ایران جنگ کے باعث امریکی طیارہ بردار بحری جہاز پر حالات سنگین، طویل تعیناتی سے عملہ شدید دباؤ کا شکار

واشنگٹن: ایران جنگ کے طویل ہونے کے باعث امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن پر حالات مشکل ہوتے جا رہے ہیں، جہاں طویل تعیناتی، بنیادی اشیائے ضروریہ کی کمی، صفائی کے مسائل اور عملے پر بڑھتے ذہنی دباؤ نے تشویش پیدا کردی ہے۔

یو ایس ایس ابراہم لنکن اب اپنی نویں ماہ کی تعیناتی میں داخل ہوچکا ہے اور اسے مشرق وسطیٰ میں ایک اور امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جارج واشنگٹن سے تبدیل کیے جانے کی توقع ہے۔ ممکنہ تبدیلی سے لنکن کے عملے اور ان کے اہل خانہ کو ریلیف ملنے کی امید ہے، کیونکہ جہاز کے اہلکار کئی ماہ سے مسلسل سمندر میں موجود ہیں۔

جہاز پر حالات سے متعلق رپورٹس کے بعد امریکی قانون سازوں نے امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ سے بھی وضاحت طلب کی ہے۔ تاہم ہیگستھ نے جہاز پر حالات سے متعلق بعض رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ صورتحال کو درست انداز میں پیش نہیں کیا گیا۔

سینٹر فار نیول اینالیسس کے چیف ریسرچ آفیسر جوناتھن شروڈن کے مطابق طویل عرصے تک سمندر میں رہنا فوجی اہلکاروں کے لیے جسمانی اور ذہنی طور پر انتہائی مشکل ہوسکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عام حالات میں بھی طیارہ بردار جہاز پر رہائش محدود، کام کے اوقات طویل، خوراک ہمیشہ معیاری نہیں ہوتی اور تازہ ہوا، ورزش اور مناسب نیند کے مواقع محدود ہوتے ہیں۔

شروڈن کے مطابق جب ان حالات کے ساتھ جنگی کارروائیوں کا دباؤ اور مسلسل خطرہ شامل ہوجائے تو عملے کے لیے صورتحال مزید مشکل ہوجاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی طیارہ بردار بحری جہازوں کی تعیناتی عام طور پر تقریباً چھ ماہ کے لیے رکھی جاتی ہے، جس کی ایک اہم وجہ عملے کی فلاح و بہبود بھی ہے۔

یو ایس ایس ابراہم لنکن نے نومبر 2025 میں کیلیفورنیا سے جنوبی بحیرہ چین میں تعیناتی کے لیے سفر شروع کیا تھا، تاہم بعد میں اسے مشرق وسطیٰ کی جانب روانہ کردیا گیا۔ یہ تبدیلی ایران کے خلاف فروری کے آخر میں شروع ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں سے قبل کی گئی۔

ماہرین کے مطابق معمول سے زیادہ طویل تعیناتی نہ صرف فوجی اہلکاروں کی صحت اور ذہنی کیفیت کو متاثر کرسکتی ہے بلکہ امریکی بحریہ کے لیے بھی اضافی مشکلات پیدا کرتی ہے۔ طویل تعیناتی کے نتیجے میں بحری جہازوں کی دیکھ بھال کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں، مرمت کے لیے دستیاب وقت کم ہوسکتا ہے اور مستقبل کی آپریشنل تیاری متاثر ہوسکتی ہے۔

تاہم سب سے زیادہ تشویش ان رپورٹس پر ظاہر کی جارہی ہے جن میں جہاز پر خودکشی کی کوششوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ نیوی ٹائمز کے مطابق رواں ہفتے دو اہلکاروں نے مبینہ طور پر جہاز سے سمندر میں چھلانگ لگانے کی کوشش کی۔

ان رپورٹس نے طویل جنگی تعیناتیوں کے دوران امریکی فوجی اہلکاروں کی ذہنی صحت اور فلاح و بہبود کے حوالے سے نئی تشویش پیدا کردی ہے۔ مسلسل جنگی دباؤ، محدود جگہ، طویل اوقات کار اور کئی ماہ تک گھر سے دور رہنا اہلکاروں کے لیے شدید چیلنج بن سکتا ہے۔

یو ایس ایس جارج واشنگٹن کی جانب سے ابراہم لنکن کی جگہ لینے کی متوقع پیش رفت کو جہاز کے عملے اور ان کے اہل خانہ کی جانب سے ریلیف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم طویل تعیناتی سے پیدا ہونے والے عملے کی فلاح، بحری جہاز کی دیکھ بھال اور فوجی تیاری کے مسائل امریکی بحریہ کے لیے بدستور ایک اہم چیلنج رہیں گے۔

Latest Posts