Picture of Nadeem Ali

Nadeem Ali

لاہور: ویلنشیا ٹاؤن لاہور میں ماں اور اس کے تین بچوں کی پراسرار ہلاکت کے مقدمے میں پولیس کو اہم پیش رفت حاصل ہوئی ہے۔ بچوں کے والد کا بیان ریکارڈ کیے جانے کے بعد تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے، جبکہ واقعے کی اصل وجوہات جاننے کے لیے مختلف پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔

پولیس کے مطابق بچوں کے والد ناصر نے اپنے بیان میں بتایا کہ ان کی اہلیہ گزشتہ تین برس سے ذہنی دباؤ اور نفسیاتی مسائل کا شکار تھیں۔ ان کے مطابق اہلیہ نے تقریباً چھ ماہ قبل ڈاکٹر کی تجویز کردہ ادویات لینا بھی ترک کر دی تھیں۔

والد نے پولیس کو کیا بتایا؟

ناصر کے مطابق وہ خریداری کرکے گھر واپس آئے تو انہوں نے اپنی اہلیہ سے بچوں کے بارے میں پوچھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اہلیہ نے بتایا کہ بچے ایک خاتون فاطمہ کے ساتھ فلم دیکھنے گئے ہیں۔

والد کے مطابق انہوں نے اس بات پر اعتراض کیا کہ بچوں کو ان کے بغیر کیوں بھیجا گیا، کیونکہ وہ سب اکٹھے بھی جا سکتے تھے۔ اسی دوران اہلیہ نے انہیں آئس کریم کھانے کا کہا اور بتایا کہ انہوں نے صبح سے کچھ نہیں کھایا۔

ناصر نے بیان میں مزید کہا کہ اسی دوران ان کی اہلیہ سے بحث جاری تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ محلے داروں نے اطلاع دی کہ بچے گھر کے پچھلے صحن میں پڑے ہیں۔

وہ فوری طور پر صحن میں پہنچے تو تینوں بچے مردہ حالت میں ملے۔ بعد ازاں ان کی اہلیہ کی طبیعت بھی بگڑ گئی، جس پر انہیں قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

آئس کریم کا پہلو بھی زیرِ تفتیش

والد نے شبہ ظاہر کیا کہ ممکنہ طور پر ان کی اہلیہ نے اپنی ذہنی حالت کے باعث بچوں کو دی گئی آئس کریم میں کوئی نامعلوم زہریلا مادہ ملا دیا ہو۔ تاہم پولیس نے واضح کیا ہے کہ اس دعوے کی ابھی تک تصدیق نہیں ہوئی اور حتمی رائے فرانزک اور کیمیکل تجزیاتی رپورٹس آنے کے بعد ہی دی جا سکے گی۔

پولیس متعدد پہلوؤں سے تحقیقات کر رہی ہے

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ انتہائی حساس اور پیچیدہ کیس ہے، جس میں کسی ایک امکان کو حتمی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ تفتیشی ٹیم فرانزک شواہد، گواہوں کے بیانات، جائے وقوعہ سے حاصل ہونے والے شواہد اور دیگر معلومات کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہے۔

پولیس کے مطابق متاثرہ خاندان کا تعلق ضلع سیالکوٹ کی تحصیل پسرور سے ہے۔ تحقیقات کے سلسلے میں خاتون کے امریکہ اور کینیڈا میں مقیم قریبی رشتہ داروں سے بھی رابطہ کیا گیا ہے تاکہ مزید معلومات حاصل کی جا سکیں۔

فرانزک رپورٹ کا انتظار

پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ فرانزک اور پوسٹ مارٹم رپورٹس آنے سے قبل کسی بھی غیر مصدقہ اطلاع یا افواہ پر یقین نہ کیا جائے۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی اصل وجہ کا تعین سائنسی شواہد اور مکمل تحقیقات کے بعد ہی کیا جائے گا۔

ویلنشیا ٹاؤن کا یہ افسوسناک واقعہ نہ صرف لاہور بلکہ ملک بھر میں تشویش کا باعث بنا ہوا ہے، جبکہ ہر کوئی فرانزک رپورٹ اور پولیس کی حتمی تحقیقاتی رپورٹ کا انتظار کر رہا ہے۔