Picture of Nadeem Ali

Nadeem Ali

مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے بنائے جانے والے ڈیجیٹل کلون تیزی سے عام ہو رہے ہیں، جہاں حقیقی افراد کی شکل، آواز اور انداز کو استعمال کرتے ہوئے ایسے ورچوئل کردار تیار کیے جا رہے ہیں جو لوگوں سے بات چیت بھی کرسکتے ہیں۔

یہ ٹیکنالوجی ڈاکٹروں کے کلینکس، کلاس رومز، ریٹیل اسٹورز اور کاروباری اداروں میں استعمال کے امکانات پیدا کر رہی ہے، تاہم اس کے ساتھ رازداری، شناخت کی چوری، جعلی نمائندگی اور غلط استعمال جیسے سنگین خدشات بھی سامنے آ رہے ہیں۔

حقیقی انسان جیسا اے آئی کلون

لاس اینجلس کے ایک حالیہ دورے کے دوران ٹیکنالوجی کمپنی Proto Hologram کے بانی اور ایگزیکٹو چیئرمین ڈیوڈ نسمبام نے اپنے ڈیجیٹل کلون کا مظاہرہ کیا۔

نسمبام کے برابر ایک زندگی کے سائز کا ڈیجیٹل ڈبل موجود تھا، جس کی شکل و صورت حقیقی نسمبام سے کافی حد تک مشابہ تھی۔

ورچوئل کلون نے اسی طرح کے بال، چشمہ اور چہرے کے خدوخال اختیار کیے ہوئے تھے، جبکہ وہ لوگوں کے ساتھ حقیقی وقت میں بات چیت بھی کرسکتا تھا۔

اے آئی کلون دیکھ اور جواب دے سکتا ہے

Proto Hologram ایسی انٹرایکٹو اور اے آئی سے چلنے والی ہولوگرافک ٹیکنالوجی تیار کرتی ہے جسے مختلف شعبوں میں استعمال کیا جا رہا ہے۔

مظاہرے کے دوران ڈیجیٹل کلون ایک شفاف پینل کے پیچھے موجود تھا اور اس نے اپنے اندر نصب کیمرے کے ذریعے سامنے موجود افراد کو دیکھا۔

جب اس سے پوچھا گیا کہ وہ کیا دیکھ رہا ہے تو اس نے لوگوں کی موجودگی کی وضاحت کی۔ اس کی آواز نسمبام کی آواز سے مشابہ لیکن قدرے روبوٹک تھی۔

یہ مظاہرہ ظاہر کرتا ہے کہ اے آئی کس طرح کمپیوٹر وژن، وائس سنتھیسس اور گفتگو کی صلاحیت کو یکجا کرکے کسی انسان کا ڈیجیٹل ورژن بنا رہی ہے۔

ڈیجیٹل ڈوپل گینگرز کا بڑھتا رجحان

مستقبل میں افراد اپنے ایسے ڈیجیٹل کلون تیار کرسکتے ہیں جو سوالات کے جواب دیں، پریزنٹیشنز پیش کریں یا صارفین سے بات چیت کریں۔

کاروباری اداروں کے لیے یہ ٹیکنالوجی ایسے ورچوئل نمائندے فراہم کرسکتی ہے جو دن رات صارفین کے ساتھ رابطے میں رہیں۔

لیکن اس کے ساتھ ایک اہم سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کسی شخص کی ڈیجیٹل شناخت کا مالک کون ہوگا؟

جعلی اے آئی کلون کا خطرہ

اے آئی کلونز کے حوالے سے سب سے بڑا خدشہ ان کا غیر مجاز استعمال ہے۔

اگر کسی شخص کی شکل اور آواز کو انتہائی حقیقت پسندانہ انداز میں نقل کیا جاسکتا ہے تو جرائم پیشہ افراد اسے دھوکا دہی، جعلی بیانات یا کسی کی شناخت استعمال کرنے کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔

دفاتر میں بھی یہ سوال اہم ہوگا کہ آیا کسی ملازم کا ڈیجیٹل کلون اس کی واضح اجازت کے بغیر استعمال کیا جاسکتا ہے یا نہیں۔

رازداری اور شناخت کے مسائل

ایک حقیقت پسندانہ اے آئی کلون تیار کرنے کے لیے کسی شخص کی تصاویر، ویڈیوز، آواز اور دیگر ذاتی معلومات درکار ہوسکتی ہیں۔

اس صورتحال میں رضامندی، ذاتی ڈیٹا کے تحفظ اور ڈیجیٹل شناخت کی ملکیت اہم قانونی اور اخلاقی سوالات بن جاتے ہیں۔

جیسے جیسے یہ ٹیکنالوجی مزید ترقی کرے گی، حکومتوں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں پر ممکنہ طور پر ایسے قوانین اور حفاظتی اصول وضع کرنے کا دباؤ بڑھے گا جو ڈیجیٹل کلون کے غلط استعمال کو روک سکیں۔

اے آئی کلون ابھی ابتدائی مرحلے میں

اگرچہ موجودہ مظاہرے حیران کن ہیں، لیکن اے آئی کلون ٹیکنالوجی ابھی ترقی کے ابتدائی مراحل میں ہے۔

کمپنیاں ایسے ڈیجیٹل ڈبلز کو زیادہ حقیقت پسندانہ، ذہین اور مفید بنانے پر کام کر رہی ہیں، جبکہ ساتھ ہی رازداری اور غلط استعمال کے خدشات سے نمٹنے کی کوشش بھی جاری ہے۔

اے آئی کلونز انسانی اور ڈیجیٹل شناخت کے درمیان فرق کو مزید دھندلا رہے ہیں، جس کے باعث اس ٹیکنالوجی کی ذمہ دارانہ ترقی اور مؤثر حفاظتی اقدامات پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہوگئے ہیں۔