اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو پاکستان کے لیے سعودی عرب کی مسلسل حمایت اور فراخدلانہ معاونت پر اظہارِ تشکر کیا۔
وزیراعظم نے یہ بات وزیراعظم ہاؤس میں سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی سے الوداعی ملاقات کے دوران کہی، جو اپنی سفارتی ذمہ داریاں مکمل کر رہے ہیں۔
شہباز شریف نے سعودی سفیر کو کامیاب سفارتی مدت مکمل کرنے پر مبارکباد دی اور پاکستان سعودی عرب تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں ان کی خدمات کو سراہا۔
انہوں نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد و وزیراعظم محمد بن سلمان کے لیے نیک خواہشات کا بھی اظہار کیا۔
سعودی سفیر نے اپنے دورِ سفارت کے دوران پاکستانی حکومت کی جانب سے تعاون، گرمجوشی اور مہمان نوازی پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔
پاکستان سعودی عرب تعلقات میں دفاعی تعاون
پاکستان سعودی عرب تعلقات کئی دہائیوں پر محیط برادرانہ اور تزویراتی روابط پر قائم ہیں۔ دونوں ممالک دفاع، سفارت کاری اور معیشت سمیت مختلف شعبوں میں قریبی تعاون کر رہے ہیں۔
گزشتہ سال ستمبر میں پاکستان اور سعودی عرب نے اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے، جس کے تحت ایک ملک پر جارحیت کو دونوں ممالک کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔
7 اگست 2026 کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر بھی دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملے کو تمام ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
سعودی عرب کی پاکستان کے لیے مالی معاونت
پاکستان سعودی عرب تعلقات کا ایک اہم پہلو اقتصادی تعاون بھی ہے۔ سعودی عرب مختلف ادوار میں پاکستان کو مالی معاونت، ڈپازٹس اور موخر ادائیگی پر تیل کی سہولت فراہم کرتا رہا ہے۔
اپریل 2026 میں سعودی عرب نے پاکستان کو مزید 3 ارب ڈالر کا ڈپازٹ فراہم کیا اور موجودہ 5 ارب ڈالر کی ڈپازٹ سہولت کو 2028 تک توسیع دی۔
پاکستان کو نئی رقم دو اقساط میں موصول ہوئی، جس میں 2 ارب ڈالر 15 اپریل جبکہ ایک ارب ڈالر 20 اپریل کو فراہم کیے گئے۔
یہ معاونت پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر مضبوط بنانے اور 7 ارب ڈالر کے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت معاشی اصلاحات آگے بڑھانے میں مددگار ثابت ہوئی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کی حمایت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ و تزویراتی تعلقات مستقبل میں مزید مضبوط ہوں گے۔


