ایران کے امریکی اہداف پر حملے، میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی

تہران: ایران نے منگل کو امریکی افواج کی جانب سے ایران پر دوبارہ حملے شروع کیے جانے کے بعد امریکی اہداف پر حملے کرتے ہوئے اردن، کویت، عراق اور بحرین میں میزائل اور ڈرون داغ دیے۔

ایرانی حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے، جبکہ مختلف ممالک میں فضائی دفاعی نظام کو فعال کردیا گیا۔ ایران اور امریکا کے درمیان تازہ فوجی کشیدگی نے مشرق وسطیٰ میں ایک وسیع تر تنازع کے خدشات بھی بڑھا دیے ہیں۔

ایرانی ہلال احمر کے مطابق جنوبی ایران کے شہر سیریک میں ایک شادی کی تقریب کے دوران ایک گھر پر امریکی میزائل حملے کے ملبے سے پانچ افراد جاں بحق ہوئے، جن میں ایک بچہ بھی شامل ہے، جبکہ 50 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔

امریکی فوج نے واقعے سے متعلق رپورٹس سے آگاہ ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس نے شہریوں کو کبھی نشانہ نہیں بنایا۔

ایران کے امریکی اہداف پر حملے کے بعد اردن میں امریکی فوجی تنصیبات کے قریب بیلسٹک میزائل داغے گئے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے کہا کہ ایران پر امریکی حملے خطے میں ایرانی پاسداران انقلاب (IRGC) کی جانب سے حالیہ مبینہ حملوں کے بعد کیے گئے، جن میں آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی اور خطے میں موجود امریکی افواج کو نشانہ بنانے کی کوششیں شامل تھیں۔

ایران کے پاسداران انقلاب نے امریکی حملوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا کہ امریکا کو ان کارروائیوں پر پچھتاوا ہوگا۔

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق بدھ کی صبح IRGC نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اردن کے عقبہ میں امریکی میرین بیس پر بیلسٹک میزائلوں کی ایک بڑی تعداد داغی۔

اردن کی مسلح افواج نے بتایا کہ اس نے 13 بیلسٹک میزائلوں کو روک لیا، جن میں سے 10 کو تباہ کردیا گیا جبکہ تین میزائل دور دراز علاقوں میں گرے۔

حکام کے مطابق میزائل حملے میں کوئی ہلاکت یا زخمی نہیں ہوا۔

ایران کے امریکی اہداف پر حملے صرف اردن تک محدود نہیں رہے بلکہ کویت اور بحرین میں بھی ایرانی میزائل حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔

کویت کی فوج نے بدھ کی صبح بتایا کہ اس کا فضائی دفاعی نظام ایرانی میزائل حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے کارروائی کررہا ہے۔

دوسری جانب ایرانی سرکاری میڈیا نے بحرین میں متعدد دھماکوں کی اطلاعات بھی نشر کیں، تاہم فوری طور پر ان واقعات میں جانی یا مالی نقصان کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آسکیں۔

ایران کی جانب سے خطے میں امریکی اہداف کے خلاف کارروائیوں نے پہلے سے کشیدہ صورتحال کو مزید سنگین کردیا ہے۔

امریکی اور ایرانی افواج کے درمیان براہ راست حملوں کے ساتھ ساتھ اردن، کویت، عراق اور بحرین جیسے ممالک میں موجود امریکی تنصیبات بھی ممکنہ طور پر علاقائی کشیدگی سے متاثر ہوسکتی ہیں۔

آبنائے ہرمز کی کشیدگی سے خطے میں خطرات بڑھ گئے

امریکا اور ایران کے درمیان تازہ کشیدگی میں آبنائے ہرمز کو بھی اہم حیثیت حاصل ہے، کیونکہ یہ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے خلاف کارروائیوں کو خطے میں امریکی افواج اور تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات سے جوڑا ہے، جبکہ ایران نے امریکی حملوں کو جارحیت قرار دیتے ہوئے جوابی کارروائی کی ہے۔

ایرانی حملوں کے بعد خطے کے مختلف ممالک نے اپنے فضائی دفاع کو مزید متحرک کردیا ہے، جبکہ امریکی تنصیبات اور فوجیوں کی سکیورٹی بھی اہم مسئلہ بن گئی ہے۔

تازہ صورتحال میں ایران کے امریکی اہداف پر حملے نے مشرق وسطیٰ میں ایک نئے فوجی محاذ کے خدشات پیدا کردیئے ہیں۔ اگر امریکا اور ایران کے درمیان جوابی کارروائیاں جاری رہیں تو اس کے اثرات خطے کی سلامتی، تجارتی راستوں اور عالمی توانائی کی منڈیوں تک پھیل سکتے ہیں۔