا یغشیٰھا کا عمل بھی ایک خاص سمیٹری کے تحت ہوتا ہے، کیونکہ جب ایک خطے پر رات چھاتی ہے تو دوسرے خطے پر دن ہوتا ہے۔ یہ توازن ہی کرہ ارض پر زندگی کو ممکن بناتا ہے۔
پانچویں آیت میں ارشاد ہے: و السماء و ما بنیٰھا۔ یعنی قسم ہے آسمان کی اور اس ذات کی جس نے اسے بنایا۔ یہاں آسمان سے مراد وہ فلکیاتی ڈھانچہ ہے جو ہمارے اوپر پھیلا ہوا ہے۔ اس میں ستارے، کہکشائیں، نیبولا، اور تاریک مادہ شامل ہے۔ جدید فلکیات ثابت کر چکی ہے کہ کائنات کی تمام تر ساخت ایک عظیم کائناتی جال کی مانند ہے، جہاں ہر شے ایک مخصوص سمیٹری کے تحت حرکت کر رہی ہے۔ نیوٹن سے لے کر آئن سٹائن تک تمام سائنسدانوں نے اس کائناتی نظام کی ترتیب کا اعتراف کیا ہے، اور قرآن نے چودہ سو سال پہلے اس ترتیب کو بنا (بنیٰھا) کے لفظ میں بیان کر دیا تھا۔
چھٹی آیت میں ارشاد ہے: و الارض و ما طحٰھا۔ یعنی قسم ہے زمین کی اور اس ذات کی جس نے اسے پھیلا دیا۔ طحٰھا کا مطلب ہے بچھانا، پھیلانا، یا فرش بچھا دینا۔ زمین کی سطح کو اس طرح پھیلایا گیا ہے کہ انسان اس پر چل سکے، کھیتی باڑی کر سکے، اور شہر آباد کر سکے۔ زمین کا اندرونی ڈھانچہ بھی ایک سمیٹری کے تحت ہے، جس میں کرسٹ، مینٹل، اور کور شامل ہیں۔ ان تمام تہوں کے درمیان درجہ حرارت اور دباؤ کا توازن نہایت عینک ٹھیک ہے۔ اگر یہ توازن بگڑ جائے تو زلزلے اور آتش فشاں پھوٹ پڑیں، جیسا کہ بعض مقامات پر ہوتا ہے، مگر عمومی نظام قائم ہے۔
ان چھے قسموں کے بعد سورۃ الشمس ساتویں آیت پر آتی ہے: و نفس و ما سوّٰھا۔ یعنی قسم ہے نفس کی اور اس ذات کی جس نے اسے درست بنایا۔ یہاں سورہ کا مرکزی نقطہ آ جاتا ہے۔ جس طرح سورج، چاند، دن، رات، آسمان اور زمین اپنے اپنے توازن پر قائم ہیں، اسی طرح انسان کا نفس بھی ایک خاص توازن پر تخلیق کیا گیا ہے۔ سوّٰھا کا لفظ تسویہ سے ہے، جس کا مطلب ہے ہموار کرنا، برابر کرنا، یا متناسب بنانا۔ جس طرح ایک ماہر معمار عمارت کی تمام جہتوں کو ایک خاص تناسب میں رکھتا ہے، اسی طرح انسان کے اندر جذبات اور عقل، نفس اور روح، مادہ اور معنی کو ایک عجیب تناسب میں رکھا گیا ہے۔
نیورولوجیکل توازن: انسانی دماغ کی دوہری ساخت: انسانی دماغ کو دو بڑے نصف کرہوں (ہیمسفیرز) میں تقسیم کیا گیا ہے: بایاں نصف کرہ اور دایاں نصف کرہ۔ بایاں نصف کرہ عام طور پر منطق، تجزیہ، زبان، حساب کتاب، اور ترتیب و تسلسل کے لیے ذمہ دار ہوتا ہے۔ اسے ہم عقل کا مرکز کہہ سکتے ہیں۔ دایاں نصف کرہ جذبات، تخیل، موسیقی، فن، روحانیت، اور بے ساختہ ادراک کے لیے ذمہ دار ہوتا ہے۔ اسے ہم قلب یا روح کا مرکز کہہ سکتے ہیں۔ ان دونوں نصف کرہوں کے درمیان ایک موٹا ریشوں کا پل ہوتا ہے جسے کارپس کالوسم کہتے ہیں۔ یہ ریشے ان دونوں نصف کرہوں کے درمیان مسلسل معلومات کا تبادلہ کرتے رہتے ہیں۔ جب یہ تبادلہ صحیح طریقے سے ہوتا ہے تو انسان ایک متوازن شخصیت کا مالک ہوتا ہے، وہ منطقی بھی ہوتا ہے اور جذباتی بھی، وہ سخت بھی ہو سکتا ہے اور نرم بھی۔ لیکن جب یہ توازن بگڑ جاتا ہے، مثلاً اگر بایاں نصف کرہ بہت زیادہ غالب آ جائے تو انسان انتہائی خشک، بے رحم، اور مشینی ہو جاتا ہے، وہ صرف حساب کتاب کرتا ہے، جذبات کو دباتا ہے، اور دوسروں کے دکھ کو نہیں سمجھ پاتا۔ اس کے برعکس اگر دایاں نصف کرہ بہت زیادہ غالب ہو جائے تو انسان انتہائی جذباتی، بے راہ روی کا شکار، غیر منطقی، اور کبھی کبھی نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا ہو سکتا ہے۔
سورۃ الشمس کی آٹھویں آیت میں ارشاد ہے: فاَلھَمَھا فُجُورَھا وَ تَقْوٰیھا۔ یعنی پھر اسے اس کی بدکاری اور پرہیزگاری کی سمجھ بوجھ دے دی۔ یہ آیت جدید نیورولوجی کی روشنی میں انتہائی اہم ہے۔ فجور کا مطلب ہے سرکشی، گناہ، حد سے تجاوز کرنا، جبکہ تقویٰ کا مطلب ہے پرہیزگاری، ضبط نفس، اور حدود کا احترام کرنا۔ قرآن کہتا ہے کہ یہ دونوں صفات نفس میں الہام (ڈال دی گئی) ہیں۔ یعنی انسان کے دماغ میں نیورولوجیکل سطح پر پہلے سے ہی دونوں راستے موجود ہیں۔ ایک راستہ وہ جو بدی کی طرف لے جاتا ہے، اور دوسرا راستہ وہ جو بھلائی کی طرف لے جاتا ہے۔
جدید نیورو سائنس میں یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ انسانی دماغ کے فرنٹل لوب میں ایک علاقہ ہوتا ہے جسے پری فرنٹل کورٹیکس کہتے ہیں۔ یہ علاقہ اخلاقی فیصلے کرنے کے لیے ذمہ دار ہوتا ہے۔ جب انسان کسی مشکل اخلاقی انتخاب کا سامنا کرتا ہے تو اس علاقے میں نیورونز بہت تیزی سے فائر کرنے لگتے ہیں۔ دوسری طرف دماغ کا لمبک نظام (لِمبک سِسٹم) جذبات اور خواہشات کو کنٹرول کرتا ہے۔ ان دونوں نظاموں کے درمیان توازن ہی ہے جو انسان کو بدی اور بھلائی میں سے انتخاب کرنے کی طاقت دیتا ہے۔ یہ وہی ہے جسے قرآن نے الہام کہا ہے۔ الہام کا مطلب یہ نہیں کہ انسان پر زبردستی نیکی یا بدی ڈال دی جائے، بلکہ یہ کہ انسان کو وہ بنیادی صلاحیت دے دی گئی ہے کہ وہ خود ان دونوں میں تمیز کر سکے۔ جیسے ایک بچہ پیدا ہوتے ہی اسے دودھ پینے کی صلاحیت دی جاتی ہے، لیکن دودھ پینا اسے سکھانا نہیں پڑتا، اسی طرح انسان کو نیک و بد کی پہچان کی صلاحیت بطور فطری عطا کر دی گئی ہے۔
سورۃ الشمس کی نویں اور دسویں آیات: کامیابی اور ناکامی کا معیار:نویں آیت میں ارشاد ہے: قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا۔ یعنی بے شک وہ کامیاب ہوا جس نے اسے پاک کر لیا۔ اور دسویں آیت میں ارشاد ہے: وَ قَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰىهَا۔ یعنی اور بے شک وہ ناکام ہوا جس نے اسے مٹی میں دبا دیا۔ یہاں تزکیہ اور تدسیہ کے الفاظ آتے ہیں۔ تزکیہ کا مطلب ہے نفس کو اس کی آلائشوں سے صاف کرنا، اسے اس کی اصل فطرت پر واپس لانا۔ تدسیہ کا مطلب ہے نفس کو دبانا، اس کی صلاحیتوں کو دفن کر دینا، اور اسے نیچے کی طرف لے جانا۔نیورولوجیکل سطح پر تزکیہ کا مطلب ہے دماغ کے ان راستوں کو مضبوط کرنا جو تقویٰ (پرہیزگاری) کی طرف لے جاتے ہیں، اور ان راستوں کو کمزور کرنا جو فجور (بدکاری) کی طرف لے جاتے ہیں۔ دماغ میں نیوروپلاسٹیٹی کا اصول کہتا ہے کہ جتنی بار ہم کسی خاص عمل کو دہراتے ہیں، اس عمل سے وابستہ نیورونل راستے اتنے ہی مضبوط ہوتے جاتے ہیں۔ اگر کوئی شخص روزانہ جھوٹ بولتا ہے تو اس کا دماغ جھوٹ بولنے کے راستے کو مضبوط کر لیتا ہے، اور پھر سچ بولنا اس کے لیے مشکل ہو جاتا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص روزانہ نماز پڑھتا ہے، صدقہ کرتا ہے، اور لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہے تو اس کے دماغ میں ہمدردی، شفقت، اور انصاف کے نیورونل راستے مضبوط ہو جاتے ہیں۔ یہی تزکیہ ہے۔تدسیہ اس کے برعکس ہے۔ جب انسان اپنی بری عادات کو دہراتا ہے تو وہ اپنے نفس کی پاکیزہ صلاحیتوں کو دفن کر دیتا ہے۔ جیسے ایک باغبان اپنے باغ میں پانی دینا چھوڑ دے تو پودے مرجھا جاتے ہیں، اور ان کی جگہ جڑی بوٹیاں اگ آتی ہیں۔ اسی طرح اگر انسان اپنے نفس کی تربیت نہیں کرتا تو اس کے اندر کا فجور (بدی) بڑھتا جاتا ہے اور تقویٰ کمزور ہوتا جاتا ہے۔
سورۃ الشمس میں قوم ثمود کا واقعہ ایک تاریخی مثال کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ قوم ثمود کو اللہ نے ایک نشانی کے طور پر ایک اونٹنی بھیجی تھی، اور انہیں سختی سے تاکید کی گئی تھی کہ وہ اسے پانی پینے سے نہ روکیں اور نہ اسے کوئی ایذا پہنچائیں۔ مگر ان لوگوں نے اپنی عقل کو برائی کی طرف مڑوا لیا۔ انہوں نے اونٹنی کو ذبح کر ڈالا۔ اس کے بعد اللہ کا عذاب آیا اور وہ سب تباہ ہو گئے۔ اس واقعے کا نیورولوجیکل تجزیہ یہ ہے کہ قوم ثمود نے اپنے پری فرنٹل کورٹیکس (جو اخلاقی فیصلے کرتا ہے) کو اپنے لمبک نظام (جو خواہشات کو کنٹرول کرتا ہے) کے تابع کر دیا تھا۔ انہوں نے دیکھا کہ اونٹنی ان کے پانی کے ذخیرے میں سے پانی پی رہی ہے تو ان کے اندر کا فجور ابھرا، اور انہوں نے اپنی خواہش کی پیروی کی یہاں تک کہ وہ ایک واضح الٰہی حکم کی خلاف ورزی کر بیٹھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ان کا شعور بے حس ہو گیا، اور وہ تباہ ہو گئے۔
