مریم نواز شریف پنجاب اے آئی روڈ میپ کی منظوری دیتے ہوئے 0

مریم نواز کا پنجاب اے آئی روڈ میپ: کیا صوبہ جنوبی ایشیا کا ٹیکنالوجی ہب بن سکے گا؟

(Publish from Houston Texas USA)

لاہور (محمد منصور ممتاز سے)

پنجاب کا اے آئی روڈ میپ منظور، ایک لاکھ نوکریوں کی توقع اور صوبے کو جنوبی ایشیا کا ٹیکنالوجی ہب بنانے کا ہدف

پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے صوبے کے پہلے پنجاب اے آئی روڈ میپ کی منظوری دے کر ایک ایسا قدم اٹھایا ہے جسے ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل معیشت کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد 2029 تک پنجاب کو جنوبی ایشیا کا نمایاں مصنوعی ذہانت مرکز بنانا ہے جبکہ حکومتی اندازوں کے مطابق اس سے ایک لاکھ سے زائد روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔

پنجاب کو ٹیکنالوجی ہب بنانے کا وژن

دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) تیزی سے معیشت، صنعت اور حکمرانی کے نظام کو تبدیل کر رہی ہے۔ امریکہ، چین اور خلیجی ممالک اس شعبے میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ ایسے میں پنجاب حکومت کا پنجاب اے آئی روڈ میپ متعارف کرانا اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان میں بھی ٹیکنالوجی کو معاشی ترقی کے لیے بنیادی ذریعہ سمجھا جا رہا ہے۔

حکومت کے مطابق اس منصوبے کے تحت صوبے میں دنیا کا پہلا اے آئی ڈیلیوری یونٹ قائم کیا جائے گا جو حکومتی نظام اور عوامی خدمات میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کو فروغ دے گا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف خود اس منصوبے کی نگرانی کریں گی جبکہ ایک خصوصی پراجیکٹ ٹیم بھی اس پر عملدرآمد کی ذمہ دار ہوگی۔

صوبائی مشیر برائے مصنوعی ذہانت علی ڈار کے مطابق پنجاب اے آئی روڈ میپ کے نتیجے میں آئندہ تین برسوں کے دوران ایک لاکھ سے زائد روزگار کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے پنجاب کی مجموعی ملکی پیداوار میں پانچ سے دس فیصد تک اضافہ ممکن ہے جبکہ ٹیکنالوجی پر مبنی ترقی کے ذریعے دس سے بیس ارب ڈالر تک زرمبادلہ حاصل ہونے کی توقع بھی ظاہر کی جا رہی ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق اگر اس منصوبے کے تحت آئی ٹی انفراسٹرکچر، اسٹارٹ اپ ایکوسسٹم اور عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کو فروغ دیا جائے تو یہ ہدف حقیقت بن سکتا ہے۔

پنجاب اے آئی روڈ میپ میں تعلیم کے شعبے کو بھی خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ صوبے کے سو اسکولوں میں پہلے ہی مصنوعی ذہانت کا نصاب متعارف کرایا جا چکا ہے جبکہ مزید 155 اسکولوں میں اپریل سے اے آئی کی تعلیم شروع کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی کی تعلیم دینا اس لیے ضروری ہے کیونکہ مستقبل کی عالمی معیشت میں وہی ممالک آگے بڑھ سکیں گے جو اپنی افرادی قوت کو ڈیجیٹل مہارتوں سے لیس کریں گے۔

حکومت کے منصوبے کے مطابق پنجاب اے آئی روڈ میپ کے تحت صحت، زراعت اور ماحولیات کے شعبوں میں بھی مصنوعی ذہانت کو استعمال کیا جائے گا۔ ستمبر میں ہیلتھ بورڈ ایپ متعارف کروانے، اکتوبر میں اسموگ کی نگرانی کے لیے اے آئی سسٹم نافذ کرنے اور نومبر میں کسان اے آئی بورڈ قائم کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

خاص طور پر زراعت کے شعبے میں کسان اے آئی بوٹ متعارف کرانے سے کسانوں کو جدید زرعی مشورے فراہم کیے جا سکیں گے جس سے پیداوار میں اضافہ متوقع ہے۔

مزید معلومات کے لیے براہ کرم ہماری قومی خبریں دیکھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں