شانگلہ: کوئٹہ کی ایک کوئلہ کان میں 30 جولائی کو ہونے والے دھماکے میں جاں بحق شانگلہ کے کوئلہ کان کنوں کے لواحقین نے 4 لاکھ روپے کے معاوضے کے چیک لینے سے انکار کردیا اور کہا ہے کہ یہ رقم ان کے پیاروں کے نقصان کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔

ورکرز ویلفیئر فنڈ بلوچستان کی جانب سے یہ چیک جمعہ کے روز الپوری کے ضلعی ہال میں منعقدہ تقریب کے دوران متاثرہ خاندانوں میں تقسیم کیے جانے تھے۔ تقریب میں ورکرز ویلفیئر فنڈ کے سیکریٹری ذوالفقار احمد، محکمہ کے دیگر حکام، ڈپٹی کمشنر شانگلہ عبداللہ خان، رکن صوبائی اسمبلی رشاد خان اور دیگر افسران موجود تھے۔

تین مختلف دیہات سے تعلق رکھنے والے 32 جاں بحق کوئلہ کان کنوں کے لواحقین کو معاوضے کے چیک دیے جانے تھے، تاہم تقریب اس وقت متاثر ہوئی جب متاثرہ خاندانوں نے چیک وصول کرنے سے انکار کردیا۔

متاثرہ خاندانوں کی نمائندگی کرنے والے افضل الملک افغان نے الزام عائد کیا کہ بلوچستان حکومت کان کنوں کے خاندانوں کو دھوکا دے رہی ہے اور بند کی گئی کان کو دوبارہ کھولنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ لواحقین کو 4 لاکھ روپے کی رقم مبینہ طور پر اس مقصد کے لیے دی جارہی ہے کہ بند کان کو دوبارہ کھولنے کی راہ ہموار کی جاسکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ چیک بلوچستان حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں تو خاندان انہیں قبول نہیں کریں گے۔

افضل الملک افغان نے مزید الزام عائد کیا کہ شانگلہ کے غریب مزدوروں کو خطرناک کوئلہ کانوں میں کام کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے، جبکہ کان کنوں کی حفاظت کے حوالے سے غفلت اور سمجھوتوں کے باعث جان لیوا حادثات میں اضافہ ہورہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کان کنوں کی لاشیں ان کے آبائی علاقوں میں پہنچنے کے بعد خاندان شدید صدمے سے دوچار ہوئے، جبکہ ایسے المناک واقعات کے بعد صرف 4 لاکھ روپے معاوضہ دینا متاثرہ خاندانوں کے ساتھ انصاف نہیں۔

بعد ازاں ڈپٹی کمشنر شانگلہ عبداللہ خان اور ایم پی اے رشاد خان نے کان کنوں کے خاندانوں کو یقین دہانی کرائی کہ قانون سازی، پالیسی سازی اور قوانین پر مؤثر عمل درآمد کے ذریعے کان کنوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔

ڈپٹی کمشنر نے ڈان کو بتایا کہ خاندانوں کو متعدد مرتبہ آگاہ کیا گیا ہے کہ معاوضے کے چیک ورکرز ویلفیئر فنڈ کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں، تاہم لواحقین اب بھی ان کے حوالے سے شکوک و شبہات کا شکار ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایسوسی ایشن کے بعض افراد تقریب کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ڈپٹی کمشنر کے مطابق ان کے پاس 32 معاوضے کے چیک موجود ہیں اور وہ انہیں آئندہ چند روز میں متاثرہ خاندانوں کے حوالے کردیں گے۔