(Publish from Houston Texas USA)
(میاں افتخار احمد)
پاک فضائیہ نے افغانستان سے آنے والے ڈرونز کو فضائی حدود میں مار گرایا، سیکیورٹی خدشات کے باعث اسلام آباد ایئرپورٹ پر پروازیں عارضی معطل
اسلام آباد : دارالحکومت اسلام آباد میں آج صبح سیکیورٹی کے سنگین بحران کے دوران پاک فضائیہ نے اسلام آباد اور راولپنڈی کی فضائی حدود کا مکمل کنٹرول سنبھال لیا، جبکہ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے تمام پروازوں کی آمدورفت کو عارضی طور پر روک دیا گیا، یہ اقدام افغانستان کی سرحد پار سے دو ڈرونز کے پاکستانی فضائی حدود میں گھسنے اور انہیں ناکام بنائے جانے کے بعد اٹھایا گیا، اس واقعے نے دارالحکومت میں خوف و ہراس کی کیفیت پیدا کردی جبکہ شہریوں کو محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایت کی گئی۔ پاک فضائیہ کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق، آج صبح پاک فضائیہ کی ایئر ڈیفنس نے اسلام آباد اور راولپنڈی کی فضائی حدود میں گھسنے والے دو ڈرون طیاروں کو بروقت روک کر تباہ کر دیا، یہ کارروائی فیض آباد انٹرچینج اور اسلام آباد کے I-9 سیکٹر کے قریب کی گئی، ذرائع کے مطابق یہ ڈرون بنیادی قسم کے تھے اور ان میں دھماکہ خیز مواد لدا ہوا تھا، پاک فضائیہ نے الیکٹرانک کاؤنٹر میژرز کا استعمال کرتے ہوئے انہیں نشانہ بنایا، پاک فضائیہ کے ترجمان نے واضح کیا کہ اس حملے میں کسی فوجی یا سرکاری تنصیب کو کوئی نقصان نہیں پہنچا، تاہم ڈرون گرنے کے ملبے سے کچھ معمولی نقصان ہوا ہے، کوئٹہ سمیت مختلف علاقوں میں چار افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں، زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔
اس واقعے کے فوری بعد اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پروازوں کی آمدورفت کو عارضی طور پر روک دیا گیا، پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی نے اس حوالے سے نوٹس ٹو ایئر مین جاری کیا، جس میں آپریشنل وجوہات کو پروازوں کی معطلی کی وجہ قرار دیا گیا، اس نوٹس کے مطابق تمام آنے والی اور جانے والی پروازوں کو متبادل ہوائی اڈوں کی طرف ری ڈائریکٹ کر دیا گیا، تاہم چند گھنٹوں بعد پی اے اے نے ایک اور بیان جاری کرتے ہوئے ایئرپورٹ بند ہونے کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ صورتحال معمول پر آنے کے بعد پروازیں دوبارہ شروع کر دی گئی ہیں، پروازوں کی عارضی بندش کا مقصد ممکنہ مزید خطرات سے نمٹنے اور سیکیورٹی کلیئرنس کے لیے وقت حاصل کرنا تھا، اس دوران فضائی حدود کو کلیئر کرنے کے لیے خصوصی آپریشن کیا گیا۔
پاکستانی حکام کے مطابق یہ ڈرون افغانستان سے لانچ کیے گئے تھے اور ان کا تعلق فتنہ الخوارج سے ہے، جو کہ ممنوعہ تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے لیے استعمال ہونے والی اصطلاح ہے، پاکستان کا الزام ہے کہ افغان طالبان حکومت ان دہشت گرد گروہوں کو اپنی سرزمین پر پناہ دے رہی ہے، یہ واقعہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں سامنے آیا ہے، پاکستان نے افغان حکام کو اس واقعے کی ذمہ داری ٹھہراتے ہوئے سخت احتجاج کیا ہے، پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے جس کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں، دفتر خارجہ کے ذرائع کے مطابق افغان حکام کو فوری طور پر اس واقعے سے آگاہ کر دیا گیا ہے اور سفارتی چینلز کے ذریعے احتجاج ریکارڈ کرایا جا رہا ہے۔
حملے کے بعد دارالحکومت میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کر دیے گئے ہیں، پاک فضائیہ کی جانب سے فضائی نگرانی میں مزید اضافہ کر دیا گیا ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری اقدامات مکمل کر لیے گئے ہیں، پاک فضائیہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان کی سرزمین کا دفاع ہر قیمت پر کیا جائے گا اور دشمن کے ہر ناپاک عزائم کو ناکام بنایا جائے گا، پاک فضائیہ کی بروقت اور موثر کارروائی نے دارالحکومت کو ممکنہ بڑی تباہی سے بچا لیا، اس کارروائی کو ملک بھر میں سراہا جا رہا ہے اور مختلف حلقوں کی جانب سے پاک فضائیہ کو خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔یہ واقعہ پاکستان کی سلامتی کے لیے درپیش غیر روایتی خطرات کی نشاندہی کرتا ہے، ڈرونز کے ذریعے حملہ ایک نیا چیلنج ہے جس سے نمٹنے کے لیے پاک فضائیہ جدید ترین ٹیکنالوجی اور تربیت سے آراستہ ہے، ماہرین کے مطابق مستقبل میں اس قسم کے خطرات میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے پیش نظر پاک فضائیہ اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنا رہی ہے، اس واقعے نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان کی فضائی حدود کی حفاظت کسی بھی قسم کی خلاف ورزی سے کی جائے گی، ماہرین دفاع کا کہنا ہے کہ الیکٹرانک وارفیئر میں پاک فضائیہ کی مہارت نے اس کامیابی میں کلیدی کردار ادا کیا۔
واضح رہے کہ پاکستان گزشتہ کئی ماہ سے افغانستان کی سرحد پار سے دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کا سامنا کر رہا ہے، پاکستانی حکام بارہا افغان عبوری حکومت سے مطالبہ کر چکے ہیں کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے، اس سے قبل بھی بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں افغانستان سے آنے والے دہشت گردوں کے حملوں میں متعدد پاکستانی شہری اور سیکیورٹی اہلکار شہید ہو چکے ہیں، تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ دارالحکومت اسلام آباد کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی، سیکیورٹی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد پاکستان کو اپنی مغربی سرحد پر سیکیورٹی مزید سخت کرنی ہوگی اور افغان حکومت پر موثر سفارتی دباؤ ڈالنا ہوگا۔
مزید معلومات کے لیے براہ کرم ہماری قومی خبریں دیکھیں۔