مشرق وسطیٰ کی جنگ پاکستان اثرات 0

مشرق وسطیٰ کی جنگ اور پاکستان کے ممکنہ راستے

(Publish from Houston Texas USA)

(میاں افتخار احمد)

مشرق وسطیٰ کی جنگ پاکستان کے لیے خطرات، مواقع اور پالیسی چیلنجز

مشرق وسطیٰ میں شروع ہونے والی نئی جنگ نے پوری دنیا کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے اور اس جنگ کے اثرات پاکستان جیسے ہمسایہ ممالک پر بھی دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف وسیع پیمانے پر فوجی کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں اور ایرانی رہبر معظم آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت متعدد اعلیٰ حکام ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ اس جنگ کا دائرہ بتدریج وسیع ہوتا جا رہا ہے اور اب سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین اور کویت بھی ایرانی حملوں کی زد میں ہیں۔ چونکہ ہمیں معلوم نہیں کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ میں شروع ہونے والی یہ جنگ کس طرح آگے بڑھے گی یا کہاں ختم ہوگی، اس لیے بہتر ہے کہ ہم چند وسیع امکانات پر غور کریں اور یہ جنگ کس طرح آگے بڑھے گی اور کہاں جا کر ختم ہوگی، اس کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ ایسی صورت حال میں بہتر یہی ہے کہ تمام ممکنہ منظرناموں پر غور کیا جائے اور ہر ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہا جائے کیونکہ پہلا ممکنہ منظرنامہ یہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل، کئی اہم ممالک کی حمایت کے ساتھ، ایک طاقتور اتحاد تشکیل دیتے ہیں اور یہ امکان رکھتے ہیں کہ ایران کی قیادت میں موجود مزاحمت کو شکست دے دیں۔ اس صورت میں پاکستان کی مغربی سرحدوں پر ان کی موجودگی یا اثر و رسوخ بڑھ جائے گا اور خطے کے کچھ اور ممالک بھی ان کے ساتھ شامل ہو سکتے ہیں اور پھر وہ ہم سے کیا مطالبات کریں گے اور ہم ان کا جواب کیسے دیں گے۔ اس صورتحال میں پاکستان سے کیے جانے والے ممکنہ مطالبات اور ان کے جوابات پر ابھی سے غور کرنا ضروری ہے کیونکہ دوسرا ممکنہ منظرنامہ یہ ہے کہ جنگ چند ہفتوں سے زیادہ طول پکڑ سکتی ہے اور خطہ بدستور عدم استحکام کا شکار رہے گا جبکہ معاشی اثرات مزید سنگین ہوتے جائیں گے اور اندرونی بغاوتیں اور عوامی بے چینی بھی تیزی سے بڑھ سکتی ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان کو اپنی اندرونی صورتحال سنبھالنے کے ساتھ ساتھ علاقائی سطح پر بھی متوازن پالیسی اپنانا ہوگی اور تیسرا ممکنہ منظرنامہ ابتدائی حالات کو دیکھتے ہوئے یہ بھی ممکن ہے کہ ایران ڈٹ کر مقابلہ کرے بلکہ کچھ برتری بھی حاصل کر لے۔ ایسی صورت میں حملہ آور ممالک اپنی ساکھ بچانے یا مایوسی کے عالم میں کیا قدم اٹھا سکتے ہیں اور اسرائیل کے لیے یہ وجودی خطرہ بن سکتا ہے اور وہ سیمسن آپشن استعمال کرنے کی طرف جا سکتا ہے یعنی ایٹمی ہتھیار استعمال کر کے بعض علاقوں کو تباہ کر دینا، چاہے اس میں خود تباہی کا خطرہ بھی کیوں نہ ہو۔ 