برمنگھم: انگلینڈ کے خلاف جاری ٹیسٹ سیریز میں پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ میں بڑی تبدیلیاں سابق کھلاڑیوں، کوچز اور کرکٹ مبصرین کی شدید تنقید کی زد میں آگئی ہیں۔
پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) نے ابتدائی دو ٹیسٹ میچز میں بھاری شکستوں کے بعد 7 کھلاڑیوں اور کوچنگ اسٹاف کے 2 ارکان کو ٹیم سے الگ کردیا ہے۔
پاکستان پہلے ٹیسٹ میں ایک اننگز اور 103 رنز سے شکست کھا گیا، جبکہ دوسرے ٹیسٹ میں انگلینڈ نے 194 رنز سے کامیابی حاصل کرکے تین میچز کی سیریز میں 2-0 کی فیصلہ کن برتری حاصل کرلی۔
اب پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ میں بڑی تبدیلیاں تیسرے اور آخری ٹیسٹ سے قبل کی گئی ہیں، جو 9 ستمبر کو برمنگھم کے ایجبسٹن کرکٹ گراؤنڈ میں شروع ہوگا۔
پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ میں بڑی تبدیلیاں، کوچز بھی فارغ
پاکستان کرکٹ بورڈ نے آخری ٹیسٹ سے قبل ٹیم اور کوچنگ سیٹ اپ میں نمایاں تبدیلیاں کی ہیں۔
ہیڈ کوچ سرفراز احمد اور بولنگ کوچ عمر گل کو ذمہ داریوں سے فارغ کردیا گیا ہے۔
آخری ٹیسٹ کے لیے مائیک ہیسن اور ایشلے نوفکے کوچنگ کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے تیار ہیں۔
اس کے علاوہ اسکواڈ میں شامل 7 کھلاڑیوں کو بھی تبدیل کردیا گیا ہے، جس کے باعث پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ میں بڑی تبدیلیاں ملکی کرکٹ میں بحث کا اہم موضوع بن گئی ہیں۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے اس فیصلے پر سابق کھلاڑیوں اور کرکٹ ماہرین نے سوالات اٹھائے ہیں کہ جاری سیریز کے دوران اتنی بڑی تبدیلیاں ٹیم کی کارکردگی پر کس طرح اثر انداز ہوں گی۔
مکی آرتھر کی پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ میں بڑی تبدیلیوں پر تنقید
سابق پاکستان ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ میں بڑی تبدیلیاں کرنے کے فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
مکی آرتھر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر لکھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے کھلاڑیوں، کوچز اور سلیکٹرز کو مسلسل تبدیل کرنا قومی ٹیم کے لیے نقصان دہ ہے۔
ان کے مطابق ٹیم کی موجودہ مشکلات کی ایک بڑی وجہ یہی عدم استحکام ہے، کیونکہ کھلاڑیوں، کوچز اور سلیکٹرز میں بار بار تبدیلی سے ٹیم کو مستقل مزاجی پیدا کرنے کا موقع نہیں ملتا۔
آرتھر کی تنقید نے پاکستان کرکٹ میں طویل مدتی منصوبہ بندی، ٹیم سلیکشن اور کوچنگ پالیسی پر ایک بار پھر بحث چھیڑ دی ہے۔
انگلینڈ کے خلاف آخری ٹیسٹ میں پاکستان پر دباؤ
پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ میں بڑی تبدیلیاں ایسے وقت میں کی گئی ہیں جب انگلینڈ تین میچز کی سیریز میں 2-0 کی فیصلہ کن برتری حاصل کرچکا ہے۔
پاکستان اب 9 ستمبر سے ایجبسٹن میں شروع ہونے والے تیسرے ٹیسٹ میں سیریز کا آخری میچ جیت کر وائٹ واش سے بچنے کی کوشش کرے گا۔
نئے کوچنگ اسٹاف اور تبدیل شدہ اسکواڈ کے پاس تیاری کے لیے محدود وقت ہوگا، جس کے باعث تیسرے ٹیسٹ میں ٹیم کی کارکردگی خاصی اہمیت اختیار کرگئی ہے۔
پاکستان کو پہلے دو ٹیسٹ میچز میں بھاری شکستوں کے بعد اپنی بیٹنگ، بولنگ اور مجموعی ٹیم حکمت عملی میں بہتری لانا ہوگی۔
اگرچہ PCB کو امید ہوگی کہ پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ میں بڑی تبدیلیاں ٹیم کو فوری طور پر بہتر نتائج دلانے میں مدد دیں گی، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ بار بار کی تبدیلیاں قومی ٹیم کے لیے مستقل مزاجی پیدا کرنے میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔
ایجبسٹن ٹیسٹ اس بات کا اہم امتحان ہوگا کہ آیا نئی تبدیلیاں پاکستان کو فوری کامیابی دلا سکتی ہیں یا ٹیم کے مسائل حل کرنے کے لیے طویل مدتی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔


