امریکہ کو بڑا جھٹکا: نیدرلینڈز کے 86 ٹن سونے کی منتقلی اور عالمی ڈی ڈالرائزیشن کی نئی لہر

میاں افتخار احمد

دو ستمبر دو ہزار چھبیس کو ڈچ مرکزی بینک نے ایک ایسا اعلان کیا جس نے عالمی مالیاتی حلقوں میں ہلچل مچا دی، نیدرلینڈز کے مرکزی بینک ڈی این بی نے مارچ سے اگست دو ہزار چھبیس کے دوران اپنے کل 612.4 ٹن سونے کے ذخائر میں سے تقریباً 86 ٹن سونا نیویارک اور اوٹاوا سے نکال کر لندن منتقل کر دیا۔ اس منتقلی کی مالیت تقریباً 120 بلین ڈالر بنتی ہے اور ڈچ مرکزی بینک کے گورنر اولاف سلائیپن نے اس کی وجہ بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی بے چینی کو قرار دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس منتقلی کا مقصد سونے کی تجارتی صلاحیت کو بہتر بنانا ہے کیونکہ لندن میں رکھا سونا دنیا کا سب سے زیادہ قابلِ تجارت سونا مانا جاتا ہے اور بحران کی صورت میں دوسرے براعظم میں رکھے سونے کے مقابلے میں فوری طور پر قابلِ استعمال ہوتا ہے۔ ڈی این بی نے بتایا کہ انہوں نے صرف 27 ٹن سونا فزیکلی منتقل کیا جبکہ باقی ماندہ سونا امریکہ میں بیچ کر لندن سے خریدا گیا، فرانس نے بھی اسی حکمت عملی کو اپنایا تھا اور اس سے تقریباً 11 بلین یورو کا منافع کمایا تھا۔ اس منتقلی کے بعد ڈچ سنٹرل بینک کے سونے میں نیویارک کا حصہ 31.3 فیصد سے کم ہو کر 18.5 فیصد رہ گیا جبکہ لندن کا حصہ 18.1 فیصد سے بڑھ کر 32.1 فیصد ہو گیا جو اب ڈچ ریزرو کا سب سے بڑا حصہ ہے۔

نیدرلینڈز کا یہ اقدام کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں بلکہ عالمی سطح پر جاری ایک بڑے رجحان کا تازہ ترین باب ہے جسے ماہرین اقتصادیات گولڈ ریپیٹری ایشن یعنی سونے کی وطن واپسی کا نام دیتے ہیں۔ یہ رجحان دو ہزار تیرہ میں جرمنی کی اس وقت کے امریکی صدر باراک اوباما کی انتظامیہ پر بھروسہ کم ہونے کی وجہ سے اٹھائی گئی تحریک سے شروع ہوا تھا اور دو ہزار بائیس میں یوکرین جنگ کے بعد اس میں تیزی آگئی۔ جرمنی نے دو ہزار تیرہ سے دو ہزار سترہ کے دوران نیویارک اور پیرس سے 674 ٹن سونا واپس فرینکفرٹ منتقل کیا تاہم جرمنی کا 1236 ٹن سونا اب بھی نیویارک میں محفوظ ہے جو اس کے کل ذخائر کا 37 فیصد بنتا ہے اور جرمن سیاست دانوں کی جانب سے اسے بھی واپس لانے کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔ فرانس نے جولائی دو ہزار پچیس سے جنوری دو ہزار چھبیس کے دوران نیویارک فیڈرل ریزرو سے اپنا آخری 129 ٹن سونا نکال کر پیرس منتقل کر دیا اور اس طرح فرانس کا تمام 2437 ٹن سونا اب ملک کے اندر محفوظ ہے۔ اس منتقلی کے دوران فرانس نے نیویارک میں پرانے معیار کی سلاخیں بیچ کر یورپ میں نئے معیار کی سلاخیں خریدیں جس سے اسے تقریباً 13 بلین یورو کا منافع ہوا۔ بھارت کے ریزرو بینک نے اپنے بیرون ملک سونے کا تناسب دو ہزار تئیس میں 55 فیصد سے گھٹا کر مارچ دو ہزار چھبیس تک صرف 22 فیصد کر دیا ہے اور اس دوران 274 سے 280 ٹن سونا واپس ملک لایا۔ مشرقی یورپ کے ممالک میں پولینڈ، ہنگری، آسٹریا اور چیک ریپبلک نے بھی اپنے بیرون ملک سونے کے ذخائر کو کم کر کے اپنے ملکی خزانوں میں منتقل کرنے کو ترجیح دی ہے۔ سربیا کے نیشنل بینک نے جولائی دو ہزار پچیس میں اپنا تقریباً چھ بلین ڈالر مالیت کا سارا سونے کا ذخیرہ واپس ملک منتقل کر دیا جبکہ ترکیہ اور نائیجیریا نے بھی حالیہ برسوں میں اپنے سونے کے بڑے ذخائر واپس اپنے ممالک منتقل کیے ہیں۔

عالمی تھنک ٹینکس اور تحقیقی اداروں نے اس رجحان کی گہرائی اور اس کے اثرات پر تفصیلی رپورٹس جاری کی ہیں۔ ورلڈ گولڈ کونسل کی دو ہزار چھبیس کی سنٹرل بینک گولڈ ریزرو سروے کے مطابق 89 فیصد مرکزی بینکوں کو توقع ہے کہ اگلے بارہ مہینوں میں عالمی سونے کے ذخائر میں اضافہ ہوگا اور 45 فیصد مرکزی بینک اگلے بارہ مہینوں میں اپنے سونے کے ذخائر بڑھانے کا ارادہ رکھتے ہیں جو تاریخ کی سب سے زیادہ شرح ہے۔ اس سروے میں 76 مرکزی بینکوں نے شرکت کی اور 84 فیصد مرکزی بینکوں کا خیال ہے کہ اگلے پانچ سالوں میں عالمی ذخائر میں سونے کا حصہ بڑھے گا جبکہ 74 فیصد کا خیال ہے کہ اسی عرصے میں ڈالر کے ذخائر کا حصہ کم ہوگا۔ ورلڈ گولڈ کونسل کے مطابق دو ہزار چھبیس میں 82 فیصد مرکزی بینک فزیکل گولڈ رکھتے ہیں جبکہ پچھلے سال یہ تعداد 71 فیصد تھی۔ سونے کے حصول کی بڑی وجوہات میں 90 فیصد مرکزی بینکوں نے بحران کے دوران کارکردگی کو سب سے اہم قرار دیا جو تاریخ کی بلند ترین شرح ہے جبکہ 84 فیصد نے طویل مدتی قیمت ذخیرہ کرنے کی صلاحیت اور 83 فیصد نے پورٹ فولیو تنوع کو اہم قرار دیا۔ ورلڈ گولڈ کونسل کی گلوبل سی ای او樊少凯 کے مطابق سروے کا واضح پیغام یہ ہے کہ مرکزی بینکوں کی سونے کی طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ورلڈ گولڈ کونسل کی ایک اور رپورٹ کے مطابق می دو ہزار چھبیس میں عالمی سرکاری سونے کے ذخائر میں 41 ٹن کا خالص اضافہ ہوا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مرکزی بینکوں کی سونے کی خریداری میں تیزی آ گئی ہے۔

لندن میں قائم تھنک ٹینک اے ایم ایف آئی ایف یعنی آفیشل مانیٹری اینڈ فنانشل انسٹی ٹیوشنز فورم کی دو ہزار چھبیس کی گلوبل پبلک انویسٹر سروے میں پہلی بار یہ بات سامنے آئی کہ زیادہ مرکزی بینک اگلی دہائی میں ڈالر کے ذخائر کو کم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس سروے میں 90 مرکزی بینکوں، پبلک پنشن فنڈز اور خودمختار فنڈز نے شرکت کی جو مجموعی طور پر دس ٹریلین ڈالر کے اثاثوں کا انتظام کرتے ہیں۔ سروے کے مطابق 79 فیصد مرکزی بینک اور 60 فیصد پبلک فنڈز کا ماننا ہے کہ عالمی مالیاتی نظام کثیر قطبی دنیا کی طرف بڑھ رہا ہے اور سونا مرکزی بینکوں کے ریزرو مینجمنٹ کی حکمت عملی کے مرکز میں آ گیا ہے۔ مختصر مدت میں یہ وہ اثاثہ ہے جس میں مرکزی بینک سب سے زیادہ اضافہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور 30 فیصد جواب دہندگان اگلے ایک سے دو سالوں میں سونے کی مقدار بڑھانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ سروے میں 51 فیصد مرکزی بینکوں نے جغرافیائی سیاسی خطرے کو سونے کے حصول کی وجہ قرار دیا جو پچھلے سال 45 فیصد تھا جبکہ 68 فیصد نے تنوع کو وجہ قرار دیا جو پچھلے سال 61 فیصد تھا۔ اے ایم ایف آئی ایف کی سینئر ماہر اقتصادیات یارا عزیز نے رپورٹ میں لکھا کہ یہ پرانا مفروضہ کہ پبلک سرمایہ کار ماحول کے معمول پر آنے کا انتظار کر سکتے ہیں تیزی سے غیر حقیقی لگ رہا ہے۔ اے ایم ایف آئی ایف کی ایک اور رپورٹ میں کہا گیا کہ اگرچہ ڈالر کی حثیت اب بھی غالب ہے اور یہ عالمی ذخائر کا تقریباً 58 فیصد ہے لیکن پہلی بار مرکزی بینکوں میں ڈالر سے جان چھڑانے کا خالص ارادہ 3 فیصد تک پہنچ گیا ہے اور دس سالہ افق پر یہ خالص کمی 8 فیصد تک جا سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ڈالر کی حثیت کے حامی اس کی مائع منڈی، گہرائی اور امریکی دفاعی بجٹ کی طرف اشارہ کرتے ہیں جبکہ مخالفین امریکی مالیاتی خسارے، کرنسی کی قدر میں کمی اور مالیاتی انفراسٹرکچر کو خارجہ پالیسی کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کے خطرے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

ان گولڈ ریپیٹری ایشن اور ڈی ڈالرائزیشن کے رجحانات کے امریکہ اور برطانیہ پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ امریکہ کے لیے یہ منتقلی بنیادی طور پر اعتماد، ساکھ اور حیثیت کے حوالے سے نقصان دہ ہے، نیویارک میں سونا رکھوانے والے مرکزی بینکوں کی تعداد 17 فیصد سے کم ہو کر 14 فیصد رہ گئی ہے اور دو ہزار چھبیس کی پہلی سہ ماہی تک گلوبل فاریکس ریزرو میں ڈالر کا حصہ 57 فیصد رہ گیا جو دو ہزار سولہ میں 64 فیصد تھا۔ فیڈرل ریزرو کے اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں محفوظ غیر ملکی سرکاری سونے کی مقدار دو ہزار چوبیس کے آخر سے اپریل دو ہزار چھبیس تک دو فیصد کم ہو گئی۔ یہ رجحان امریکی ڈالر کی عالمی بالادستی کے لیے ایک علامتی دھچکا ہے اور اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو نیویارک کی بطور عالمی محفوظ خانہ حیثیت مزید کمزور ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب برطانیہ کے لیے یہ منتقلی واضح طور پر فائدہ مند ہے کیونکہ اس سے لندن کی بطور عالمی سونے کے دارالحکومت حیثیت مزید مستحکم ہوئی ہے، لندن پہلے ہی دنیا کا سب سے بڑا اوور دی کاؤنٹر گولڈ ٹریڈنگ ہب ہے جہاں ہر ہفتے 900 بلین ڈالر سے زیادہ کی سونے کی تجارت ہوتی ہے۔ بینک آف انگلینڈ کے والٹس میں موجود کل سونا مزید بڑھ گیا ہے جو پہلے ہی دنیا کا دوسرا بڑا ذخیرہ ہے اور لندن میں سونے کی بہتر لیکویڈیٹی اور تجارتی سہولت کے باعث قرض دینے اور سوداگری کی سرگرمیوں کو فروغ مل سکتا ہے۔

انگولڈ وی ٹرسٹ رپورٹ دو ہزار چھبیس کے مطابق عالمی مالیاتی نظام میں سونے کی بحالی چھ ویکٹرز کے ذریعے ہو رہی ہے۔ پہلا ویکٹر ریزرو فنکشن ہے جس کے تحت دو ہزار بائیس میں روس کے زرمبادلہ کے ذخائر منجمد کیے جانے کے بعد یہ اصول بن گیا کہ جو ذخائر فزیکلی کنٹرول میں نہیں ہیں وہ ہنگامی صورت میں ذخائر نہیں ہیں اور سونے کی واپسی کی لہر اس کا ثبوت ہے۔ دوسرا ویکٹر پرائیویٹ سیکٹر ہے جہاں پنشن فنڈز دو فیصد سے بھی کم سونا رکھتے ہیں جو تاریخ کا سب سے بڑا ادارہ جاتی طلب کا فرق ہے۔ تیسرا ویکٹر بیلنس شیٹ ہے جہاں خاموش ری کیپیٹلائزیشن جاری ہے، فروری دو ہزار پچیس میں امریکی ٹریژری سیکریٹری سکاٹ بیسینٹ نے اثاثوں کی طرف مانیٹائزیشن کا اشارہ دیا جسے مارکیٹ نے سونے کی ری ویلیویشن کی پیش خیمہ قرار دیا۔ چوتھا ویکٹر اینکرنگ ہے جس کے تحت جیوڈی شیلٹن کے ٹریژری ٹرسٹ بانڈز جو پچاس سالہ اور گولڈ کنورٹیبل ہیں چار جولائی دو ہزار چھبیس کو لانچ کیے جانے کا منصوبہ ہے۔ پانچواں ویکٹر اکیومولیشن ہے جس کے تحت دو ہزار دس سے مرکزی بینکوں نے 9700 ٹن سونا جمع کیا ہے تقریباً مکمل طور پر مشرق میں۔ چھٹا ویکٹر ڈیجیٹلائزیشن ہے جہاں ٹوکنائزڈ گولڈ سی بی ڈی سی کو شکست دیتا ہے کیونکہ ٹوکنائزڈ گولڈ کرنسی نیوٹرل اور سنسر شپ مزاحم رہتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سونا نظام کے مرکز میں نہیں جا رہا بلکہ مالیاتی خستگی، جغرافیائی سیاسی ٹکڑے بازی اور ادارہ جاتی اعتماد کی کمی کے باعث نظام خود سونے کی طرف بڑھ رہا ہے۔

ویڈبش کی رپورٹ دی گریٹ گولڈ ہوم کمنگ کے مطابق نیویارک میں عالمی والٹ کے دور کا خاتمہ ہو رہا ہے کیونکہ مرکزی بینک اپنے اہم ترین ذخائر پر براہ راست کنٹرول حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ رجحان سونے کی قیمتوں کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کر رہا ہے اور جیسے جیسے مرکزی بینک امریکی ٹریژری جیسے کاغذی اثاثوں سے فزیکل گولڈ کی طرف منتقل ہو رہے ہیں عالمی مالیاتی منظرنامہ ایک ساختی تبدیلی سے گزر رہا ہے جو امریکی ڈالر کی دیرینہ بالادستی کو چیلنج کر رہا ہے۔ فرانس کی منتقلی کو واشنگٹن میں تشویش کے ساتھ دیکھا گیا کیونکہ یہ ڈالر مرکوز جمود کی مکمل استحکام پر عدم اعتماد کا ایک علامتی ووٹ تھا۔ دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق ڈالر اپنی ساکھ کھو رہا ہے اور مرکزی بینک اپنے تزویراتی ذخائر کو ڈالر کی شرائط میں مزید محفوظ نہیں سمجھتے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ سرمایہ کار خواہ وہ پرائیویٹ ہوں یا خودمختار یقین رکھتے ہیں کہ ان کے تزویراتی ذخائر اب ڈالر میں محفوظ نہیں ہیں اور ڈالر ایک نامزد اینکر کے طور پر اپنی ساکھ کھو رہا ہے۔

یہ تمام رپورٹس اور تحقیقات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ نیدرلینڈز کا 86 ٹن سونا منتقل کرنا محض ایک تکنیکی یا لاجسٹک فیصلہ نہیں بلکہ عالمی طاقت کے توازن میں ایک بڑی تبدیلی ہے جس میں ممالک اپنی مالیاتی خودمختاری کو ترجیح دے رہے ہیں اور امریکی ڈالر پر انحصار کم کر رہے ہیں۔ ورلڈ گولڈ کونسل کے مطابق مرکزی بینک اپنے سونے کے ذخائر کو مزید محفوظ اور قابلِ رسائی مقامات پر منتقل کر رہے ہیں اور دو ہزار بیس میں 50 فیصد مرکزی بینک اپنا سونا ملک کے اندر رکھتے تھے جو دو ہزار چھبیس تک بڑھ کر 59 فیصد ہو گیا۔ یہ رجحان خاص طور پر دو ہزار بائیس میں روس کے زرمبادلہ کے ذخائر کو منجمد کیے جانے کے واقعے کے بعد تیز ہوا جس نے دنیا بھر کے مرکزی بینکوں کو یہ سبق سکھایا کہ دوسرے ممالک میں رکھے اثاثے سیاسی خطرات سے محفوظ نہیں ہیں۔ اے ایم ایف آئی ایف کی رپورٹ کے مطابق ڈالر کی حثیت کے حامی اس کی مائع منڈی اور گہرائی کی طرف اشارہ کرتے ہیں لیکن مخالفین امریکی مالیاتی خسارے، کرنسی کی قدر میں کمی اور مالیاتی انفراسٹرکچر کو خارجہ پالیسی کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کے خطرے کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے دور میں مزید شدت اختیار کر گئے ہیں۔ ان چیلنجوں کے پیش نظر مرکزی بینک اب اپنے سونے کے ذخائر کو سنگاپور، دبئی اور شنگھائی جیسے غیر جانبدار مراکز میں منتقل کرنے پر بھی غور کر رہے ہیں تاکہ امریکی اور برطانوی کنٹرول سے بچ سکیں۔ یہ رجحان ڈی ڈالرائزیشن کے وسیع تر عمل کا حصہ ہے جس میں ممالک برکس پلس گروپ توانائی کی تجارت کے لیے ڈیجیٹل سیٹلمنٹ یونٹ جیسے متبادل نظام آزما رہے ہیں اور چین شنگھائی کو اگلا عالمی گولڈ ہب بنانے کے لیے اسٹریٹجک ونڈو سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان تمام تبدیلیوں کا مجموعی نتیجہ یہ ہے کہ عالمی مالیاتی نظام ایک کثیر قطبی نظام کی طرف بڑھ رہا ہے جہاں ڈالر کا یکطرفہ غلبہ نہیں رہے گا اور سونا ایک اہم تزویراتی اثاثہ کے طور پر اپنی حیثیت بحال کر رہا ہے۔