1973 کی یوم کپور جنگ کے ابتدائی دنوں میں بھی اس پر غور کیا گیا تھا جب اسرائیل کو شدید نقصان کا سامنا تھا اور اس سے کم انتہائی قدم یہ ہو سکتا ہے کہ جنگ کا دائرہ مزید پھیلا دیا جائے جس سے پوری دنیا خصوصاً مشرق وسطیٰ کے ممالک شدید بحران سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ ان تمام ممکنہ منظرناموں کے پیش نظر پاکستان کو چاہیے کہ وہ ہر صورتحال کے لیے تیار رہے اور اپنے قومی مفادات کے تحفظ کو یقینی بنائے۔
پاکستان کی جغرافیائی اور اسٹریٹجک اہمیت: پاکستان جغرافیائی اعتبار سے انتہائی اہم مقام پر واقع ہے اور اس کی مغربی سرحدیں ایران اور افغانستان سے ملتی ہیں جو مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے براہ راست متاثر ہو سکتی ہیں جبکہ پاکستان کی خلیج فارس سے قربت اور بحر ہند تک رسائی اسے علاقائی اور عالمی طاقتوں کے لیے اہم بناتی ہے۔ پاکستان کی ایٹمی صلاحیتیں اسے خطے میں ایک خاص مقام عطا کرتی ہیں اور یہ صلاحیتیں ذمہ داریاں بھی عائد کرتی ہیں کہ پاکستان کو اپنی ایٹمی اثاثوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہوگا اور کسی بھی غیر متوقع صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔ پاکستان کی معیشت پہلے ہی مشکلات کا شکار ہے اور مشرق وسطیٰ کی جنگ سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے پاکستان کی معیشت پر مزید دباؤ بڑھے گا جبکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر متاثر ہو سکتی ہیں اور برآمدات میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ پاکستان کے اندرونی حالات بھی تشویشناک ہیں اور سیاسی عدم استحکام، دہشت گردی کے واقعات، اور معاشی مشکلات عوام میں بے چینی پیدا کر سکتی ہیں جبکہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے اثرات ان مسائل کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔ پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے اور ان نوجوانوں کو مثبت سمت میں استعمال کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ ملک کی ترقی میں حصہ لے سکیں اور مشکل وقت میں قومی خدمات انجام دے سکیں۔ پاکستان کا دفاعی نظام علاقائی سطح پر اہم ہے لیکن اسے مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے اور جدید ٹیکنالوجی حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ افواج کی تربیت پر بھی توجہ دینی ہوگی۔ پاکستان کے پاس قدرتی وسائل کی کوئی کمی نہیں ہے لیکن ان وسائل کو صحیح طریقے سے استعمال کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ملک کی معیشت کو مضبوط بنایا جا سکے اور عوام کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔ پاکستان کا تعلیمی نظام بھی بہتری کی ضرورت رکھتا ہے کیونکہ تعلیم یافتہ نوجوان ہی ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں اور مشکل وقت میں دانشمندانہ فیصلے کر سکتے ہیں۔

ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کی اہمیت، عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات کا ازسرنو جائزہ

پاکستان کے ہمسایہ ممالک میں ایران، افغانستان، چین، بھارت اور وسطی ایشیائی ریاستیں شامل ہیں اور مشرق وسطیٰ کی جنگ ان تمام ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو متاثر کر سکتی ہے۔ ایران پاکستان کا مغربی ہمسایہ ہے اور مشرق وسطیٰ کی جنگ کا مرکز ہے جبکہ ایران کے ساتھ پاکستان کے تاریخی، مذہبی اور ثقافتی تعلقات ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور توانائی کے معاہدے بھی ہیں۔ ایران پر حملے کی صورت میں پاکستان کو اپنے مغربی ہمسایہ کے ساتھ تعلقات کا ازسرنو جائزہ لینا پڑے گا اور پاکستان ایران کے ساتھ اپنی سرحدوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ سفارتی تعلقات برقرار رکھنے کی کوشش کرے گا۔ افغانستان پاکستان کے لیے اسٹریٹجک اہمیت رکھتا ہے اور افغانستان کی سرزمین کسی بھی صورت پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے جبکہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے بعد افغانستان کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے اور پاکستان کو افغانستان میں استحکام کو یقینی بنانے کے لیے کردار ادا کرنا ہوگا۔ چین پاکستان کا دیرینہ دوست اور اسٹریٹجک پارٹنر ہے اور چین پاکستان اقتصادی راہداری دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط کر رہی ہے جبکہ مشرق وسطیٰ کی جنگ میں چین کا کردار اہم ہو سکتا ہے اور پاکستان کو چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ بھارت کے ساتھ پاکستان کے تعلقات تاریخی طور پر کشیدہ رہے ہیں لیکن مشرق وسطیٰ کی جنگ علاقائی سلامتی کے مشترکہ خدشات پیدا کر سکتی ہے اور اگر بھارت صورتحال کی سنگینی کو محسوس کرے تو شاید قریب آ جائے۔ ہمارے سامنے موجود خطرہ اس طرح کے انتظام کو ممکن بنا سکتا ہے چاہے عارضی طور پر ہی کیوں نہ ہو اور دونوں ممالک کو چاہیے کہ وہ علاقائی امن و استحکام کے لیے مل کر کام کریں۔ وسطی ایشیائی ریاستیں بھی پاکستان کے لیے اہم ہیں اور ان ممالک کے ساتھ تجارتی اور توانائی کے معاہدے پاکستان کے مفاد میں ہیں جبکہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے اثرات ان ممالک پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں اور امریکہ نے مختلف مواقع پر پاکستان کو استعمال کیا اور بعد میں چھوڑ دیا جبکہ افغانستان جنگ کے بعد امریکہ کا رویہ پاکستان کے لیے سبق آموز رہا ہے اور مشرق وسطیٰ کی جنگ میں امریکہ کے ساتھ تعلقات کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ امریکہ کا ریکارڈ یہ رہا ہے کہ وہ اپنے مفادات پورے ہونے کے بعد اپنے ساتھیوں کو چھوڑ دیتا ہے اور پاکستان کو اس حقیقت کو سمجھنا ہوگا کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات میں حد درجہ احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔ روس کے ساتھ پاکستان کے تعلقات حالیہ برسوں میں بہتر ہوئے ہیں اور روس یوکرین جنگ کے بعد مغرب سے مزید دور ہو گیا ہے اور چین کے ساتھ اس کے تعلقات مضبوط ہو رہے ہیں جبکہ مشرق وسطیٰ کی جنگ میں روس کا کردار اہم ہو سکتا ہے اور پاکستان کو روس کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ چین پاکستان کا سب سے بڑا دوست اور تجارتی پارٹنر ہے اور چین کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانا پاکستان کے مفاد میں ہے جبکہ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جا رہا ہے۔ یورپی یونین پاکستان کی برآمدات کے لیے اہم منڈی ہے اور مشرق وسطیٰ کی جنگ کے معاشی اثرات یورپ کو بھی متاثر کریں گے جبکہ پاکستان کو یورپی ممالک کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات برقرار رکھنے کی کوشش کرنی ہوگی۔ ترکی اور سعودی عرب جیسے مسلم ممالک کے ساتھ پاکستان کے گہرے تعلقات ہیں اور ان ممالک کے ساتھ مل کر پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن قائم کرنے میں کردار ادا کر سکتا ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ کسی ایک طاقت کے ساتھ بہت زیادہ قربت اختیار کرنے کی بجائے تمام عالمی طاقتوں کے ساتھ متوازن تعلقات رکھے تاکہ کسی بھی صورت حال میں پاکستان کے مفادات محفوظ رہ سکیں۔

