Picture of Nadeem Ali

Nadeem Ali

اسلام آباد: ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن بارتھ ایئدے دو روزہ سرکاری دورے پر جمعرات کو پاکستان پہنچ گئے۔ ان کا یہ دورہ ایک دہائی میں کسی اعلیٰ ترین نارویجن عہدیدار کا پاکستان کا اہم دورہ قرار دیا جا رہا ہے۔

ناروے کے وزیر خارجہ کی اسلام آباد آمد پر ڈپٹی وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے وزارت خارجہ میں ان کا استقبال کیا۔ دفتر خارجہ کے مطابق اس سے قبل ایئرپورٹ پر ایڈیشنل سیکریٹری خارجہ برائے یورپ سفیر عائشہ علی نے معزز مہمان کا استقبال کیا۔

ایسپن بارتھ ایئدے 13 سے 14 اگست تک پاکستان میں قیام کریں گے۔ وہ ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار کی دعوت پر پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں۔

دورے کے دوران دونوں وزرائے خارجہ کی سربراہی میں وفود کی سطح پر مذاکرات ہوں گے، جن میں پاکستان اور ناروے کے باہمی تعلقات کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔

تجارت اور سرمایہ کاری مذاکرات کا اہم حصہ

دفتر خارجہ کے مطابق مذاکرات میں تجارت، سرمایہ کاری، موسمیاتی تبدیلی، قابل تجدید توانائی، تعلیم اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر توجہ دی جائے گی۔

دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ علاقائی اور عالمی صورتحال سے متعلق اہم امور پر بھی خیالات کا تبادلہ کریں گے۔

دفتر خارجہ کے مطابق ناروے کے وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان اور ناروے کے درمیان جاری اعلیٰ سطحی رابطوں کا تسلسل ہے۔

اس سلسلے میں اسحاق ڈار اور ایسپن بارتھ ایئدے کے درمیان مارچ اور اپریل 2026 میں ٹیلی فونک رابطے بھی ہوئے تھے۔

اس کے علاوہ ناروے کے اسٹیٹ سیکریٹری اینڈریاس موٹزفیلڈٹ کراوک نے رواں سال مئی میں اسلام آباد کا دورہ کیا تھا۔

دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ ناروے کے وزیر خارجہ کا دورہ دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ اور دوستانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا اہم موقع فراہم کرے گا۔

دورے کے دوران باہمی مفاد کے نئے شعبوں میں تعاون کے امکانات تلاش کیے جانے کی توقع ہے، جبکہ تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم اور قابل تجدید توانائی جیسے شعبوں میں شراکت داری کو مزید وسعت دینے پر بھی بات چیت ہوگی۔