Picture of Nadeem Ali

Nadeem Ali

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 50 فیصد نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس سے دونوں شمالی امریکی ممالک کے درمیان جاری تجارتی تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق نئے ٹیرف 30 روز بعد نافذ العمل ہوں گے اور ان کا اطلاق روزمرہ استعمال کی کئی اشیا اور صنعتی مصنوعات پر ہوگا، جن میں شراب، ہاکی اسٹکس، سیمنٹ اور دیگر سامان شامل ہیں۔ تاہم توانائی، پوٹاش، اہم معدنیات اور مچھلی جیسی اہم برآمدات کو ان ٹیرف سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے فیصلے کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈا امریکی گاڑیوں، ڈیری مصنوعات اور الکوحل کے ساتھ “غیر مساوی سلوک” کر رہا ہے، جس کے جواب میں یہ اقدام اٹھایا گیا ہے۔

دوسری جانب کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے امریکی فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت واشنگٹن کے ساتھ تجارتی مذاکرات کو مزید تیز کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان جاری تنازع کا سفارتی حل تلاش کیا جا سکے۔

مارک کارنی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں امریکی اقدام کو کینیڈا، امریکا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے (USMCA) کی روح کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ امریکہ کی جانب سے یکطرفہ تجارتی اقدامات کا تسلسل ہے۔

انہوں نے “کینیڈا کی خودمختاری کو لاحق خطرات” کا بھی ذکر کیا، جسے مبصرین نے صدر ٹرمپ کے اس بیان سے جوڑا ہے جس میں انہوں نے کینیڈا کو امریکہ کی 51ویں ریاست بنانے کی خواہش ظاہر کی تھی۔

یہ نئے ٹیرف اس وقت سامنے آئے ہیں جب امریکہ پہلے ہی کینیڈین اسٹیل، ایلومینیم، کاپر، سافٹ ووڈ لمبر اور گاڑیوں کے غیر امریکی پرزوں پر مختلف شرحوں سے محصولات عائد کیے ہوئے ہے، جبکہ کینیڈا بھی امریکی اسٹیل، ایلومینیم اور گاڑیوں پر 25 فیصد جوابی ٹیرف برقرار رکھے ہوئے ہے۔

اگرچہ حالیہ دنوں صدر ٹرمپ نے کینیڈا میں لگنے والی جنگلاتی آگ کے دھوئیں کو امریکی شہروں تک پہنچنے پر بھی ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دی تھی، تاہم پیر کو جاری کیے گئے صدارتی احکامات میں جنگلاتی آگ یا دھوئیں کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ نیا اقدام امریکہ اور کینیڈا کے درمیان تجارتی تعلقات میں ایک نئی کشیدگی کو جنم دے سکتا ہے اور شمالی امریکہ میں اربوں ڈالر کی دوطرفہ تجارت پر اس کے دور رس اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