معاشی اثرات اور تیاریاں، توانائی کی حفاظت اور متبادل ذرائع

مشرق وسطیٰ کی جنگ کے معاشی اثرات پوری دنیا پر پڑیں گے اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے پاکستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ممالک پر شدید دباؤ پڑے گا جبکہ پاکستان کو توانائی کے متبادل ذرائع تلاش کرنے ہوں گے اور توانائی کی بچت کے اقدامات کرنا ہوں گے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر پاکستان کی معیشت کا اہم حصہ ہیں اور مشرق وسطیٰ خاص طور پر سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک میں لاکھوں پاکستانی مقیم ہیں جبکہ جنگ کی صورت میں ان کی ملازمتیں متاثر ہو سکتی ہیں اور ترسیلات زر میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ پاکستان کی برآمدات بھی متاثر ہو سکتی ہیں اور ٹیکسٹائل، چاول، کھیلوں کا سامان اور دیگر مصنوعات کی برآمدات کے لیے نئی منڈیوں کی تلاش کرنی ہوگی جبکہ مقامی صنعتوں کو فروغ دینا ہوگا تاکہ درآمدات پر انحصار کم کیا جا سکے۔ کفایت شعاری اب ایک ناگزیر ضرورت بن گئی ہے اور پاکستان کو غیر ضروری اخراجات کم کرنے ہوں گے اور وسائل کو ترجیحی بنیادوں پر استعمال کرنا ہوگا جبکہ زرعی شعبے پر توجہ دے کر خوراک کی ضروریات پوری کرنے کی کوشش کرنی ہوگی۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ مقامی سطح پر اشیاء کی پیداوار بڑھائے اور درآمدات کو کم سے کم کرے تاکہ معیشت پر بیرونی دباؤ کم کیا جا سکے۔ پاکستان کو غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے اور خاص طور پر چین، سعودی عرب اور قطر جیسے ممالک سے سرمایہ کاری لانے کی کوشش کرنی ہوگی۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دے اور نوجوانوں کو آئی ٹی کے شعبے میں تربیت دے تاکہ وہ بیرون ملک خدمات فراہم کر کے زرمبادلہ کما سکیں۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ سیاحت کے شعبے کو فروغ دے کیونکہ پاکستان میں قدرتی خوبصورتی کے بیشمار مقامات ہیں جو غیر ملکی سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کر سکتے ہیں۔
توانائی پاکستان کا اہم مسئلہ ہے اور مشرق وسطیٰ کی جنگ سے توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے پاکستان کی معیشت پر شدید دباؤ پڑے گا جبکہ پاکستان کو توانائی کے متبادل ذرائع تلاش کرنے ہوں گے۔ تاجکستان، کرغزستان اور دیگر وسطی ایشیائی ممالک سے بجلی درآمد کرنے کے منصوبوں کو تیز کرنا ہوگا اور سی اے ایس اے 1000 منصوبہ پاکستان کے لیے اہم ہے جس سے پاکستان کو سستی بجلی حاصل ہو سکے گی۔ شمالی جنوبی گیس پائپ لائن منصوبے کو مکمل کرنا ہوگا اور روس اور پاکستان کے درمیان اس منصوبے پر کام جاری ہے جس سے پاکستان کو قدرتی گیس حاصل ہو سکے گی اور توانائی کے بحران سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔ قابل تجدید توانائی کے منصوبوں پر توجہ دینی ہوگی اور شمسی، ہوا اور پن بجلی کے منصوبوں سے توانائی کی ضروریات پوری کرنے کی کوشش کرنی ہوگی کیونکہ پاکستان میں شمسی توانائی کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ توانائی کی بچت کے اقدامات بھی کرنے ہوں گے اور عوام میں شعور پیدا کرنا ہوگا اور توانائی بچانے والے آلات کے استعمال کو فروغ دینا ہوگا جبکہ صنعتی شعبے میں توانائی کی بچت کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرنی ہوگی۔ کوئلے سے بجلی بنانے کے منصوبوں پر بھی کام کرنا ہوگا کیونکہ پاکستان میں کوئلے کے وسیع ذخائر موجود ہیں اور انہیں استعمال کر کے سستی بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔ ایٹمی توانائی کے منصوبوں کو بھی جاری رکھنا ہوگا کیونکہ ایٹمی بجلی سستی اور قابل اعتماد ذریعہ ہے اور چین اس سلسلے میں پاکستان کی مدد کر رہا ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ توانائی کے شعبے میں نجی سرمایہ کاری کو فروغ دے تاکہ توانائی کی پیداوار میں اضافہ کیا جا سکے اور لوڈ شیڈنگ سے نجات حاصل کی جا سکے۔

خوراک کی حفاظت اور زرعی اصلاحات، داخلی تیاریاں اور قومی اتفاق رائے

خوراک کی حفاظت پاکستان کے لیے اہم مسئلہ ہے اور مشرق وسطیٰ کی جنگ سے خوراک کی قیمتیں بھی متاثر ہو سکتی ہیں جبکہ پاکستان کو زرعی شعبے پر خصوصی توجہ دینی ہوگی۔ گندم، چاول، گنا اور دیگر اہم فصلوں کی پیداوار بڑھانے کی ضرورت ہے اور کسانوں کو سستی کھاد، بیج اور دیگر سہولیات فراہم کرنی ہوں گی تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کر سکیں۔ آبی وسائل کا موثر استعمال کرنا ہوگا اور ڈیموں کی تعمیر، نہروں کی مرمت اور آبپاشی کے جدید طریقوں کو فروغ دینا ہوگا کیونکہ پانی کی کمی پاکستان کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے۔ خوراک کا ذخیرہ بھی بڑھانا ہوگا اور ضرورت پڑنے پر عوام کو خوراک فراہم کرنے کے لیے حکومت کو خوراک کا ذخیرہ رکھنا ہوگا جبکہ غیر قانونی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف کارروائی کرنی ہوگی۔ زرعی تحقیق پر توجہ دینی ہوگی اور جدید بیج اور کھادیں متعارف کروانی ہوں گی تاکہ پیداوار میں اضافہ کیا جا سکے جبکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے بھی اقدامات کرنے ہوں گے۔ کاشتکاروں کو منڈی تک رسائی فراہم کرنی ہوگی اور انہیں مناسب قیمت دلوانے کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ وہ اپنی فصلوں کا مناسب دام حاصل کر سکیں۔ زرعی قرضوں کی فراہمی کو آسان بنانا ہوگا تاکہ کسان جدید آلات اور ٹیکنالوجی خرید سکیں اور پیداوار بڑھا سکیں۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ نامیاتی کاشتکاری کو فروغ دے کیونکہ بین الاقوامی منڈی میں نامیاتی مصنوعات کی مانگ تیزی سے بڑھ رہی ہے اور پاکستان اس شعبے میں بہتر کارکردگی دکھا سکتا ہے۔
مشرق وسطیٰ کی جنگ کے ممکنہ اثرات سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو داخلی سطح پر تیاریاں کرنی ہوں گی اور قومی اتفاق رائے سب سے اہم ضرورت ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں، اداروں اور اسٹیک ہولڈرز کو مل کر ایک مشترکہ ایجنڈا تشکیل دینا ہوگا۔ ہنگامی نوعیت کی کابینہ کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے اور اس کابینہ میں دفاع، خارجہ امور، خزانہ، توانائی اور دیگر اہم شعبوں کے ماہرین شامل ہونے چاہئیں تاکہ یہ کابینہ روزانہ کی بنیاد پر صورتحال کا جائزہ لے اور فوری فیصلے کر سکے۔ عوامی اعتماد پیدا کرنا انتہائی اہم ہے اور عوام کو صورتحال سے آگاہ کرنا ہوگا اور انہیں یقین دلانا ہوگا کہ حکومت ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے جبکہ جھوٹی امیدیں دلانے کی بجائے حقائق سے آگاہ کرنا زیادہ بہتر ہے۔ مذہبی اور سیاسی رہنماؤں کو بھی مثبت کردار ادا کرنا ہوگا اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دینا ہوگا اور کسی بھی قسم کی عدم برداشت سے بچنا ہوگا جبکہ عوامی جذبات کو بھڑکانے والی تقریروں اور بیانوں سے گریز کرنا ہوگا۔ میڈیا کو بھی اپنی ذمہ داری نبھانی ہوگی اور غلط خبروں اور افواہوں کی نشاندہی کرنی ہوگی اور عوام کو حقائق سے آگاہ کرنا ہوگا جبکہ قومی مفاد کو ترجیح دینی ہوگی۔ سول سوسائٹی کی تنظیموں کو بھی فعال کردار ادا کرنا ہوگا اور عوام میں شعور پیدا کرنا ہوگا اور حکومت کی کوششوں میں معاونت فراہم کرنی ہوگی۔ نوجوانوں کو قومی خدمات میں حصہ لینے کی ترغیب دینی ہوگی اور مختلف رضاکارانہ تنظیموں میں شامل ہو کر وہ قومی خدمات انجام دے سکتے ہیں اور مشکل وقت میں ملک کے کام آ سکتے ہیں۔

دفاعی تیاریاں اور قومی سلامتی، سفارتی حکمت عملی اور بین الاقوامی کردار

پاکستان کی دفاعی صلاحیتیں علاقائی سطح پر اہم ہیں اور مشرق وسطیٰ کی جنگ کے پیش نظر ان صلاحیتوں کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے جبکہ مغربی سرحدوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہوگا اور ایران اور افغانستان سے ملنے والی سرحدوں پر اضافی نفری تعینات کرنی ہوگی۔ ایٹمی اثاثوں کی حفاظت انتہائی اہم ہے اور پاکستان کو یقینی بنانا ہوگا کہ اس کے ایٹمی اثاثے کسی بھی قسم کے خطرے سے محفوظ ہیں جبکہ کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کو مزید موثر بنانا ہوگا۔ سائبر سیکیورٹی کو بھی بہتر بنانا ہوگا اور ممکنہ سائبر حملوں سے نمٹنے کے لیے ماہرین کی ٹیمیں تشکیل دینی ہوں گی اور ضروری ٹیکنالوجی حاصل کرنی ہوگی کیونکہ جدید جنگوں میں سائبر حملوں کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے۔ انٹیلی جنس نیٹ ورک کو مزید فعال بنانا ہوگا اور ہمسایہ ممالک اور خطے میں ہونے والی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھنی ہوگی اور بروقت معلومات فراہم کرنی ہوں گی تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے قبل از وقت نمٹا جا سکے۔ پاکستان کی دفاعی صنعت کو مزید مضبوط بنانا ہوگا اور ہتھیاروں اور گولہ بارود کی پیداوار میں خود کفالت حاصل کرنی ہوگی تاکہ کسی بھی صورت حال میں بیرونی ممالک پر انحصار نہ کرنا پڑے۔ پاکستان کو جدید ٹیکنالوجی حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی افواج کی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دینی ہوگی اور انہیں جدید جنگی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ دوست ممالک کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں کرے تاکہ افواج کے تجربات میں اضافہ ہو اور باہمی تعاون کو فروغ ملے۔
پاکستان کو ایک متوازن اور موثر سفارتی حکمت عملی اپنانا ہوگی اور اقوام متحدہ میں اپنا مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا اور جنگ بندی اور امن کے لیے قراردادیں پیش کرنی ہوں گی جبکہ عالمی برادری کو مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے آگاہ کرنا ہوگا۔ اسلامی تعاون تنظیم میں پاکستان کا اہم کردار ہے اور تنظیم کو فعال کرنا ہوگا اور مسلم ممالک کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرنا ہوگا جبکہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات بہتر بنانے میں پاکستان مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔ غیر وابستہ ممالک کی تحریک میں بھی پاکستان فعال کردار ادا کر سکتا ہے اور ترقی پذیر ممالک کے مسائل کو اجاگر کرنا ہوگا اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے آواز اٹھانا ہوگی۔ دو طرفہ سفارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانا ہوگا اور چین، روس، ترکی، سعودی عرب اور دیگر اہم ممالک کے ساتھ اعلیٰ سطح پر رابطے رکھنے ہوں گے تاکہ سفارتی تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم کرنے کے لیے کردار ادا کرے اور تمام فریقین کے ساتھ بات چیت کرے تاکہ جنگ کا خاتمہ ہو سکے اور خطے میں استحکام واپس آ سکے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ عالمی فورمز پر کشمیر کے مسئلے کو بھی اجاگر کرے اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کو دنیا کے سامنے لائے تاکہ عالمی برادری اس مسئلے پر توجہ دے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ افغانستان میں استحکام کے لیے کردار ادا کرے اور افغان حکومت کے ساتھ مل کر کام کرے تاکہ افغانستان دہشت گردی کی آماجگاہ نہ بن سکے۔

عوامی آگاہی اور شہریوں کی ذمہ داریاں، مستقبل کی حکمت عملی اور قومی ترجیحات

عوام کو موجودہ صورتحال سے آگاہ کرنا بہت ضروری ہے اور میڈیا کو اس حوالے سے مثبت کردار ادا کرنا ہوگا جبکہ غلط خبروں اور افواہوں کی نشاندہی کرنی ہوگی اور عوام کو حقائق سے آگاہ کرنا ہوگا۔ عوام کو بھی اپنی ذمہ داریاں نبھانی ہوں گی اور کفایت شعاری اپنانا ہوگی، غیر ضروری اخراجات سے بچنا ہوگا اور حکومتی ہدایات پر عمل کرنا ہوگا جبکہ قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دینی ہوگی۔ مقامی کمیونٹیز کو منظم کرنا ہوگا اور مشکل وقت میں ایک دوسرے کی مدد کرنا ہوگی اور اجتماعی مسائل کا حل تلاش کرنا ہوگا جبکہ باہمی تعاون سے بہت سے مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔ نوجوانوں کو قومی خدمات میں حصہ لینے کی ترغیب دینی ہوگی اور مختلف رضاکارانہ تنظیموں میں شامل ہو کر وہ قومی خدمات انجام دے سکتے ہیں اور مشکل وقت میں ملک کے کام آ سکتے ہیں۔ خواتین کو بھی قومی خدمات میں حصہ لینا چاہیے اور وہ گھر سے باہر نکل کر مختلف شعبوں میں اپنا کردار ادا کر سکتی ہیں اور ملک کی ترقی میں حصہ لے سکتی ہیں۔ تعلیم یافتہ طبقے کو چاہیے کہ وہ عوام میں شعور پیدا کرے اور انہیں ان کے حقوق اور فرائض سے آگاہ کرے تاکہ عوام بہتر فیصلے کر سکیں اور ملک کے مفاد میں کام کر سکیں۔ عوام کو چاہیے کہ وہ قائدین کا تنقیدی جائزہ لیں اور صرف انہی لوگوں کو ووٹ دیں جو واقعی ملک کی خدمت کر سکتے ہیں اور عوام کے مسائل حل کر سکتے ہیں۔
پاکستان کو چاہیے کہ وہ اندرونی طور پر متحد ہو اور قومی مفاد کو اولین ترجیح دے اور سیاسی جماعتیں، ادارے اور عوام سب کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ مشکل وقت میں پاکستان مضبوطی سے کھڑا رہ سکے۔ ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانا ہوگا اور ایران، افغانستان، چین اور دیگر ممالک کے ساتھ باہمی اعتماد پیدا کرنا ہوگا تاکہ علاقائی تعاون کو فروغ دیا جا سکے اور مشترکہ مسائل کا حل تلاش کیا جا سکے۔ عالمی طاقتوں کے ساتھ متوازن تعلقات رکھنے ہوں گے اور کسی ایک طاقت کے ساتھ بہت زیادہ قربت نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے جبکہ تمام ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات پاکستان کے مفاد میں ہیں۔ معیشت کو مضبوط بنانا ہوگا اور مقامی صنعتوں کو فروغ دینا ہوگا، برآمدات بڑھانی ہوں گی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا ہوگا تاکہ پاکستان معاشی طور پر خود کفیل بن سکے۔ دفاعی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانا ہوگا اور جدید ٹیکنالوجی حاصل کرنی ہوگی اور افواج کو تربیت دینی ہوگی تاکہ پاکستان کا دفاع ہر صورت ممکن ہو سکے۔ خطابت اور جذباتی بیانات سے گریز کرنا ہوگا کیونکہ یہ الٹا نقصان پہنچاتے ہیں اور ٹھوس اقدامات عوام میں اعتماد پیدا کرتے ہیں اور خاموشی دشمن کو اندازے لگانے پر مجبور رکھتی ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ موجودہ صورتحال کو ایک موقع کے طور پر دیکھے اور مشکلات کے باوجود پاکستان اپنی پوزیشن مضبوط کر سکتا ہے اور علاقائی سیاست میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ مستقبل غیر یقینی ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں اور پاکستان کے پاس وسائل، صلاحیتیں اور اہل افراد موجود ہیں اور ضرورت ہے ان کو صحیح طریقے سے استعمال کرنے کی، عوام میں اعتماد پیدا کرنے کی، اداروں کو مضبوط بنانے کی، اور قومی مفاد کو اولین ترجیح دینے کی۔ مشرق وسطیٰ کی جنگ خواہ کسی بھی نتیجے پر پہنچے، پاکستان کو اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرنا ہے اور اس کے لیے دوراندیشی، حکمت عملی اور قومی یکجہتی کی ضرورت ہے اور پاکستان ان چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور امید ہے کہ وہ کامیاب ہوگا۔

مزید پڑھنے کے لیے براہ کرم ہمارے مضامین دیکھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں