امن بلڈ ڈونر سوسائٹی کے وفد کی وکلاء و سماجی شخصیات سے ملاقات، شمولیت کی دعوت
سیالکوٹ (سمیع اللہ وٹو): امن بلڈ ڈونر سوسائٹی آف پاکستان کے وفد نے مرکزی صدر معروف سماجی و فلاحی شخصیت زاہد شریف، میڈم رخسانہ آصف اور سکندر علی کی قیادت میں قائد لاء چیمبر کا دورہ کیا، جہاں وکلاء اور سماجی شخصیات سے ملاقات کی گئی اور انہیں امن بلڈ ڈونر سوسائٹی آف پاکستان میں شمولیت کی دعوت دی گئی۔
ملاقات کے دوران مرکزی صدر امن بلڈ ڈونر سوسائٹی آف پاکستان زاہد شریف نے سوسائٹی کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ تنظیم کا بنیادی مقصد خون کے عطیات کی فراہمی کے ذریعے قیمتی انسانی جانوں کو بچانا اور دکھی انسانیت کی خدمت کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک انسانی جان بچانا پوری انسانیت کی خدمت کے مترادف ہے۔ زاہد شریف نے وکلاء برادری سے اپیل کی کہ وہ نیکی اور خدمتِ انسانیت کے اس مشن میں امن بلڈ ڈونر سوسائٹی کا ساتھ دیں اور اپنے حصے کی شمع روشن کریں۔
اس موقع پر معروف قانون دان میڈم شمع جاوید ملک ایڈووکیٹ ہائی کورٹ اور ملک جاوید اسلم نے امن بلڈ ڈونر سوسائٹی آف پاکستان کے فلاحی مشن کو سراہتے ہوئے اپنے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
انہوں نے کہا کہ یہ ان کے لیے باعثِ خوش نصیبی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں انسانیت کی خدمت جیسے نیک اور فلاحی کام میں اپنا کردار ادا کرنے کا موقع دیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ جلد وکلاء کے ایک گروپ کی صورت میں امن بلڈ ڈونر سوسائٹی کے کارواں میں شامل ہوں گے۔
مقررین نے کہا کہ خون کا عطیہ ایک ایسا عمل ہے جو ہنگامی حالات میں مریضوں، حادثات کے متاثرین اور مختلف طبی ضروریات کا سامنا کرنے والے افراد کے لیے زندگی کی امید بن سکتا ہے۔ انہوں نے معاشرے کے صاحبِ استطاعت اور مخیر افراد سے بھی اپیل کی کہ وہ رضاکارانہ طور پر خون کے عطیات کے اس مشن کا حصہ بنیں۔
ملاقات میں شریک وکلاء اور سماجی شخصیات نے امن بلڈ ڈونر سوسائٹی آف پاکستان کی جانب سے خون کے عطیات کے ذریعے انسانی جانیں بچانے کی کوششوں کو قابلِ تحسین قرار دیا اور تنظیم کے ساتھ بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
اس موقع پر ابصار وڑایچ آف ساہووالہ سمیت دیگر وکلاء، سماجی شخصیات اور معززین بھی موجود تھے۔
ملاقات کے اختتام پر امن بلڈ ڈونر سوسائٹی کے وفد نے شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ خون کے عطیات کے ذریعے انسانی جانیں بچانے اور خدمتِ انسانیت کے مشن کو مزید وسیع کیا جائے گا۔

