واشنگٹن: امریکا کے محکمہ انصاف (DOJ) نے اعلان کیا ہے کہ 2026 فیفا ورلڈ کپ کی غیر قانونی اسٹریمنگ میں ملوث تقریباً 3,000 ویب سائٹس اور ڈومینز کو بلاک یا ضبط کر لیا گیا ہے۔ اس بڑے کریک ڈاؤن کا مقصد کاپی رائٹ قوانین کا تحفظ اور غیر قانونی آن لائن اسٹریمنگ کے نیٹ ورک کا خاتمہ ہے۔
محکمہ انصاف کے مطابق کارروائی کے دوران امریکا میں ایک ہزار سے زائد جبکہ کولمبیا میں بھی ایک ہزار سے زیادہ ڈومینز بند کیے گئے۔ یہ مشترکہ کارروائیاں “آپریشن آف سائیڈز” (Operation Offsides) اور “آپریشن ریڈ کارڈ” (Operation Red Card) کے تحت امریکا اور جنوبی امریکا کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انجام دیں۔
نیشنل انٹیلیکچوئل پراپرٹی رائٹس کوآرڈینیشن سینٹر (NIPRCC) کے ڈائریکٹر ایوان جے آرویلو نے کہا کہ ورلڈ کپ میچز کی غیر مجاز نشریات دانشورانہ املاک (Intellectual Property) کے حقوق کی خلاف ورزی ہیں اور اس سے مجرمانہ تنظیموں کو مالی فائدہ پہنچتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ غیر قانونی اسٹریمنگ نہ صرف کھیلوں کے نشریاتی حقوق رکھنے والی کمپنیوں کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچاتی ہے بلکہ منظم جرائم کے نیٹ ورکس کو بھی تقویت دیتی ہے۔
محکمہ انصاف نے بتایا کہ گزشتہ ماہ کے اختتام تک 400 غیر قانونی ویب صفحات بند کیے گئے تھے، تاہم تازہ کارروائی کے بعد بند یا ضبط کی جانے والی ویب سائٹس اور ڈومینز کی مجموعی تعداد تقریباً 3 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔
محکمہ انصاف کے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل اے ٹائسن ڈووا نے کہا کہ ایک ہزار سے زائد غیر قانونی اسٹریمنگ ڈومینز کی ضبطی اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکی حکومت دانشورانہ املاک کے حقوق کے تحفظ اور 2026 فیفا ورلڈ کپ کی کامیاب میزبانی کے لیے پرعزم ہے۔
یہ کارروائی بنیادی طور پر امریکی ادارے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کی نگرانی میں کی گئی، جس کے تحت NIPRCC بھی کام کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق بڑے کھیلوں کے مقابلوں کے دوران غیر قانونی اسٹریمنگ کے لیے عارضی ویب سائٹس بنائی جاتی ہیں، جس کے باعث براڈکاسٹرز اور میڈیا کمپنیوں کو ہر سال اربوں ڈالر کے مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔






