Picture of Nadeem Ali

Nadeem Ali

اسلام آباد: حکومتِ پاکستان نے عوامی صحت کے تحفظ اور آلودہ سرنجوں کے دوبارہ استعمال کی روک تھام کے لیے 10 سی سی سے کم گنجائش والی دستی (مینول) طبی سرنجوں کی تیاری، درآمد اور فروخت پر پابندی عائد کر دی ہے۔ نئے قواعد کے تحت یکم جنوری 2027 سے ملک بھر میں صرف آٹو لاک (Auto-Lock) سرنجوں کی فروخت اور استعمال کی اجازت ہوگی۔

یہ فیصلہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ نوٹیفکیشن کے ذریعے کیا گیا، جسے پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا، بلوچستان، آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان کی حکومتوں سمیت سرنج بنانے والی کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو ارسال کر دیا گیا ہے۔

یکم جنوری 2027 سے نئے قوانین نافذ

نوٹیفکیشن کے مطابق یکم جنوری 2027 سے پاکستان میں 10 سی سی سے کم تمام مینول سرنجوں کی تیاری، درآمد اور فروخت ممنوع ہوگی، جبکہ انسولین سرنجوں کو اس پابندی سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔

10 سی سی مینول سرنج کی رعایت بھی ختم

پاکستان میں اس سے قبل 2 سی سی اور 5 سی سی مینول سرنجوں کے استعمال پر پابندی عائد کی جا چکی تھی۔ اب نئے فیصلے کے تحت سرکاری اور نجی اسپتالوں میں 10 سی سی مینول سرنج کے استعمال کی رعایت بھی ختم کر دی گئی ہے۔

اس کے ساتھ ہی یکم جولائی 2026 کو جاری کیا گیا سابقہ نوٹیفکیشن بھی منسوخ کر دیا گیا ہے۔

سرنج ساز کمپنیوں کو نئی ہدایت

ڈریپ نے تمام مقامی سرنج ساز اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ 31 دسمبر 2026 تک اپنی مینول سرنجوں کی پیداوار کو سیفٹی انجینئرڈ ری یوز پریوینشن (RUP) ٹیکنالوجی پر منتقل کریں۔

مزید برآں، آٹو لاک سرنجوں کی تیاری، درآمد یا فروخت سے قبل ڈریپ سے باقاعدہ منظوری لینا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

عوامی صحت کے تحفظ کے لیے اہم اقدام

ڈریپ کا کہنا ہے کہ روایتی سرنجوں کے دوبارہ استعمال سے ہیپاٹائٹس بی، ہیپاٹائٹس سی، ایچ آئی وی سمیت کئی خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ اسی لیے آٹو لاک سرنجوں کا استعمال ناگزیر ہے، کیونکہ یہ ایک مرتبہ استعمال کے بعد خودکار طور پر لاک ہو جاتی ہیں اور دوبارہ استعمال نہیں کی جا سکتیں۔

ادارے کے مطابق اس اقدام کا بنیادی مقصد مریضوں کے تحفظ کو یقینی بنانا، انفیکشن کے خطرات کو کم کرنا اور ملک میں صحت کے معیار کو بہتر بنانا ہے۔

صوبائی حکومتوں کو سخت عملدرآمد کی ہدایت

وفاقی حکومت نے تمام صوبائی حکومتوں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ نئے ضوابط پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں اور سرنجوں کی تیاری، درآمد، تقسیم اور استعمال کی مؤثر نگرانی کریں۔