سانحہ نیپال اور پاکستان کا آبی مستقبل
تحریر:محمد محسن اقبال
ہالی ووڈ ایکشن، سنسنی اور تباہی کے مناظر پر فلمیں بنانے میں اپنی مثال آپ ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے کمالات کے ذریعے فلم ساز طوفانوں، زلزلوں، سیلابوں اور تباہی کے مناظر کو اس حیرت انگیز حقیقت نگاری کے ساتھ پردۂ سیمیں پر پیش کرتے ہیں کہ انسانی ذہن دنگ رہ جاتا ہے۔ بعض مناظر اس قدر غیر معمولی اور ناقابلِ یقین دکھائی دیتے ہیں کہ انسان انہیں محض تخیل کی دنیا کا حصہ سمجھنے لگتا ہے۔ لیکن تاریخ میں کبھی کبھی ایسے لمحات بھی آتے ہیں جب حقیقت، افسانے سے کہیں آگے نکل جاتی ہے اور قدرت ایسا منظرِ ہولناکی آشکار کرتی ہے جس کی مکمل نقل نہ کوئی کیمرہ کرسکتا ہے، نہ کوئی مصنف اور نہ مصنوعی ذہانت۔
نیپال میں حالیہ قدرتی آفت بھی ایسا ہی ایک واقعہ تھی۔ جب اس تباہی کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا بھر میں پھیلیں تو ابتدا میں بہت سے لوگوں نے انہیں کسی فلم کے مناظر یا جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا شاہکار سمجھا۔ پہاڑی وادیوں سے مٹیالے پانی کے طوفانی ریلے کا اترنا، دیوہیکل چٹانوں کا ناقابلِ تصور قوت کے ساتھ لڑھکتے ہوئے نیچے آنا اور بستیوں کا لمحوں میں تباہی کے سیلاب میں غرق ہوجانا، کسی سنسنی خیز فلم کے منظر سے کم نہ تھا۔ مگر یہ کوئی فسانہ نہ تھا، کوئی مصنوعی منظر نہ تھا؛ یہ ایک تلخ حقیقت تھی جو نیپال کے لوگوں پر اچانک نازل ہوئی اور جس نے پل بھر میں ان کی زندگیوں کا نقشہ بدل دیا۔
یہ سانحہ ہمالیائی خطے میں پیش آیا، جہاں بلند و بالا گلیشیئرز اور برفانی جھیلیں قطبی علاقوں کے بعد دنیا میں میٹھے پانی کے سب سے بڑے ذخائر میں شمار ہوتی ہیں۔ نیپال تین ہزار سے زائد گلیشیئرز اور ہزاروں برفانی جھیلوں کا مسکن ہے، جن میں سے بہت سی جھیلیں عالمی درجۂ حرارت میں اضافے کے باعث گزشتہ برسوں میں نمایاں طور پر پھیل چکی ہیں۔ سائنسی مطالعات بارہا خبردار کرچکے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی ہمالیہ کی برف پگھلنے کے عمل کو تیز کررہی ہے۔ جب گلیشیئرز پیچھے ہٹتے ہیں تو ان کے پیچھے برف، مٹی اور چٹانوں کی کمزور دیواروں کے اندر وسیع جھیلیں وجود میں آتی ہیں۔ یہ جھیلیں بظاہر برسوں تک پُرسکون رہ سکتی ہیں، لیکن شدید بارش، برفانی تودے، زلزلے یا بڑھتے ہوئے درجۂ حرارت کے باعث جب ان کے قدرتی بند ٹوٹ جاتے ہیں تو پانی کا یہ بے قابو ریلا اپنے راستے میں آنے والی ہر شے کو خس و خاشاک کی مانند بہا لے جاتا ہے۔
حالیہ واقعے کے بارے میں اطلاعات تھیں کہ بلند پہاڑی علاقے میں ایک برفانی جھیل کا بند ٹوٹ گیا، جس کے نتیجے میں پانی کا ایک عظیم الشان ریلا تنگ پہاڑی وادیوں میں غیر معمولی رفتار اور قوت کے ساتھ اتر آیا۔ اس سیلابی ریلے میں برف، پتھر، درخت اور ملبہ بھی شامل ہوگیا، جس نے تباہی کی شدت کئی گنا بڑھا دی۔ راستے میں آنے والی سڑکیں، پل اور آبادیاں شدید نقصان سے دوچار ہوئیں۔ وہ خاندان جو اپنے گھروں میں اطمینان اور سکون کے ساتھ سوئے یا آرام کر رہے تھے، اچانک ایسی قیامت خیز صورتِ حال سے دوچار ہوگئے جس نے چند ہی لمحوں میں ان کی زندگیوں کو بدل کر رکھ دیا۔
ایسے سانحات انسان کو دنیاوی زندگی کی ناپائیداری اور انسانی وجود کی بے بسی پر غور کرنے پر مجبور کردیتے ہیں۔ اس حادثے سے قبل ان وادیوں میں زندگی اپنے معمول کے مطابق رواں دواں تھی۔ لوگ اپنے روزمرہ کے کاموں میں مصروف تھے، گھروں میں چراغ روشن تھے، امیدیں زندہ تھیں اور آنے والے کل کے خواب آنکھوں میں سجے تھے۔ پھر ایک ہی ساعت نے سب کچھ بدل دیا۔ قرآنِ مجید بارہا انسان کو یاد دلاتا ہے کہ آخری گھڑی اچانک آئے گی اور قیامت کے مناظر انسانی تصور سے کہیں زیادہ ہولناک ہوں گے۔ اگرچہ روزِ قیامت کی حقیقی کیفیت اور اس کے اسرار کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے، تاہم قدرتی آفات انسان کو اس کی اپنی کم مائیگی، بے بسی اور اس حقیقت کی یاد ضرور دلاتی ہیں کہ یہ دنیا عارضی ہے اور انسان اس میں ہمیشہ کے لیے نہیں آیا۔
دنیا کے مذاہب اگرچہ بہت سے اعتقادی اور الٰہیاتی معاملات میں ایک دوسرے سے مختلف ہوسکتے ہیں، مگر ایک عالمگیر حقیقت پر سب متفق ہیں کہ موت اٹل ہے اور انسان اپنے اعمال کے لیے جواب دہ ہے۔ نیپال جیسی قدرتی آفات سوئی ہوئی انسانی ضمیر کو بیدار کرتی ہیں اور یہ احساس دلاتی ہیں کہ سائنس اور ٹیکنالوجی میں بے مثال ترقی کے باوجود انسان آج بھی قدرت کی قوتوں کے سامنے بے بس ہے اور بالآخر اس کی زندگی اور کائنات کا پورا نظام خالقِ کائنات کی مشیت ہی کے تابع ہے۔
بظاہر یہ سانحہ قدرت کا ایک ایسا مظہر تھا جس میں انسانی ہاتھ کا کردار بہت کم دکھائی دیتا ہے، لیکن اس حقیقت کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ ماحول کے بگاڑ میں انسانی کوتاہیوں کا حصہ نہایت نمایاں ہے۔ انسان ایک عرصے سے اس نازک ماحولیاتی توازن کے ساتھ خطرناک کھیل کھیل رہا ہے جو اس کی بقا کا ضامن ہے۔ قدرتی وسائل کا بے دریغ استعمال، جنگلات کی کٹائی، آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی کے اسباب نے قدرت کے نظام میں ایسی دراڑیں پیدا کردی ہیں جن کے نتائج اب دنیا کے سامنے ہیں۔
اس اعتبار سے نیپال کا سانحہ محض نیپال کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے ایک انتباہ ہے۔ پاکستان بھی قطبی علاقوں کے علاوہ دنیا کے سب سے بڑے برفانی ذخائر رکھنے والے ممالک میں شامل ہے، بالخصوص قراقرم اور ہمالیائی سلسلۂ کوہ میں موجود گلیشیئرز ہمارے آبی مستقبل کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی، مون سون کے بدلتے ہوئے انداز اور سرحد پار دریاؤں کے پانی کا انتظام ایسے معاملات ہیں جن کا تعلق براہِ راست ہماری قومی سلامتی اور مستقبل سے ہے۔
نیپال میں قدرتی آفت کے نتیجے میں پھیلنے والی ویرانی ہمیں اس طرزِ عمل کی بھی یاد دلاتی ہے جو بھارت کی جانب سے مون سون کے موسم میں پاکستان کی طرف آنے والے دریاؤں کے حوالے سے اختیار کیا جاتا رہا ہے۔ ان دریاؤں پر ڈیم اور ذخائر تعمیر کرکے پانی کو روکا جاتا ہے، اور جب ذخائر پانی سے لبریز ہوجاتے ہیں تو بسا اوقات اچانک پانی چھوڑ دیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں
پاکستان کے میدانی علاقوں کو سیلابی صورتِ حال اور شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
پاکستان ایک طویل عرصے سے اس طرزِ عمل کو آبی جارحیت اور پانی کے دباؤ کے تناظر میں دیکھتا آیا ہے، جبکہ عالمی برادری اکثر خاموش تماشائی بنی رہتی ہے۔ اگر یہ روش بلا روک ٹوک جاری رہی تو خدانخواستہ وہ دن بھی آسکتا ہے جب پاکستان کو بھی ایسی ہی کسی تباہ کن صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑے جس نے نیپال کی وادیوں کو اپنی لپیٹ میں لیا۔ ہمیں اس سے پہلے کہ کوئی بڑا سانحہ ہمارے دروازے پر دستک دے، اپنی حکمتِ عملی پر نظرثانی کرنا ہوگی، اپنے آبی وسائل کو محفوظ بنانا ہوگا اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے اپنی تیاریوں کو غیر معمولی حد تک مضبوط کرنا ہوگا۔ اگر دنیا اس ناانصافی پر خاموش تماشائی بنی رہتی ہے تو پھر اپنی بقا، اپنے پانی اور اپنی آنے والی نسلوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کرنا ہماری اپنی ذمہ داری ہے۔

نیپال کا یہ سانحہ ہمیں بہت سے سبق دیتا ہے، اور سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ قدرت کے انتباہات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ اقوام کو ماحولیاتی تحفظ، جدید ابتدائی انتباہی نظام، سیلاب سے بچاؤ کے مؤثر انتظامات اور علاقائی تعاون میں سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔ سائنسی علم کو ذمہ دارانہ پالیسیوں کے ساتھ جوڑنا ہوگا، جبکہ معاشروں میں قدرت کے احترام، ماحول کی حفاظت اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکرگزاری کا شعور پیدا کرنا ہوگا۔ اگر ہم نے ان ذمہ داریوں سے غفلت برتی تو لاکھوں انسان ایسے مصائب کا شکار ہوسکتے ہیں جنہیں بروقت تدبیر اور دانش مندی سے ٹالا جاسکتا تھا۔
تاریخ گواہ ہے کہ تہذیبیں اس وقت عروج پاتی ہیں جب وہ عقل، بصیرت اور دوراندیشی سے کام لیتی ہیں، اور اس وقت زوال کا شکار ہوتی ہیں جب ان کے سامنے موجود واضح نشانیاں اور انتباہات نظرانداز کردیے جاتے ہیں۔ اگر انسان قدرت کے ساتھ بے اعتدالی کا سلوک جاری رکھتا رہا، اگر اقوام موسمیاتی تبدیلی اور آبی وسائل جیسے بنیادی مسائل کو حل کرنے میں ناکام رہیں، تو آنے والی نسلوں کے لیے اس سے بھی بڑے سانحات منتظر ہوسکتے ہیں۔
قدرت جب مسکراتی ہے تو پہاڑوں پر سبزہ اترتا ہے، دریاؤں میں زندگی دوڑتی ہے اور وادیاں گیت گاتی ہیں؛ لیکن جب یہی قدرت اپنے جلال کا ایک رخ دکھاتی ہے تو پہاڑ بھی گویا رو پڑتے ہیں، وادیاں ماتم کدہ بن جاتی ہیں اور انسان اپنی تمام تر قوت، علم اور غرور کے باوجود اپنی بے بسی کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ انسانیت کو ہر قسم کی آفت، وبا، سیلاب، زلزلے اور قدرتی و انسانی تباہی سے محفوظ فرمائے، اقوام کو عدل، تعاون اور باہمی احترام کی راہ دکھائے، ہمیں قدرت کے انتباہات کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے، اور پاکستان سمیت پوری دنیا کو ایسے فیصلے کرنے کی بصیرت دے جو آنے والی نسلوں کے لیے امن، پانی، ماحول اور زندگی کو محفوظ بنا سکیں۔ آمین۔

