صائم ایوب کی سنچری نے جمیکا کنگزمن کو کیریبین پریمیئر لیگ کے میچ میں سینٹ کٹس اینڈ نیوس پیٹریاٹس کے خلاف 11 رنز سے شاندار فتح دلادی۔
وارنر پارک میں کھیلے گئے میچ میں پاکستانی بلے باز صائم ایوب نے جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے صرف 58 گیندوں پر 102 رنز بنائے۔
ان کی اننگز میں 6 چوکے اور 8 چھکے شامل تھے۔ یہ صائم ایوب کی ٹی20 کرکٹ میں پہلی سنچری بھی تھی۔
صائم ایوب کی سنچری نے جمیکا کنگزمن کو مضبوط مجموعہ دیا
جمیکا کنگزمن نے ٹاس ہارنے کے بعد پہلے بیٹنگ کی۔ ان کی اننگز کا آغاز اچھا نہ رہا اور پاکستان کے فاسٹ بولر نسیم شاہ نے میچ کی پہلی ہی گیند پر کیسی کارٹی کو آؤٹ کردیا۔
صائم ایوب تیسرے نمبر پر بیٹنگ کے لیے آئے اور انہوں نے مضبوط پیٹریاٹس بولنگ اٹیک کا بھرپور مقابلہ کیا۔
سینٹ کٹس اینڈ نیوس پیٹریاٹس کے بولنگ اٹیک میں نسیم شاہ، جیسن ہولڈر اور ونیندو ہسرنگا شامل تھے۔
جمیکا کنگزمن نے 63 رنز پر چار وکٹیں گنوا دی تھیں، تاہم صائم ایوب نے کپتان روومین پاول کے ساتھ مل کر اننگز کو سنبھالا۔
صائم ایوب اور روومین پاول نے پانچویں وکٹ کے لیے 72 رنز کی اہم شراکت قائم کی۔
روومین پاول نے 17 گیندوں پر 21 رنز بنائے، تاہم ونیندو ہسرنگا نے اس شراکت کا خاتمہ کردیا۔
دوسری جانب صائم ایوب نے جارحانہ بیٹنگ جاری رکھی اور اپنی ٹیم کو بڑے اسکور کی جانب لے گئے۔
صائم ایوب 19ویں اوور میں 102 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، اس وقت جمیکا کنگزمن کا مجموعہ 164 رنز تھا۔
بعد ازاں کیمو پال نے تیز رفتار بیٹنگ کرتے ہوئے ناقابل شکست 25 رنز بنائے، جس کی بدولت جمیکا کنگزمن نے 20 اوورز میں 182 رنز بنائے۔
پیٹریاٹس کی جانب سے اوبیڈ مک کوئے، نسیم شاہ اور ونیندو ہسرنگا نے دو، دو وکٹیں حاصل کیں۔
183 رنز کے ہدف کے تعاقب میں سینٹ کٹس اینڈ نیوس پیٹریاٹس نے بھرپور کوشش کی، لیکن وہ مقررہ 20 اوورز میں 171 رنز تک ہی پہنچ سکے۔
یوں جمیکا کنگزمن نے میچ میں 11 رنز سے کامیابی حاصل کرلی۔
یہ پیٹریاٹس کی جاری کیریبین پریمیئر لیگ میں چوتھی شکست ہے۔
صائم ایوب کی سنچری میچ کا سب سے نمایاں لمحہ رہی۔ انہوں نے 58 گیندوں پر 102 رنز بنا کر اپنی ٹیم کو مشکل صورتحال سے نکالا۔
ان کی اننگز میں چھ چوکے اور آٹھ چھکے شامل تھے، جس نے جمیکا کنگزمن کو ایک مضبوط مجموعہ بنانے میں مدد دی۔
صائم ایوب کی یہ کارکردگی نہ صرف جمیکا کنگزمن کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوئی بلکہ پاکستانی بلے باز کی ٹی20 صلاحیتوں کا بھی شاندار مظاہرہ تھی۔


