حالیہ دنوں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (ری آرگنائزیشن) ایکٹ 1996 میں مجوزہ ترامیم، خصوصاً سیکشن 27A اور 27B، شدید بحث کا موضوع بنی ہوئی ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ان ترامیم کے ذریعے ٹیلی کام کمپنیاں نجی املاک پر قبضہ کر سکیں گی، ہاؤسنگ سوسائٹیز کی اجازت کے بغیر ٹاور نصب کریں گی اور شہریوں کے آئینی حقوق متاثر ہوں گے۔ تاہم ماہرین کے مطابق یہ تاثر حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتا اور اصل مسئلہ پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔
پرانے قانون سے جدید ڈیجیٹل معیشت ممکن نہیں
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان آج بھی ایسے ٹیلی کام قانون کے تحت کام کر رہا ہے جو 1996 میں بنایا گیا تھا، یعنی اس دور میں جب نہ گوگل موجود تھا، نہ اسمارٹ فونز تھے اور نہ ہی انٹرنیٹ آج کی طرح معیشت کی بنیاد بن چکا تھا۔
اسی لیے حکومت موجودہ قانون میں ترامیم کے ذریعے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنا چاہتی ہے۔
پاکستان میں فائبر نیٹ ورک کی شدید کمی
پاکستان میں اس وقت 20 کروڑ 70 لاکھ سے زائد موبائل اور فکسڈ سبسکرپشنز جبکہ 16 کروڑ 20 لاکھ سے زیادہ براڈ بینڈ صارفین موجود ہیں۔
اس کے باوجود ملک بھر کے تقریباً 58 ہزار ٹیلی کام ٹاورز میں سے صرف 14 سے 19 فیصد فائبر آپٹک نیٹ ورک سے منسلک ہیں، جبکہ 95 فیصد سے زائد انٹرنیٹ صارفین موبائل نیٹ ورک پر انحصار کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت (AI)، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، ڈیٹا سینٹرز اور جدید ڈیجیٹل معیشت کے لیے وسیع فائبر نیٹ ورک ناگزیر ہے۔
حکومت کا 2029 تک بڑا ہدف
وزارتِ آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن (MoITT) نے ڈیجیٹل اکانومی انہانسمنٹ پروجیکٹ کے تحت 2029 تک ٹیلی کام ٹاورز کی فائبرائزیشن کو تقریباً 16 فیصد سے بڑھا کر 80 فیصد تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
اس مقصد کے لیے اربوں روپے کی سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ اجازت ناموں اور رائٹ آف وے (Right of Way) جیسے مسائل کو حل کرنا بھی ضروری قرار دیا جا رہا ہے۔
رائٹ آف وے کیوں اہم ہے؟
عالمی سطح پر فائبر بچھانے کی لاگت کا 70 سے 80 فیصد حصہ سول ورکس اور رائٹ آف وے پر خرچ ہوتا ہے، جبکہ مختلف اداروں سے اجازت لینے میں تاخیر منصوبوں کو مہنگا اور سست بنا دیتی ہے۔
سیکشن 27A اور 27B انہی رکاوٹوں کو کم کرنے کے لیے متعارف کرائے جا رہے ہیں تاکہ ٹیلی کام انفراسٹرکچر کی تنصیب تیز ہو سکے۔
دنیا کے دیگر ممالک میں بھی ایسے قوانین موجود ہیں
پاکستان اس حوالے سے پہلا ملک نہیں۔
- بھارت نے 2023 میں نیا ٹیلی کمیونیکیشن قانون نافذ کیا جس میں رائٹ آف وے کے لیے یکساں اور وقت مقررہ طریقہ کار دیا گیا۔
- سعودی عرب نے وژن 2030 کے تحت ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو قومی ترجیح بنایا۔
- یورپی یونین، برطانیہ، آسٹریلیا اور سنگاپور میں بھی ٹیلی کام آپریٹرز کو قانونی طریقہ کار کے تحت بنیادی ڈھانچے تک رسائی کے حقوق حاصل ہیں۔
کیا نجی املاک پر قبضہ کیا جا سکے گا؟
سب سے زیادہ اعتراض یہی سامنے آیا کہ ترامیم آئین کے آرٹیکل 23 اور 24 کے تحت نجی ملکیت کے حقوق کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔
تاہم وزارتِ آئی ٹی کا کہنا ہے کہ مجوزہ ترامیم کسی بھی صورت نجی جائیداد پر زبردستی قبضے یا ملکیت کی منتقلی کی اجازت نہیں دیتیں۔
حکام کے مطابق تمام کام قانونی طریقہ کار، باہمی رضامندی اور تنازعات کے حل کے موجودہ نظام کے تحت ہوگا۔
عوامی مفاد کو ترجیح
ماہرین کا کہنا ہے کہ آج کے دور میں انٹرنیٹ کوئی عیش و آرام نہیں بلکہ بنیادی ضرورت بن چکا ہے۔
تعلیم، بینکاری، اسپتال، کاروبار، ای گورننس، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل خدمات سب مضبوط فائبر نیٹ ورک پر انحصار کرتی ہیں۔
اسی لیے کسی ایک ہاؤسنگ سوسائٹی یا مقامی ادارے کو ہزاروں شہریوں کی انٹرنیٹ سہولت روکنے کا اختیار نہیں ہونا چاہیے۔
خاموشی کو مستقل رکاوٹ نہیں بنایا جا سکتا
مجوزہ قانون میں Deemed Approval یعنی مقررہ وقت میں جواب نہ ملنے پر منظوری تصور کیے جانے کی شق بھی شامل ہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ دنیا بھر میں ماحولیاتی اجازت ناموں، تعمیراتی منصوبوں اور یوٹیلیٹی سروسز میں بھی یہی اصول اپنایا جاتا ہے تاکہ غیر ضروری تاخیر سے بچا جا سکے۔
جرمانے کیوں رکھے گئے؟
قانون میں رکاوٹ ڈالنے پر 5 کروڑ روپے تک جرمانے کی تجویز بھی شامل ہے، جس پر تنقید کی جا رہی ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ ایسے جرمانوں کا مقصد اختیارات کا غلط استعمال روکنا اور انفراسٹرکچر منصوبوں میں غیر ضروری رکاوٹوں کی حوصلہ شکنی کرنا ہے، جبکہ اسی نوعیت کی سزائیں دیگر ریگولیٹری قوانین میں بھی موجود ہیں۔
مزید بہتری کی گنجائش موجود
ماہرین کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ اگر نوٹس، معاوضے، اپیل اور تنازعات کے حل سے متعلق مزید وضاحت شامل کرے تو عوام کا اعتماد مزید مضبوط ہو سکتا ہے، تاہم پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل کے لیے ان اصلاحات کو مکمل طور پر مسترد کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
ان کے مطابق مضبوط ٹیلی کام انفراسٹرکچر ہی پاکستان کو جدید ڈیجیٹل معیشت، مصنوعی ذہانت اور تیز رفتار انٹرنیٹ کے دور میں مؤثر انداز میں آگے لے جا سکتا ہے۔