انسان میں کائناتی سمیٹری کا عکس:جس طرح فلکیاتی نظام میں تمام اجسام اپنے اپنے مدار میں گردش کر رہے ہیں، اسی طرح انسان کا شعور بھی اپنے اخلاقی مدار میں گردش کرتا ہے۔ سورج کو اگر اپنے مدار سے ذرا سا بھی ہٹا دیا جائے تو پوری کائنات تباہ ہو جائے گی۔ اسی طرح اگر انسان کے اخلاقی اصولوں کو ان کے مرکز سے ہٹا دیا جائے تو اس کی شخصیت تباہ ہو جاتی ہے۔ سورج کی روشنی میں تضاد نہیں ہوتا، بلکہ وہ مسلسل یکساں طور پر پھیلتی رہتی ہے۔ اسی طرح انسان کی نیکی بھی اس کے اندر سے یکساں طور پر پھیلنی چاہیے، نہ کہ کبھی ظاہر اور کبھی چھپی ہوئی۔چاند کا سورج کے پیچھے چلنا اس بات کی علامت ہے کہ انسان کی اپنی روشنی (اس کی ذاتی خوبیاں) دراصل اس کے خالق کی روشنی کا عکس ہیں۔ انسان اپنی ذات سے کچھ نہیں رکھتا، جو کچھ بھی ہے وہ اللہ کا دیا ہوا ہے۔ اگر انسان یہ بھول جائے اور اپنے آپ کو خود مختار سمجھنے لگے تو اس کا شعور تاریک ہو جاتا ہے، جس طرح چاند سورج سے دور جا کر اندھیرے میں چھپ جاتا ہے۔دن اور رات کا یکے بعد دیگرے آنا انسان کی زندگی کی دو حالتوں کی یاد دلاتا ہے: دن اس کی عقل کی روشنی کی علامت ہے جب وہ جاگتا ہے اور دنیاوی معاملات کرتا ہے، اور رات اس کی روح کی تاریکی کی علامت ہے جب وہ اپنے آپ میں کھو جاتا ہے اور اپنے رب کو یاد کرتا ہے۔ جس طرح دن اور رات دونوں ضروری ہیں، اسی طرح انسان کی عقل اور اس کی روح دونوں ضروری ہیں۔ صرف عقل پر چلنے والا شخص خشک اور بے روح ہو جاتا ہے، اور صرف جذبات پر چلنے والا شخص بے راہ رو ہو جاتا ہے۔آسمان اور زمین کا پھیلاؤ انسان کو اس کے وجود کی وسعت کی یاد دلاتا ہے۔ انسان کا جسم اگرچہ چند فٹ کا ہے، لیکن اس کا شعور اور اس کی روح کائنات کی وسعتوں میں پھیلی ہوئی ہے۔ جب انسان اپنے نفس کو پاک کرتا ہے تو وہ ان وسعتوں کو محسوس کرنے لگتا ہے، اور جب وہ اپنے نفس کو دباتا ہے تو وہ اپنی ہی خواہشات کی قید میں تنگ ہو جاتا ہے۔
جدید نیورو سائنس اور سورۃ الشمس کی آیات کے درمیان تطبیق:جدید نیورو سائنس نے حالیہ دہائیوں میں دماغ کے اندر جذبات اور خواہشات کے مراکز کو نقشہ بند کیا ہے۔ امیگڈالا (Amygdala) وہ علاقہ ہے جو خوف، غصہ، اور جارحیت جیسے جذبات کو کنٹرول کرتا ہے۔ یہی فجور کا ممکنہ مرکز ہے۔ نیوکلئس اکمبنس (Nucleus Accumbens) وہ علاقہ ہے جو خوشی، لذت، اور انعام کے احساس کو کنٹرول کرتا ہے۔ یہ بھی فجور کی طرف لے جا سکتا ہے اگر اس پر قابو نہ رکھا جائے، جیسے نشہ آور اشیاء کا عادی انسان اسی علاقے کی زیادہ تحریک کا شکار ہوتا ہے۔ دوسری طرف وینٹرومیڈیئل پری فرنٹل کورٹیکس (Ventromedial Prefrontal Cortex) وہ علاقہ ہے جو ہمدردی، شرم، اور احساسِ جرم کو کنٹرول کرتا ہے۔ یہ تقویٰ کا مرکز ہے۔ جب انسان کوئی غلط کام کرتا ہے تو یہ علاقہ فعال ہو کر اسے روکنے کی کوشش کرتا ہے۔
سورۃ الشمس کا الہام فجورھا و تقویٰھا کا تصور بالکل اسی نیورو سائنسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ انسان کے دماغ میں پہلے سے ہی دونوں ممکنہ راستے موجود ہیں، اور انسان کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ ان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرے۔ یہ انتخاب کا عمل ہی ہے جو انسان کو فرشتوں سے کمتر اور حیوانوں سے اعلیٰ درجہ دیتا ہے۔ فرشتوں کے پاس کوئی فجور کا راستہ ہی نہیں، اس لیے ان کی اطاعت بے اختیار ہے۔ حیوانوں کے پاس تقویٰ کا راستہ نہیں، اس لیے وہ اپنی خواہشات کے علاوہ کچھ نہیں جانتے۔ انسان دونوں کے درمیان ہے، اسی لیے اس کی آزمائش ہے۔
تزکیہ نفس کا نیورو سائنسی عمل: جب انسان تزکیہ نفس کرتا ہے، یعنی اپنے نفس کو پاک کرتا ہے، تو اس کے دماغ میں اہم نیورو کیمیکل تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ باقاعدگی سے مراقبہ، نماز، اور ذکر الٰہی کرنے سے پری فرنٹل کورٹیکس کی موٹائی بڑھ جاتی ہے۔ یہ نیوروپلاسٹیٹی کی سب سے بڑی مثال ہے۔ اسی طرح جو لوگ زیادہ صدقہ کرتے ہیں اور دوسروں کی مدد کرتے ہیں، ان کے دماغ میں آکسیٹوسن (Oxytocin) نامی ہارمون کی مقدار بڑھ جاتی ہے، جسے محبت اور بھروسے کا ہارمون بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ہارمون انسان کو مزید پر سکون اور مطمئن کرتا ہے۔اس کے برعکس جو لوگ غصہ، حسد، اور بغض میں مبتلا رہتے ہیں، ان کے دماغ میں کارٹیسول (Cortisol) نامی تناؤ کا ہارمون بڑھ جاتا ہے، جو ان کی صحت کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔ وہ لوگ جھوٹ بولنے کے عادی ہوتے ہیں تو ان کے دماغ میں امیگڈالا بہت زیادہ حساس ہو جاتا ہے، اور وہ ہر معمولی بات پر خوفزدہ یا غصہ کرنے لگتے ہیں۔ یہ سب تدسیہ (نفس کو دبانے) کے نتائج ہیں۔سورۃ الشمس کا یہ اعلان کہ قد افلح من زکٰیھا محض ایک اخلاقی نصیحت نہیں، بلکہ ایک سائنسی حقیقت ہے کہ جو لوگ اپنے نفس کی تربیت کرتے ہیں، وہ ذہنی اور جسمانی طور پر بھی زیادہ صحت مند اور کامیاب ہوتے ہیں۔ جدید تحقیق میں یہ ثابت ہو چکا ہے کہ نماز اور روزے جیسی عبادات بلڈ پریشر کو کنٹرول کرتی ہیں، تناؤ کو کم کرتی ہیں، اور دماغ میں ڈوپامائن (Dopamine) کی مناسب سطح برقرار رکھتی ہیں، جس سے انسان خوش رہتا ہے۔
قوم ثمود کے واقعے سے عبرت: سورۃ الشمس کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے قوم ثمود کا واقعہ بیان کر کے انسان کو تنبیہ کی ہے کہ وہ اس توازن کو نہ توڑے۔ قوم ثمود کو بہت سی نشانیاں دی گئی تھیں، مگر انہوں نے اپنی عقل کو ان نشانیوں سے منہ موڑنے پر مجبور کر لیا۔ وہ ایک ایسی قوم تھی جو پتھروں کو تراش کر عظیم الشان مکانات بناتی تھی، یعنی وہ ہنر اور علم میں بہت آگے تھی۔ مگر اس علم نے انہیں گھمنڈ میں مبتلا کر دیا، اور جب ان کے پاس اللہ کا نبی صالح علیہ السلام آیا تو انہوں نے اسے جھٹلایا۔ اونٹنی کا واقعہ ایک آخری امتحان تھا۔ جب انہوں نے اونٹنی کو ذبح کیا تو انہوں نے اپنی تباہی پر دستخط کر دیے۔
اس واقعے کا نیورولوجیکل تجزیہ یہ ہے کہ قوم ثمود نے اپنے دماغ کے پری فرنٹل کورٹیکس (جو انصاف اور حق کو پہچانتا ہے) کو غیر فعال کر دیا تھا، اور اس کی جگہ پریمیٹر موٹر کارٹیکس (جو عمل کو کنٹرول کرتا ہے) بہت غالب آ گیا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ یہ اونٹنی اللہ کی طرف سے ایک نشانی ہے، مگر ان کی خواہش اور بغاوت نے انہیں اسے قتل کرنے پر مجبور کر دیا۔ ان کی سمجھ (ادراک) اور ان کے عمل (ایکشن) کے درمیان توازن ختم ہو گیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان پر عذاب آیا۔یہ واقعہ انسانی تاریخ میں ایک یاد دہانی ہے کہ جس قوم نے اپنے شعور کے توازن کو تباہ کیا، وہ صفحہ ہستی سے مٹ گئی۔ آج کی دنیا میں بھی جب انسان اپنی عقل کو صرف مادی مفادات کے لیے استعمال کرتا ہے، جب وہ روحانی پہلو کو نظر انداز کر دیتا ہے، تو وہ بھی اسی قسم کی تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ماحولیاتی آلودگی، جنگیں، ذہنی امراض، اور سماجی بگاڑ سب اس بات کی علامت ہیں کہ انسان نے اپنے نفس کی تدسیہ کر لی ہے۔
توازن ہی کامیابی کی کنجی ہے۔سورۃ الشمس ایک مختصر مگر جامع سورہ ہے جو انسان کو ایک عظیم حقیقت سے آگاہ کرتی ہے: کائنات میں ہر شے ایک خاص توازن پر قائم ہے، اور انسان کا شعور بھی اسی کائناتی قانون کا ایک چھوٹا سا نمونہ ہے۔ سورج اپنی جگہ سے نہیں ہٹتا، چاند اپنے مدار سے نہیں بھٹکتا، دن اور رات اپنی مقررہ مدت پر آتے جاتے ہیں، آسمان اپنی بلندیوں پر قائم ہے، زمین اپنے پھیلاؤ میں مضبوط ہے۔ اسی طرح انسان کے نفس میں بھی بدی اور بھلائی، فجور اور تقویٰ، سرکشی اور اطاعت کا ایک فطری توازن رکھ دیا گیا ہے۔ انسان کا کام یہ ہے کہ وہ اس توازن کو برقرار رکھے، اپنے نفس کو آلائشوں سے پاک کرے، اور اپنے شعور کو اس کی اصل فطرت پر واپس لے جائے۔جدید نیورو سائنس اور فلکیات نے چودہ سو سال بعد ان حقائق کو دریافت کیا ہے، جبکہ قرآن نے انہیں بڑی واضح اور سادہ زبان میں بیان کر دیا تھا۔ یہ قرآن کی الہی ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ اس کے بیانات سائنسی حقائق سے کبھی متصادم نہیں ہوئے، بلکہ ہمیشہ ان کی تصدیق ہوتی ہے۔
