(Publish from Houston Texas USA)
(میاں افتخار احمد)
آبنائے ہرمز اور یوآن: ایران کی نئی شرط نے عالمی تیل تجارت اور پیٹرو ڈالر نظام کو چیلنج کر دیا
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکرز کی ادائیگی صرف چینی یوآن میں لینے کی شرط نے عالمی اقتصادی نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ کوئی معمولی خبر نہیں بلکہ اس 52 سالہ پرانے نظام کی موت کی گھنٹی ہے جسے پیٹرو ڈالر کے نام سے جانا جاتا ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے ایک اعلیٰ ایرانی اہلکار کے حوالے سے تصدیق کی ہے کہ تہران اس اہم آبی گزرگاہ سے محدود تعداد میں ٹینکرز کو گزرنے کی اجازت دینے پر غور کر رہا ہے، بشرطیکہ کارگو کی تجارت چینی یوآن میں ہو۔ نہ ڈالر میں، نہ یورو میں، صرف اور صرف چینی یوآن میں۔یہ وہی 33 کلومیٹر طویل آبنائے ہرمز ہے جہاں سے دنیا کی 20 فیصد تیل کی سپلائی روزانہ گزرتی ہے۔ یہ وہی آبی شاہراہ ہے جو خلیج فارس کو بحر ہند سے ملاتی ہے اور جس کے کنارے ایران، عمان، سعودی عرب، کویت، عراق، قطر اور متحدہ عرب امارات جیسے تیل کے بڑے ممالک واقع ہیں۔ اندازوں کے مطابق روزانہ تقریباً 20 ملین بیرل خام تیل اس راستے سے گزرتا ہے جو عالمی طلب کا پانچواں حصہ بنتا ہے۔ یہ وہی سمندری راستہ ہے جسے کھولنے کے لیے امریکہ نے خارگ آئی لینڈ پر بمباری کی تھی اور جس پر قابض ہونے کے لیے عراق نے ایران پر دس سالہ جنگ مسلط کی تھی۔ اب یہ راستہ دنیا کے سامنے ایک تاریخی شرط کے ساتھ کھولا جا رہا ہے کہ کرنسی تبدیل کرو۔
آبنائے ہرمز کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 1980 کی دہائی میں ایران عراق جنگ کے دوران دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے تیل کے ٹینکرز کو نشانہ بنایا تھا جسے ٹینکر وار کا نام دیا گیا۔ اس وقت امریکہ نے اپنی بحری فوج کو خلیج فارس میں تعینات کر کے ٹینکرز کی حفاظت کی تھی اور کشیدگی اس حد تک بڑھ گئی تھی کہ امریکی بحریہ نے ایران کے چند بحری جہازوں کو تباہ کر دیا تھا۔ اب تاریخ پھر خود کو دہرا رہی ہے مگر اس بار صورت حال بالکل مختلف ہے۔اس بار امریکہ خود اس راستے کو کھولنے کے لیے فوجی کارروائی پر مجبور ہے۔ 28 فروری کو جب امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد ایران نے یہ آبی گزرگاہ عملی طور پر بند کر دی تھی، تب ہی یہ واضح ہو گیا تھا کہ اب صورتحال یکسر تبدیل ہو چکی ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے بحری تحفظ فراہم کرنے کا اعلان کیا تو ایران نے جوابی کارروائی میں متعدد ٹینکرز کو روک لیا اور کچھ پر قبضہ کر لیا۔ دنیا نے دیکھا کہ سپر پاور ہونے کا دعویٰ کرنے والا امریکہ 33 کلومیٹر کے سمندری راستے کو کھلا نہیں رکھ سکتا۔
اس کشیدگی کے دوران چین خاموشی سے آگے بڑھتا رہا۔ 28 فروری سے اب تک جب پوری دنیا کے جہاز ہرمز میں پھنسے ہیں یا جل رہے ہیں، ایران کے شیڈو فلیٹ نے ایرانی انقلابی گارڈ کور کی سیکیورٹی میں 1 کروڑ 17 لاکھ سے لے کر 1 کروڑ 65 لاکھ بیرل تیل خاموشی سے چین پہنچا دیا ہے۔ چین یوآن میں پیسے دیتا ہے، چین کے ٹینکرز آزادانہ گھومتے ہیں، چین کے جھنڈے تلے چلنے والے جہازوں کو ایران نے کبھی نہیں روکا۔ اور باقی پوری دنیا یا تو جل رہی ہے یا لمبا راستہ لینے پر مجبور ہے۔ افریقہ کے جنوبی سرے سے گزر کر یورپ جانے والے ٹینکرز کو ایک ماہ کا اضافی سفر کرنا پڑ رہا ہے جس سے ان کے اخراجات میں 30 سے 40 فیصد تک اضافہ ہو گیا ہے۔آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی تیل کی منڈیوں میں افراتفری مچا دی ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل کے پار چلی گئی ہے جو گزشتہ پانچ سال کی بلند ترین سطح ہے۔ یورپ قدرتی گیس کی قلت کا شکار ہے اور صنعتی پیداوار میں کمی آرہی ہے۔ جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک جو اپنی 80 فیصد توانائی کی ضروریات درآمد کرتے ہیں، شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کی معیشتیں تو پہلے ہی دباؤ میں تھیں، مہنگے تیل نے ان کی کمر توڑ دی ہے۔سب سے بڑی تبدیلی وہ ہے جو آنکھوں سے نظر نہیں آتی۔ ایران کی اس شرط نے عملی طور پر تیل کی ایک دوغلی مارکیٹ تشکیل دے دی ہے۔ اب دنیا میں تیل کی دو قسمیں ہوں گی، ایک یوآن والا تیل جو چین اور برکس ممالک کے لیے ہوگا اور ایرانی ڈسکاؤنٹ پر ملے گا، اندازوں کے مطابق یہ برینٹ سے 9 سے 12 ڈالر فی بیرل سستا ہوگا۔ دوسرا ڈالر والا تیل جو مغرب کے لیے ہوگا اور اس پر وار پریمیم اور مہنگی انشورنس لاگو ہوگی۔ ایک ہی کموڈیٹی کی دو قیمتیں، ایک ہی سمندری راستے کے لیے دو کرنسیاں، ایک ہی بیرل کے لیے دو نظام۔
ڈالر جس عالمی تقسیم پر مبنی تھا، یہ جنگ اسی تقسیم کو کئی گنا تیز کر رہی ہے۔ جو ممالک چین کے ساتھ ہیں وہ سستا تیل حاصل کر رہے ہیں اور جو امریکہ کے ساتھ ہیں وہ مہنگا تیل خرید رہے ہیں۔ یہ تقسیم مستقبل میں مزید گہری ہو گی اور دنیا دو اقتصادی بلاکس میں بٹ جائے گی۔ ایک بلاک ڈالر زون ہو گا اور دوسرا یوآن زون۔ اور اس تقسیم کی پہلی لکیر اسی 33 کلومیٹر کے سمندری راستے پر کھینچی گئی ہے۔ایران کی یہ پیشکش محدود ٹینکرز کے لیے ہے، نہ کہ تمام تر تیل کی تجارت کے لیے، یہ ایک سیاسی پیغام ہے جو طاقت کے نئے توازن کی نشاندہی کرتا ہے۔ ایران کہہ رہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو بند رکھ سکتا ہے اور وہ اسے منتخب طریقے سے کھول سکتا ہے۔ وہ چین کو تیل بھیج سکتا ہے اور باقی دنیا کو نہیں بھیج سکتا۔ یہ طاقت ہے، یہ اثر و رسوخ ہے، اور یہ وہ چیز ہے جو پچھلے پچاس سالوں میں کبھی نہیں ہوئی۔
1974 کا خفیہ معاہدہ اور پیٹرو ڈالر کی پیدائش، عروج و زوال کی داستان
اس اہم موڑ کو سمجھنے کے لیے ہمیں تاریخ کے اوراق پلٹنے ہوں گے اور 1974 میں جانا ہوگا جب پیٹرو ڈالر کے نظام کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ اس سال دنیا نے ایک خفیہ اقتصادی معاہدہ دیکھا۔ سعودی عرب نے امریکی فوجی تحفظ کے بدلے اپنا تیل صرف ڈالر میں بیچنے پر اتفاق کیا۔ اگرچہ ماہرین اقتصادیات اسے کوئی باقاعدہ تحریری معاہدہ نہیں مانتے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس انتظام نے ڈالر کو عالمی تجارت کی واحد کرنسی بنا دیا۔اس وقت کی صورتحال کو سمجھنا ضروری ہے۔ 1973 کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد اوپیک نے تیل کی قیمتیں بڑھا دی تھیں اور امریکہ اسرائیل کی حمایت پر عرب ممالک کے غصے کا نشانہ بن رہا تھا۔ تیل کی قیمتیں چار گنا بڑھ گئی تھیں اور مغربی معیشتیں لڑکھڑا رہی تھیں۔ امریکہ کو شدید خدشہ تھا کہ سعودی عرب تیل کی تجارت ڈالر کے علاوہ کسی اور کرنسی میں شروع کر دے گا جو ڈالر کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا تھا۔اس خدشے کے تحت امریکی وزیر خزانہ ولیم سائمن اور وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے سعودی عرب کے ساتھ خفیہ مذاکرات کا آغاز کیا۔ مذاکرات کا نتیجہ 1974 میں سامنے آیا جب دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کا معاہدہ ہوا۔ اس معاہدے کے تحت سعودی عرب نے اپنا تیل صرف ڈالر میں بیچنے پر اتفاق کیا اور اضافی ڈالرز امریکی خزانے کے سرکاری بانڈز میں لگانے کا وعدہ کیا۔ اس کے عوض امریکہ نے سعودی عرب کو جدید ترین فوجی سازوسامان فراہم کرنے اور اس کی سلامتی کی ضمانت دینے کا اعلان کیا۔
اس خفیہ انتظام نے ڈالر کو وہ قوت عطا کی جو آج تک قائم ہے۔ اس نظام کے تحت دنیا کا ہر بیرل تیل ڈالر میں بکتا ہے، اور ہر ملک کے مرکزی بینک کو اپنے ذخائر میں ڈالر رکھنا پڑتا ہے کیونکہ تیل خریدنے کے لیے ڈالر لازمی ہے۔ یہی وہ بنیاد ہے جس پر امریکہ کی عالمی مالیاتی بالادستی کھڑی ہے۔ اس بالادستی کی بدولت امریکہ دنیا کی کسی بھی دوسری حکومت کے مقابلے میں کہیں زیادہ قرضہ لے سکتا ہے اور اپنی کرنسی نوٹ چھاپ کر دنیا بھر میں خرچ کر سکتا ہے۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ نظام مزید مضبوط ہوتا گیا۔ 1975 میں اوپیک کے تمام ممالک نے تیل صرف ڈالر میں بیچنے پر اتفاق کر لیا۔ 1980 کی دہائی میں میکسیکو، نائیجیریا اور دیگر تیل پیدا کرنے والے ممالک نے بھی یہی طریقہ اپنا لیا۔ 1990 کی دہائی تک دنیا کی تقریباً تمام توانائی کی تجارت ڈالر میں ہونے لگی۔ روس اور وینزویلا جیسے امریکہ مخالف ممالک بھی ڈالر میں تیل بیچنے پر مجبور تھے کیونکہ کوئی متبادل نظام موجود نہیں تھا۔ لیکن یہ نظام اپنی خامیوں سے خالی نہیں تھا۔ امریکہ نے اپنی اس بالادستی کا بارہا غلط استعمال کیا۔ جب بھی کوئی ملک امریکی پالیسیوں سے اختلاف کرتا، امریکہ اس پر مالی پابندیاں عائد کر دیتا اور اسے عالمی مالیاتی نظام سے خارج کر دیتا۔ ایران، عراق، لیبیا، شام، روس، شمالی کوریا اور وینزویلا نے اس کا تلخ تجربہ کیا۔ ان ممالک کے اثاثے منجمد کر دیے گئے، ان کی تیل کی برآمدات روک دی گئیں، اور ان کی معیشتیں تباہ کر دی گئیں۔یہی وہ وجہ ہے کہ پچھلے دو عشروں میں ڈالر کے متبادل کی تلاش تیز ہو گئی۔ چین اور روس نے سب سے پہلے اس سلسلے میں عملی اقدامات کیے۔ 2000 کی دہائی کے اوائل میں انہوں نے دوطرفہ تجارت میں اپنی اپنی کرنسیوں کے استعمال پر اتفاق کیا۔ 2010 کی دہائی میں برکس ممالک نے ڈالر کے متبادل پر غور شروع کیا۔ 2015 میں چین نے اپنا کراس بارڈر پیمنٹ سسٹم سی آئی پی ایس متعارف کرایا جو سوئفٹ کا متبادل بن سکتا تھا۔2022 میں روس پر عائد پابندیوں نے اس عمل کو تیز کر دیا۔ جب امریکہ اور یورپ نے روس کو سوئفٹ سے نکال دیا اور اس کے 300 ارب ڈالر کے اثاثے منجمد کر دیے تو دنیا کے دوسرے ممالک کو اندازہ ہو گیا کہ ان کے ساتھ بھی ایسا ہو سکتا ہے۔ اس دن سے ڈی ڈالرائزیشن کی تحریک نے زور پکڑ لیا۔ چین، روس، ایران، بھارت، برازیل، جنوبی افریقہ، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر کئی ممالک نے دوطرفہ تجارت میں اپنی قومی کرنسیوں کے استعمال پر اتفاق کیا۔1974 کا کوئی باقاعدہ معاہدہ ختم نہیں ہوا، لیکن ڈالر کی اجارہ داری کو شدید چیلنج درپیش ہے۔ ایران کا اقدام اس چیلنج کو عملی جامہ پہنا رہا ہے۔ جب ایران کہتا ہے کہ وہ ہرمز سے گزرنے والے ٹینکرز کی ادائیگی صرف یوآن میں لے گا تو وہ ڈالر کی بالادستی کو براہ راست چیلنج کر رہا ہے۔ وہ کہہ رہا ہے کہ اب تیل کی تجارت ڈالر میں نہیں ہو گی، اب ہم اپنی شرائط پر تیل بیچیں گے، اب ہم طے کریں گے کہ کس کرنسی میں تجارت ہو گی۔یہ وہی سوال ہے جو 1974 میں اٹھایا گیا تھا مگر اس بار جواب مختلف ہے۔ اس بار ایران کے پاس طاقت ہے، اس بار ایران کے پاس متبادل ہے، اس بار ایران کے پاس چین جیسا اتحادی ہے۔ اور سب سے بڑھ کر اس بار امریکہ اتنا کمزور ہے کہ وہ 33 کلومیٹر کا سمندری راستہ بھی کھلا نہیں رکھ سکتا۔
چین کا خاموش ماسٹر پلان اور سی آئی پی ایس کا عروج
چین گزشتہ کئی سالوں سے خاموشی سے ایک متوازی مالیاتی نظام کھڑا کر رہا ہے جو مستقبل میں ڈالر کی جگہ لے سکتا ہے۔ یہ کوئی راتوں رات کا فیصلہ نہیں بلکہ دہائیوں پر محیط حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔ ایران کا 80 سے 90 فیصد تیل جو چین جاتا ہے، وہ پہلے ہی یوآن میں یا چین کے اپنے کراس بارڈر پیمنٹ سسٹم سی آئی پی ایس کے ذریعے خریدا جا رہا ہے۔سی آئی پی ایس کا سفر 2012 میں شروع ہوا جب چین نے محسوس کیا کہ اس کا انحصار مغربی مالیاتی نظام پر اس کے مفادات کے خلاف جا سکتا ہے۔ 2015 میں اس نظام کو باقاعدہ طور پر متعارف کرایا گیا اور آہستہ آہستہ اس کا دائرہ کار بڑھتا گیا۔ ابتداء میں صرف چند چینی بینک اس سے منسلک تھے، لیکن آج دنیا کے 100 سے زائد ممالک کے 1000 سے زیادہ بینک اس نظام کا حصہ ہیں۔اعداد و شمار دنگ کر دینے والے ہیں۔ 2025 میں سی آئی پی ایس نے 180 ٹریلین یوآن کی ٹرانزیکشنز کیں جو پچھلے سال کے مقابلے میں 43 فیصد زیادہ ہیں۔ 180 ٹریلین یوآن کا مطلب ہے تقریباً 25 ٹریلین امریکی ڈالر، جو کہ امریکی جی ڈی پی کے برابر ہے۔ یہ نظام سوئفٹ کے متبادل کے طور پر تیزی سے ابھر رہا ہے اور اس کی رفتار مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اگر یہ رفتار برقرار رہی تو اگلے پانچ سالوں میں سی آئی پی ایس سوئفٹ کا حقیقی مقابلہ کر سکتا ہے۔
چین کی حکمت عملی کئی سطحوں پر کام کر رہی ہے۔ پہلی سطح یوآن کا بین الاقوامی استعمال ہے۔ چین نے کئی ممالک کے ساتھ کرنسی سویپ معاہدے کیے ہیں جن کے تحت وہ اپنی قومی کرنسیوں میں دوطرفہ تجارت کر سکتے ہیں۔ اب تک چین نے 40 سے زائد ممالک کے ساتھ ایسے معاہدے کیے ہیں جن کی مالیت 500 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔
دوسری سطح بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو ہے۔ اس منصوبے کے تحت چین دنیا بھر میں بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کر رہا ہے اور ان منصوبوں کی ادائیگی یوآن میں وصول کر رہا ہے۔ پاکستان میں سی پیک منصوبے، سری لنکا کی بندرگاہیں، افریقہ کی سڑکیں اور ریلوے لائنیں، وسطی ایشیا کی پائپ لائنیں، سب یوآن میں بن رہی ہیں اور سب کا مستقبل یوآن سے جڑ رہا ہے۔
تیسری سطح ڈیجیٹل یوآن ہے۔ چین نے دنیا کی پہلی بڑی ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرائی ہے جو روایتی کرنسی سے کہیں زیادہ موثر اور محفوظ ہے۔ ڈیجیٹل یوآن کی مدد سے چین بین الاقوامی منتقلی کو فوری اور سستا بنا سکتا ہے اور امریکی پابندیوں سے بچ سکتا ہے۔ فی الحال ڈیجیٹل یوآن کا استعمال چین تک محدود ہے، لیکن مستقبل قریب میں یہ بین الاقوامی تجارت میں بھی استعمال ہو سکتا ہے۔
چوتھی سطح توانائی کی تجارت ہے۔ چین نے ایران، روس، وینزویلا اور سعودی عرب جیسے تیل پیدا کرنے والے ممالک کے ساتھ یوآن میں تیل خریدنے کے معاہدے کیے ہیں۔ 2023 میں چین نے پہلی بار یوآن میں روس سے تیل خریدا۔ 2024 میں سعودی عرب نے یوآن میں تیل بیچنے پر غور کرنے کا اعلان کیا۔ 2025 میں ایران نے باقاعدہ طور پر یوآن میں تیل کی تجارت شروع کر دی۔ اور اب ایران نے آبنائے ہرمز کی گزرگاہ کو یوآن کی شرط پر کھولنے کا اعلان کر دیا ہے۔
چین کے شیڈو فلیٹ کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے۔ یہ وہ ٹینکرز ہیں جو چین کے جھنڈے تلے چلتے ہیں یا چینی کمپنیوں کی ملکیت ہیں اور امریکی پابندیوں کے باوجود ایران اور وینزویلا سے تیل لے کر جاتے ہیں۔ اندازوں کے مطابق چین کے پاس ایسے 300 سے زائد ٹینکرز ہیں جو شیڈو فلیٹ کا حصہ ہیں۔ یہ ٹینکرز جی پی ایس بند کر دیتے ہیں، اپنی شناخت چھپا لیتے ہیں، اور رات کے وقت خاموشی سے تیل لاد کر چلے جاتے ہیں۔ 28 فروری سے اب تک انہوں نے ایرانی انقلابی گارڈ کور کی سیکیورٹی میں 1 کروڑ 17 لاکھ سے لے کر 1 کروڑ 65 لاکھ بیرل تیل چین پہنچایا ہے۔یہ سب کچھ اس وقت ہو رہا ہے جب امریکہ اور اسرائیل ایران پر بمباری کر رہے ہیں اور آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ چین کے ٹینکرز آزادانہ گھوم رہے ہیں، چین کے جھنڈے تلے چلنے والے جہازوں کو ایران نے کبھی نہیں روکا، چینی تاجر آرام سے تہران میں بیٹھ کر یوآن میں تیل خرید رہے ہیں۔ اور باقی پوری دنیا یا تو جل رہی ہے یا لمبا راستہ لینے پر مجبور ہے۔یہ چین کا خاموش ماسٹر پلان ہے۔ جہاں امریکہ جنگی جہاز بھیج رہا ہے، چین تجارتی جہاز بھیج رہا ہے۔ جہاں امریکہ بمباری کر رہا ہے، چین سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ جہاں امریکہ پابندیاں لگا رہا ہے، چین تجارتی راستے کھول رہا ہے۔ جہاں امریکہ تقسیم کر رہا ہے، چین جوڑ رہا ہے۔ اور اس طرح چین خاموشی سے دنیا کا نیا مالیاتی مرکز بنتا جا رہا ہے۔
برکس چیلنج اور ڈی ڈالرائزیشن کی عالمی تحریک: امریکی ردعمل اور مستقبل کا منظر نامہ
برکس ممالک طویل عرصے سے ڈالر کے متبادل کی بات کر رہے ہیں، لیکن ابھی تک کوئی مشترکہ برکس کرنسی وجود میں نہیں آئی۔ 2025 کے سربراہی اجلاس میں اس سلسلے میں کوئی ٹھوس فیصلہ نہیں ہو سکا، اور اراکین نے فی الحال دوطرفہ تجارت میں اپنی اپنی قومی کرنسیوں کے استعمال کو فروغ دینے پر توجہ مرکوز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم ایران کا یوآن کی شرط والا اقدام ڈی ڈالرائزیشن کی اس عالمی تحریک کو تیز کر سکتا ہے۔برکس کا قیام 2006 میں عمل میں آیا تھا جب برازیل، روس، انڈیا اور چین کے رہنماؤں نے مل کر ایک اقتصادی اتحاد بنانے کا فیصلہ کیا۔ 2010 میں جنوبی افریقہ بھی اس میں شامل ہو گیا۔ 2024 میں ایران، مصر، ایتھوپیا، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات بھی اس کا حصہ بن گئے۔ اب برکس دنیا کی نصف سے زیادہ آبادی اور ایک تہائی اقتصادی پیداوار کی نمائندگی کرتا ہے۔برکس کی سب سے بڑی خواہش ڈالر کے غلبے سے نجات ہے۔ برکس ممالک کا کہنا ہے کہ ڈالر کا غلبہ غیر منصفانہ ہے اور اس سے امریکہ کو دوسرے ممالک کی قیمت پر غیر معمولی مراعات حاصل ہوتی ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ عالمی مالیاتی نظام زیادہ متوازن اور منصفانہ ہو، اور اس میں ان کا بھی مناسب حصہ ہو۔اس سلسلے میں برکس نے کئی اقدامات کیے ہیں۔ 2014 میں برکس نے نیو ڈویلپمنٹ بینک قائم کیا جو ترقی پذیر ممالک کو قرضے فراہم کرتا ہے۔ 2015 میں انہوں نے کنٹیجنٹ ریزرو ارینجمنٹ قائم کی جو مالی بحران کے وقت رکن ممالک کی مدد کرتی ہے۔ 2020 کی دہائی میں انہوں نے دوطرفہ تجارت میں اپنی قومی کرنسیوں کے استعمال کو فروغ دیا۔
روس اور چین اس سلسلے میں سب سے آگے ہیں۔ 2022 میں روس پر عائد پابندیوں کے بعد روس نے اپنی تجارت کا رخ چین کی طرف موڑ دیا۔ 2023 میں روس اور چین کی دوطرفہ تجارت 200 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جس کا ایک بڑا حصہ یوآن اور روبل میں طے ہوا۔ روس اب یورپ کو گیس بیچنے کی بجائے چین کو بیچ رہا ہے اور یورپی یورو کی بجائے چینی یوآن وصول کر رہا ہے۔ایران بھی اس سلسلے میں فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ ایران پر عائد امریکی پابندیوں نے اسے مجبور کر دیا کہ وہ ڈالر کے متبادل تلاش کرے۔ ایران نے چین کے ساتھ 25 سالہ اسٹریٹجک معاہدہ کیا ہے جس کے تحت ایران چین کو سستا تیل فراہم کرے گا اور چین ایران میں سرمایہ کاری کرے گا۔ اس معاہدے کی ادائیگی یوآن میں ہو گی۔ ایران نے روس اور ترکی کے ساتھ بھی اپنی قومی کرنسیوں میں تجارت شروع کر دی ہے۔سعودی عرب بھی اب ڈالر کے متبادل پر غور کر رہا ہے۔ امریکہ کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات میں تلخی آئی ہے۔ امریکی صدر بائیڈن نے سعودی عرب کو وحشی ریاست قرار دیا، جس سے سعودی عرب برہم ہے۔ سعودی عرب نے چین کے ساتھ تعلقات مضبوط کیے ہیں اور یوآن میں تیل بیچنے پر غور کر رہا ہے۔ اگر سعودی عرب بھی یوآن میں تیل بیچنے لگا تو پیٹرو ڈالر کا نظام ختم ہو جائے گا۔بھارت بھی ڈالر سے نجات کے لیے کوشاں ہے۔ بھارت نے روس سے یوآن اور درہم میں تیل خریدا ہے اور متحدہ عرب امارات سے روپیہ اور درہم میں تجارت کی ہے۔ بھارت نے ایران کے ساتھ بھی روپیہ میں تجارت کا منصوبہ بنایا ہے۔ اگرچہ بھارت امریکہ کے ساتھ بھی تعلقات رکھتا ہے، لیکن وہ ڈالر کے متبادل کی اہمیت سے انکار نہیں کر سکتا۔ترکی بھی ڈالر سے نجات کے لیے کوشاں ہے۔ صدر اردگان نے کئی بار ڈالر کے خلاف بات کی ہے اور مقامی کرنسیوں میں تجارت کی حمایت کی ہے۔ ترکی نے روس، ایران اور چین کے ساتھ اپنی قومی کرنسیوں میں تجارت شروع کر دی ہے۔
یہ سب کچھ بتاتا ہے کہ ڈی ڈالرائزیشن اب ایک عالمی تحریک بن چکی ہے۔ دنیا کے بڑے بڑے ممالک ڈالر کے متبادل تلاش کر رہے ہیں اور اپنی قومی کرنسیوں کے استعمال کو فروغ دے رہے ہیں۔ ایران کا یوآن کی شرط والا اقدام اس تحریک کو مزید تیز کرے گا۔ اب دوسرے ممالک بھی سوچیں گے کہ اگر ایران یوآن میں تیل بیچ سکتا ہے تو وہ بھی بیچ سکتے ہیں۔ اگر چین یوآن میں تیل خرید سکتا ہے تو وہ بھی خرید سکتے ہیں۔ اور یوں آہستہ آہستہ ڈالر کا غلبہ کم ہوتا جائے گا۔تاہم ڈالر کا مکمل خاتمہ آسان نہیں ہے۔ ڈالر اب بھی عالمی تجارت کا 60 فیصد حصہ رکھتا ہے اور عالمی بینک کے ذخائر کا 60 فیصد ڈالر میں ہے۔ امریکہ اب بھی دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہے اور اس کے پاس سب سے بڑی فوج ہے۔ ڈالر کے متبادل کے لیے ایک طویل جدوجہد درکار ہو گی اور اس میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔
ایران کی اس یوآن کی شرط کے بعد امریکہ کے پاس کیا آپشنز ہیں اور مستقبل میں عالمی اقتصادی نظام کیسا ہو گا؟ یہ سوال آج ہر مبصر کے ذہن میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے پہلے ہی آبنائے ہرمز میں ٹینکرز کو بحری تحفظ فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا وہ ڈالر کو بچانے کے لیے چین پر براہ راست کوئی بڑی معاشی پابندی لگانے کی جسارت کرے گا۔
امریکہ کے پاس کئی آپشنز ہیں۔ پہلا آپشن فوجی ہے۔ امریکہ آبنائے ہرمز میں اپنی بحری فوج کی موجودگی بڑھا سکتا ہے اور ٹینکرز کو بحری تحفظ فراہم کر سکتا ہے۔ امریکہ ایرانی تیل کی برآمدات کو روکنے کے لیے مزید سخت اقدامات کر سکتا ہے اور ایرانی تیل خریدنے والوں کے خلاف کارروائی کر سکتا ہے۔ امریکہ ایران پر مزید پابندیاں لگا سکتا ہے اور اس کی معیشت کو مفلوج کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔
دوسرا آپشن سفارتی ہے۔ امریکہ خلیجی اتحادیوں پر دباؤ ڈال سکتا ہے کہ وہ یوآن میں تجارت نہ کریں۔ امریکہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور کویت کو مراعات دے سکتا ہے تاکہ وہ ڈالر کے نظام میں رہیں۔ امریکہ یورپ اور جاپان کو بھی قائل کر سکتا ہے کہ وہ ڈالر کے نظام کی حمایت کریں۔
تیسرا آپشن اقتصادی ہے۔ امریکہ چین پر مزید پابندیاں لگا سکتا ہے اور چینی مصنوعات پر ٹیرف بڑھا سکتا ہے۔ امریکہ چینی کمپنیوں کو امریکی مالیاتی نظام سے نکال سکتا ہے اور ان کے اثاثے منجمد کر سکتا ہے۔ امریکہ چین پر ٹیکنالوجی کی پابندیاں لگا سکتا ہے اور اسے جدید ٹیکنالوجی حاصل کرنے سے روک سکتا ہے۔
لیکن ان میں سے کوئی بھی آپشن آسان نہیں ہے۔ فوجی آپشن بہت خطرناک ہے کیونکہ اس سے ایران کے ساتھ وسیع جنگ چھڑ سکتی ہے۔ سفارتی آپشن کی کامیابی مشکوک ہے کیونکہ خلیجی ممالک بھی اب ڈالر کے متبادل کی اہمیت سمجھتے ہیں۔ اقتصادی آپشن بھی خطرناک ہے کیونکہ امریکی اور چینی معیشتیں گہرائی سے جڑی ہوئی ہیں اور چین پر پابندیوں کا الٹا اثر خود امریکہ پر پڑ سکتا ہے۔ماہرین کا خیال ہے کہ امریکہ شاید ان میں سے کوئی بھی آپشن اختیار نہیں کرے گا۔ امریکہ شاید صورتحال کو قبول کر لے گا اور ڈالر کے کمزور ہونے کو برداشت کر لے گا۔ امریکہ شاید چین اور ایران کے ساتھ کسی معاہدے پر پہنچنے کی کوشش کرے گا جس میں ہرمز کی گزرگاہ کھولنے کے بدلے ایران کو کچھ مراعات دی جائیں۔
مستقبل کا منظر نامہ کچھ یوں ہو سکتا ہے۔ آنے والے سالوں میں دنیا دو اقتصادی بلاکس میں بٹ جائے گی۔ ایک بلاک امریکی قیادت میں ہو گا جس میں یورپ، جاپان، جنوبی کوریا، آسٹریلیا اور کینیڈا شامل ہوں گے۔ یہ بلاک ڈالر استعمال کرے گا اور مغربی مالیاتی نظام کا حصہ ہو گا۔ دوسرا بلاک چینی قیادت میں ہو گا جس میں روس، ایران، وسطی ایشیائی ممالک، پاکستان، جنوب مشرقی ایشیائی ممالک اور افریقی ممالک شامل ہوں گے۔ یہ بلاک یوآن استعمال کرے گا اور چینی مالیاتی نظام کا حصہ ہو گا۔ان دونوں بلاکس کے درمیان مقابلہ ہو گا۔ دونوں اپنے اپنے مالیاتی نظام کو فروغ دیں گے اور دوسرے کے نظام کو کمزور کرنے کی کوشش کریں گے۔ دونوں اپنے اتحادیوں کو مراعات دیں گے اور مخالفین پر پابندیاں لگائیں گے۔ دونوں نئے ممبران کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کریں گے۔
اس مقابلے کا نتیجہ کیا نکلے گا، یہ کہنا مشکل ہے۔ امریکہ کے پاس اب بھی بہت سی طاقتیں ہیں۔ اس کی فوج دنیا میں کہیں بھی کارروائی کر سکتی ہے۔ اس کی ٹیکنالوجی دنیا میں سب سے جدید ہے۔ اس کی یونیورسٹیاں دنیا میں بہترین ہیں۔ اس کی کرنسی اب بھی دنیا کی پسندیدہ کرنسی ہے۔لیکن چین بھی تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ اس کی معیشت جلد ہی امریکہ سے آگے نکل جائے گی۔ اس کا بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ دنیا بھر میں پھیل رہا ہے۔ اس کا سی آئی پی ایس نظام تیزی سے پھیل رہا ہے۔ اس کی ٹیکنالوجی بھی اب امریکہ کا مقابلہ کر رہی ہے۔
ایران کا یوآن کی شرط والا اقدام اس مقابلے کا پہلا بڑا واقعہ ہے۔ اس نے ثابت کر دیا کہ ڈالر کا نظام اب اتنا مضبوط نہیں رہا جتنا پہلے تھا۔ اس نے ثابت کر دیا کہ متبادل نظام ممکن ہے اور وہ کام کر رہا ہے۔ اس نے ثابت کر دیا کہ امریکہ اب اتنا طاقتور نہیں رہا کہ دنیا پر اپنی مرضی مسلط کر سکے۔آبنائے ہرمز جہازوں کے لیے نہیں کھل رہا، یہ چینی یوآن کے لیے کھل رہا ہے۔ وہ 52 سالہ پرانا نظام جس نے ہر بیرل کی قیمت ڈالر میں لگائی تھی، آج اس جنگ سے ٹکرا گیا ہے۔ یہ اعلان عالمی طاقت کے اس نئے توازن کی علامت ہے جہاں اقتصادی اثر و رسوخ کا مرکز مشرق کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔ 33 کلومیٹر کا یہ سمندری راستہ دنیا کی تاریخ کے سب سے بڑے اقتصادی انقلاب کا گواہ بن رہا ہے۔ اور آنے والے دن ہمیں بتائیں گے کہ یہ سفر کہاں جا کر ختم ہوتا ہے۔
مزید پڑھنے کے لیے براہ کرم ہمارے مضامین دیکھیں۔