مین ہولز کی جیو ٹیکنگ مکمل 0

منڈی بہاؤالدین میں 100 فیصد مین ہولز کی جیو ٹیگنگ مکمل، شہری مسائل کے حل کے لیے اقدامات تیز

(Publish from Houston Texas USA)

(راجہ محمد ایوب ڈسٹرکٹ بیورو چیف منڈی بہاؤالدین)

واٹر اینڈ سینی ٹیشن ایجنسی کے ایم ڈی احمد علی کے مطابق منڈی بہاؤالدین میں جیو ٹیگنگ، جی آئی ایس میپنگ اور فائر ہائیڈرنٹس کی تنصیب سے علاقے بہتر بنانے کے اقدامات جاری ہیں۔

ایم ڈی واسا احمد علی نے کہا ہے کہ منڈی بہاؤالدین میں 100 فیصد مین ہولز کی جیو ٹیکنگ مکمل کر لی گئی ہے جب کہ اس کے ساتھ ساتھ کنزیومر سروے بھی بڑی تیزی سے جاری ہے ،او ایچ آر ایس ، ٹیوب ویلز، جی آئی ایس میپنگ بھی کمپیوٹرائزڈ کر دی گئی ہے ، ڈسٹرکٹ بیورو چیف سماء لاہورضلع منڈی بہاؤالدین راجہ محمد ایوب سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ایم ڈی واسا احمد علی کا کہنا تھا کہ اس کے ساتھ ساتھ شہر میں آگ لگنے کی صورت میں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے 4فائر ہائیڈر نٹس بھی نصب کر دئیے گئے ہیں،ان جگہوں میں یاسین پلازہ، دیوان چوک، نور مسجد چوک،موبائل مارکیٹ شامل ہیں جبکہ شہر میں دیگر اہم مقامات پر فائر ہائیڈرنٹس لگانے کے لئے کام جاری ہے۔،مینجنگ ڈائریکٹر واٹر اینڈ سینیٹیشن ایجنسی (واسا)احمد علی نے بتایا کہ ماہ جنوری اور ماہ فروری 2026 کے دوران واسا منڈی بہاؤالدین کومجموعی طور جتنی بھی شکایات موصول ہوئیں ان میں سے 90 فیصد سے زیادہ شکایات کا فوری طور پر ازالہ کر دیا گیا جب کہ باقی 10 فیصد بھی انشااللہ ایک دو روز میں نمٹا دی جائیں گی ،ایم ڈی واسا احمد علی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ویژن کے تحت ، ڈی جی واسا پنجاب طیب فرید اور ڈپٹی کمشنر منڈی بہاؤالدین عدیل حیدرکی ہدایات کی روشنی میں منڈی بہاؤالدین میں مرحلہ وار سیوریج کی سکیموں پر کام شروع کیا جا رہا ہے،واسا میں ملازمین کی منظور شدہ مجموعی تعداد280کے قریب ہے جبکہ اس وقت واسا منڈی بہاؤالدین میں صرف 40ملازمین اور محدود مشینری جس میں 1سکر، 1جیٹر،8ڈی واٹرنگ سیٹ اور ایک چھوٹے ٹریکٹر پر مشتمل کام کر رہا ہے،ایم ڈی نے کہا کہ انشاء اللہ آنے والے وقت کے ساتھ ساتھ جوں ہی وسائل میں اضافہ ہوتا جائیگا واسا کی کارکردگی میں مزید بہتری اور کام میں نکھار آتا جائے گا۔ انھوں نے مزید بتایا کہ واسا منڈی بہاؤالدین میں سٹاف کی کمی دور کرنے اور نئی مشینری کی فراہمی کے حوالے سے اعلی اتھارٹی سے درخواست کی گئی ہے ۔

مزید معلومات کے لیے براہ کرم ہماری قومی خبریں دیکھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں