0

وائٹ ہاؤس کی خفیہ حکمت عملی: کیا محمد باقر قالیباف ایران کے اگلے رہنما ہوں گے؟

(میاں افتخار احمد)

تہران میں قیادت کے بحران کے بیچ امریکہ نے پارلیمنٹ سپیکر کو ممکنہ مذاکراتی پارٹنر قرار دے دیا

اسلام آباد / تہران ( مانیٹرنگ ڈیسک): عالمی سیاست میں ایک چونکا دینے والی پیش رفت کے تحت امریکی انتظامیہ ایران کے پارلیمنٹ سپیکر محمد باقر قالیباف کو ممکنہ مذاکراتی پارٹنر اور مستقبل کے رہنما کے طور پر جانچ رہی ہے۔ معروف امریکی جریدے پولیٹیکو اور خبر رساں ادارے روئٹرز کی رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس نے قالیباف کو ایک ایسی شخصیت قرار دیا ہے جو جنگ کے بجائے مذاکرات کے ذریعے تنازع کا حل نکال سکتی ہے۔ یہ خبر ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ایران میں قیادت کا شدید بحران ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں میں شہید ہو گئے تھے جبکہ ان کے جانشین علی لاریجانی بھی 17 مارچ کو اسی طرح کے حملے میں ہلاک ہو گئے۔ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای، جو نئے سپریم لیڈر کے امیدوار تھے، روس میں علاج کے لیے نامعلوم مقام پر چلے گئے ہیں۔
قالیباف کون ہیں؟ سخت گیر سے ممکنہ پارٹنر تک : محمد باقر قالیباف، 65 سال، محض ایک سیاست دان نہیں ہیں۔ وہ پاسداران انقلاب کے سینئر کمانڈر رہ چکے ہیں اور ایران عراق جنگ میں فرنٹ لائن پر لڑے ہیں۔ بعد ازاں وہ تہران کے میئر بھی رہے جہاں انہوں نے شہر کی انفراسٹرکچر کی تعمیر نو میں اہم کردار ادا کیا۔ 2005 سے اب تک وہ تین بار صدارتی انتخاب لڑ چکے ہیں لیکن کامیابی نہیں ملی۔ 2020 سے وہ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر ہیں اور اس عہدے پر ان کا اثر و رسوخ قومی سلامتی اور فوجی حکمت عملی تک پھیلا ہوا ہے۔ تل ابیب یونیورسٹی کی قومی سلامتی کے ماہر ڈاکٹر راز زمت کے مطابق قالیباف طاقت اور مفادات کی زبان سمجھتے ہیں۔ وہ ایک پراگمیٹک کنزرویٹو کے طور پر جانے جاتے ہیں جو نظریے سے زیادہ عملی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔ تاہم ان کی سخت گیرانہ تاریخ بھی ہے۔ 2013 میں ایک آڈیو ریکارڈنگ میں وہ کہتے سنے گئے تھے کہ انہوں نے طلبہ مظاہرین کو لکڑی کی چھڑیوں سے مارا اور اس پر انہیں فخر ہے۔
امریکہ کا وینزویلا ماڈل اور قالیباف کا کردار : امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ ایران میں وینزویلا ماڈل لاگو کرنا چاہتی ہے۔ اس ماڈل کے تحت جنوری میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کر کے ان کے قریبی ساتھی ڈیلسی روڈریگیز کو عبوری صدر بنایا گیا تھا۔ امریکہ چاہتا ہے کہ ایران میں بھی کوئی ایسی شخصیت سامنے آئے جو واشنگٹن کے مفادات کے ساتھ تعاون کر سکے۔ پولیٹیکو کے مطابق انتظامیہ کے عہدیدار قالیباف کو اس کردار کے لیے مضبوط ترین امیدوار قرار دے رہے ہیں۔ تاہم ماہرین اس پر شک رکھتے ہیں۔ یروشلم پوسٹ کے تجزیے کے مطابق قالیباف اگرچہ خامنہ ای سے زیادہ قابل انتظام ہو سکتے ہیں، لیکن وہ پاسداران انقلاب کے علاقائی تسلط کے محافظ ہیں، جو انہیں انتہائی خطرناک بناتا ہے۔ قالیباف خود سخت گیر بیانات دیتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نہ صرف امریکی فوجی اڈے بلکہ انہیں مالی معونت دینے والے ادارے بھی جائز ہدف ہیں اور آبنائے ہرمز جنگ سے پہلے کی حالت میں واپس نہیں آئے گی۔
تہران میں سیاسی طوفان: نفسیاتی آپریشن یا خفیہ اتحاد؟: امریکی میڈیا میں شائع ہونے والی خبروں نے تہران میں شدید سیاسی ہلچل مچا دی ہے۔ خود قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر سختی سے ان خبروں کی تردید کی ہے۔ انہوں نے لکھاہے کہ امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوئے ہیں۔ جعلی خبریں مالی اور تیل کی منڈیوں میں ہیرا پھیری کے لیے استعمال کی جا رہی ہیں۔ پاسداران انقلاب سے منسلک میڈیا نے ان رپورٹس کو نفسیاتی آپریشن قرار دیا ہے۔ فارس نیوز کے مطابق اس کہانی کے پیچھے تین مقاصد ہیں: قالیباف کا کردار کشی، ان کے خلاف تشدد کی تحریک، اور ملک میں تقسیم پیدا کرنا۔ تسنیم نیوز نے اسے پیچیدہ دشمن کی ڈیزائن کردہ اسکیم قرار دیا ہے جو اندرونی کشیدگی کا تاثر دینے کے لیے بنائی گئی ہے۔ حسن روحانی کی کابینہ میں وزیر رہے محمد جواد آذری جہرومی نے بھی خبردار کیا کہ ٹرمپ کے متضاد بیانات کا مقصد حکومت اور فوجی قوتوں کے درمیان تقسیم پیدا کرنا ہے۔
پاکستان کا کردار: کیا اسلام آباد میں ہو گا مذاکرات؟: اس پورے معاملے میں پاکستان نے خود کو کلیدی ثالث کے طور پر پیش کیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے عوامی طور پر پاکستان کو ایران امریکہ مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کی ہے۔ صدر ٹرمپ نے خود شہباز شریف کی یہ پیشکش اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ری پوسٹ کی، جسے سفارتی حلقوں میں واشنگٹن کی طرف سے پاکستانی کردار کی حمایت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان کی فوجی قیادت بھی اس حوالے سے مصروف عمل ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے صدر ٹرمپ سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے ان مذاکرات کے بارے میں کہا: یہ حساس سفارتی مباحث ہیں اور امریکہ پریس کے ذریعے مذاکرات نہیں کرے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی وفد میں اسٹیو وٹکوف، جیرڈ کشنر اور نائب صدر جے ڈی وینس شامل ہو سکتے ہیں۔ ایران کی طرف سے وزیر خارجہ عباس عراقچی مذاکراتی ٹیم کی قیادت کر سکتے ہیں۔ ایران نے باضابطہ طور پر امریکہ سے براہ راست مذاکرات کی تردید کی ہے تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ پاکستان، مصر اور ترکی جیسے ممالک کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ ہو رہا ہے۔
اندرونی تقسیم، کیا قالیباف کو قبول کریں گے پاسداران؟: ماہرین کا کہنا ہے کہ قالیباف اگرچہ ظاہری طور پر پراگمیٹک نظر آتے ہیں، لیکن وہ نظامِ اسلامی کو برقرار رکھنے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہیں۔ بین الاقوامی بحران گروپ کے ماہر علی واعظ کے مطابق، وہ ایک مکمل اندرونی شخصیت ہیں، بڑی رعایتوں کا امکان نہیں ہے۔ اگر وہ امریکہ کے ساتھ کوئی سمجھوتہ کرتے ہیں تو انہیں انتہائی قدامت پسند دھڑوں کی جانب سے شدید خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ یاد رہے کہ علی لاریجانی نے بھی ماضی میں امریکہ سے مذاکرات کی کوشش کی تھی لیکن سخت گیروں کی مخالفت کی وجہ سے وہ کوئی معاہدہ نہیں کر سکے تھے۔ روئٹرز نے تجزیہ کیا ہے کہ خامنہ ای کے بعد ایران واحد رہنما کے بجائے ایک وکندریقرت ڈھانچے کی طرف بڑھ رہا ہے جہاں فیصلے اجتماعی طور پر ہوتے ہیں۔ اس صورت میں قالیباف جیسی شخصیات عارضی بحران مینیجر کے طور پر ابھر سکتی ہیں۔ خلاصہ یہ کہ امریکہ نے قالیباف کو ممکنہ مذاکراتی پارٹنر کے طور پر منتخب کر لیا ہے، لیکن ایران کے اندرونی نظام نے اسے مسترد کر دیا ہے۔ فی الحال یہ ایک شدید سفارتی اور نفسیاتی جنگ ہے، نہ کہ کوئی طے شدہ سیاسی تبدیلی۔ آنے والے دنوں میں پاکستان میں ممکنہ مذاکرات اس معاملے کی سمت کا تعین کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں