Picture of Nadeem Ali

Nadeem Ali

واشنگٹن: امریکی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اردن میں ایرانی بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں دو امریکی فوجی ہلاک جبکہ ایک اہلکار لاپتا ہو گیا ہے، جس کے بعد مشرق وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے مطابق حملوں میں زخمی ہونے والے چار امریکی فوجیوں کو علاج کے لیے اردن کے اسپتال منتقل کیا گیا تھا، تاہم طبی امداد کے بعد انہیں ڈسچارج کر دیا گیا ہے، جبکہ معمولی زخمی دیگر اہلکار دوبارہ اپنی ذمہ داریاں سنبھال چکے ہیں۔

امریکی فوج نے سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر ہلاک ہونے والے فوجیوں کی شناخت یا حملے کی درست جگہ اور حالات سے متعلق مزید تفصیلات جاری نہیں کیں۔

ادھر امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر ہفتے کی شب ایران میں مزید فضائی حملے کیے گئے۔

امریکی حکام کے مطابق یہ حملے مسلسل آٹھویں رات کیے گئے ہیں اور ان کا مقصد ایران کی اس صلاحیت کو کمزور کرنا ہے جس کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی تجارتی جہاز رانی کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

CENTCOM نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ کارروائیاں ان اسلامی انقلابی گارڈز (IRGC) کے خلاف بھی ہیں جن پر اردن میں امریکی فوجیوں پر حملے کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان یہ تازہ کشیدگی اس وقت سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ ماہ ہونے والی ابتدائی جنگ بندی عملی طور پر ختم ہو چکی ہے۔

حالیہ دنوں امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے کا اعلان کیا، جبکہ ایران نے آبنائے ہرمز کو بند قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل ظاہر کیا، جس سے عالمی توانائی منڈیوں اور بحری تجارت پر خدشات بڑھ گئے ہیں۔

دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے ایک تحریری بیان میں امریکا پر جنگ بندی معاہدے کی بار بار خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔

انہوں نے کہا کہ امریکی اقدامات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ “امریکی صدر کے دستخط کی کوئی ساکھ یا اعتبار باقی نہیں رہا۔”

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان موجودہ کشیدگی برقرار رہی تو نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی توانائی، تجارت اور سلامتی کی صورتحال بھی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ عالمی برادری دونوں ممالک سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے پر زور دے رہی ہے۔