(میاں افتخار احمد)
ایرانی شہروں پر قیامت ٹوٹی تو اسرائیل بھی اس سے نہ بچ سکا ایران اسرائیل جنگ نے پورا خطہ جلا کر رکھ دی
امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائیوں نے ایران کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ ایرانی ریڈ کریسنٹ کے مطابق ان حملوں میں اب تک 1332 سے زائد شہری جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں 226 خواتین اور 204 بچے شامل ہیں۔ ایرانی وزارت صحت کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 1444 تک پہنچ گئی ہے جبکہ 18551 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں میں 3500 سے زائد بچے شامل ہیں جن کی عمریں پانچ سے پندرہ سال کے درمیان ہیں۔ تہران، شیراز، تبریز، میناب اور کرج شہروں کو شدید بمباری کا سامنا ہے۔ میناب شہر کے ایک پرائمری اسکول پر حملے میں 165 طلبہ اور اساتذہ جاں بحق ہوئے۔ اسرائیلی فضائی حملوں میں ایران کے 3643 عوامی مراکز تباہ ہوئے ہیں۔ 3090 رہائشی مکانات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو گئے ہیں جن میں تہران کے 12 ہزار مکانات شامل ہیں۔ ملک بھر میں 61 ہزار سے زیادہ رہائشی یونٹس نقصان کا شکار ہوئے ہیں۔ 32 طبی مراکز کو نشانہ بنایا گیا ہے جس میں 11 ڈاکٹر اور پیرامیڈیکس جاں بحق جبکہ 33 زخمی ہوئے ہیں۔ 65 اسکول اور 13 ریڈ کریسنٹ مراکز بھی تباہ ہوئے ہیں۔ تہران کے ایندھن کے ذخیروں پر بمباری سے آسمان پر دھواں چھا گیا اور کئی مقامات پر آگ گھنٹوں جلتی رہی۔ ایرانی ریڈ کریسنٹ کی 15 آپریشنل گاڑیاں اور 13 ایمبولینسیں بھی تباہ ہوئی ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق تہران، شیراز اور تبریز میں موجود کمانڈ سینٹرز اور میزائل سائٹس کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
اسرائیل پر ایرانی میزائلوں کے حملوں نے نیندیں اڑا دیں ایران کی طرف کیے گئے جوابی حملوں نے اسرائیل کو بھی منہ چھپانے پر مجبور کر دیا ہے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق ان کے ہاں 15 افراد جاں بحق جبکہ 3530 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ صرف گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیل میں 70 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ایرانی فورسز نے آپریشن وعدہ صادق 4 کے تحت اسرائیل اور خلیجی ممالک میں موجود امریکی اہداف پر بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔ ان حملوں میں خیبر شکن، عماد، قدر، ذوالفقار اور قیام میزائل استعمال کیے گئے۔ ایرانی میزائلوں نے وسطی اسرائیل اور یروشلم کے پرانے شہر کو نشانہ بنایا۔ مقبوضہ علاقوں میں ایرانی حملوں کے نتیجے میں متعدد کمانڈ سینٹرز اور میزائل دفاعی نظام تباہ ہو گئے ہیں۔ اسرائیل کے دفاعی نظام کو چیلنج کرنے والے ان میزائلوں نے پورے اسرائیل میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔ تل ابیب اور حیفا کے مضافات میں بھی میزائل حملوں کی اطلاع ہے جہاں متعدد مقامات پر آگ بھڑک اٹھی۔
خطے کے دوسرے ممالک بھی جنگ کی لپیٹ میں آکر جھلس گئے
یہ ایران اسرائیل جنگ تک محدود نہیں رہی بلکہ خطے کے دیگر ممالک بھی اس کی زد میں آگئے ہیں۔ لبنان میں 850 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے ہیں جہاں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر اسرائیلی حملے جاری ہیں۔ متحدہ عرب امارات میں 7 سے 8 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ متحدہ عرب امارات نے 6 بیلسٹک میزائل اور 21 ڈرون روکنے کا اعلان کیا ہے۔ عراق میں بغداد کے گرین زون میں امریکی سفارت خانے پر ڈرون اور راکٹ حملہ ہوا ہے۔ 13 امریکی فوجی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔ سعودی عرب نے 12 ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔ قطر پر میزائل حملہ ناکام بنا دیا گیا۔ فجیرہ کی تیل کی سہولت پر دوسرے دن بھی ڈرون حملہ ہوا ہے جس سے وہاں آگ بھڑک اٹھی۔ دبئی اور دوحہ میں آسمان کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے لیے سات ممالک سے جنگی جہاز بھیجنے کا مطالبہ کیا ہے۔ برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک نے وسیع تر جنگ میں شامل ہونے سے گریز کا عندیہ دیا ہے۔ تیل کی قیمتیں بڑھ کر 100 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی ہیں جس سے عالمی معیشت پر بھی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ایرانی فورسز نے خلیجی ممالک پر اپنے حملے تیز کر دیے ہیں جس کے بعد وہاں کی فضائی حدود کو بار بار بند کرنا پڑ رہا ہے۔
مزید معلومات کے لیے براہ کرم ہماری بین الاقوامی خبریں دیکھیں۔