writer 0

ٹیکسٹائل سے آئی ٹی تک، پاکستان کی برآمدات ، عالمی منڈی میں مسابقتی پوزیشن

(Publish from Houston Texas USA)

(میاں افتخار احمد)

پاکستان کی برآمدی ساخت: محدود تنوع، تجارتی خسارہ اور معاشی خودمختاری کا چیلنج

پاکستان کی برآمدی ساخت ملکی معیشت کا بنیادی ستون ہے اور یہ قومی آمدنی، زرمبادلہ کے ذخائر، صنعتی ترقی اور روزگار کے مواقع کے فروغ میں مرکزی کردار ادا کرتی ہے۔ کسی بھی ترقی پذیر ملک کے لیے برآمدات محض تجارتی سرگرمی نہیں ہوتیں بلکہ یہ معاشی خودمختاری، ادائیگیوں کے توازن کے استحکام اور بیرونی قرضوں پر انحصار میں کمی کا ذریعہ بنتی ہیں۔ پاکستان کو طویل عرصے سے تجارتی خسارے، محدود برآمدی تنوع اور درآمدات پر زیادہ انحصار جیسے مسائل کا سامنا ہے، جس کے باعث برآمدات میں پائیدار اور ساختی بہتری ناگزیر ہو چکی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق حالیہ برسوں میں پاکستان کی مجموعی برآمدات تقریباً تیس سے بتیس ارب امریکی ڈالر کے درمیان رہی ہیں، تاہم ملک کی آبادی، وسائل اور جغرافیائی محل وقوع کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ سطح ناکافی سمجھی جاتی ہے۔ برآمدی ساخت کا تفصیلی جائزہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان کی برآمدات چند بڑے شعبوں تک محدود ہیں جن میں ٹیکسٹائل سب سے نمایاں ہے، اس کے بعد چاول اور دیگر زرعی مصنوعات، آئی ٹی اور سروسز، چمڑا، اسپورٹس گڈز اور سرجیکل آلات شامل ہیں۔ یہ ارتکاز ایک جانب مہارت اور تاریخی ترقی کا نتیجہ ہے لیکن دوسری جانب خطرے کی علامت بھی ہے کیونکہ کسی ایک بڑے شعبے میں عالمی طلب میں کمی یا تجارتی پابندی پورے برآمدی نظام کو متاثر کر سکتی ہے۔
پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس کے مطابق ٹیکسٹائل سیکٹر مجموعی برآمدات کا تقریباً پچپن فیصد حصہ فراہم کرتا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ شعبہ پاکستان کی برآمدی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ ٹیکسٹائل کے اندرونی ڈھانچے میں کپاس کی کاشت، جننگ، اسپننگ، ویونگ، پروسیسنگ اور گارمنٹ سازی کے مراحل شامل ہیں، جو ایک مربوط صنعتی زنجیر تشکیل دیتے ہیں۔ ریڈی میڈ گارمنٹس، نٹ ویئر، بیڈ ویئر، تولیے، یارن اور فیبرک اس شعبے کی اہم مصنوعات ہیں۔ سالانہ ٹیکسٹائل برآمدات سولہ سے اٹھارہ ارب ڈالر کے درمیان رہتی ہیں، اگرچہ عالمی کساد بازاری، توانائی کی قیمتوں اور زر مبادلہ کی شرح میں اتار چڑھاؤ کے باعث اس میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے۔ امریکہ پاکستان کا سب سے بڑا خریدار ہے جہاں گارمنٹس اور ہوم ٹیکسٹائل کی مانگ نمایاں ہے، اس کے علاوہ یورپی یونین، برطانیہ اور جرمنی بھی اہم منڈیاں ہیں۔ یورپی یونین کی جی ایس پی پلس سہولت نے پاکستانی مصنوعات کو ترجیحی رسائی فراہم کی ہے، تاہم اس کے لیے بین الاقوامی معاہدوں اور انسانی حقوق کے تقاضوں کی پابندی ضروری ہے۔ ٹیکسٹائل سیکٹر کو درپیش چیلنجز میں بجلی اور گیس کی بلند قیمتیں، خام مال کی لاگت میں اضافہ، علاقائی مسابقت خصوصاً بنگلہ دیش، بھارت اور ویتنام سے مقابلہ، پرانی مشینری اور تحقیق و ترقی میں محدود سرمایہ کاری شامل ہیں۔ اس کے باوجود ویلیو ایڈیشن، برانڈنگ، جدید ڈیزائننگ اور ماحول دوست پیداوار کے ذریعے اس شعبے میں مزید ترقی کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
زرعی برآمدات میں چاول سب سے نمایاں مقام رکھتا ہے اور پاکستان باسمتی چاول کی وجہ سے عالمی سطح پر منفرد پہچان رکھتا ہے۔ ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کے مطابق چاول کی سالانہ برآمدات تقریباً ڈھائی سے تین ارب ڈالر تک پہنچتی ہیں اور بعض برسوں میں عالمی طلب میں اضافے کے باعث یہ اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہیں۔ چین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور یورپی ممالک پاکستانی چاول کے بڑے خریدار ہیں۔ باسمتی چاول کی خوشبو، ذائقہ اور معیار اسے عالمی منڈی میں ممتاز بناتے ہیں، تاہم بھارتی چاول سے مسابقت قیمتوں پر دباؤ ڈالتی ہے۔ زرعی شعبے کو موسمیاتی تبدیلی، پانی کی کمی، سیلاب، بیجوں کے معیار اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کی محدود دستیابی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ اگر تحقیق، جدید آبپاشی نظام، مکینائزیشن، کولڈ اسٹوریج اور برانڈنگ پر توجہ دی جائے تو نہ صرف چاول بلکہ آم، کینو، سبزیاں اور سمندری غذا جیسی دیگر زرعی مصنوعات کی برآمدات میں بھی نمایاں اضافہ ممکن ہے۔
چمڑے اور لیدر مصنوعات کا شعبہ بھی پاکستان کی برآمدی ساخت میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور اس کی سالانہ برآمدات تقریباً آٹھ سو ملین سے ایک ارب ڈالر کے درمیان رہتی ہیں۔ اس شعبے میں جوتے، جیکٹس، بیگز، بیلٹس اور گلوز شامل ہیں اور لاہور، کراچی اور سیالکوٹ اس صنعت کے بڑے مراکز ہیں۔ عالمی سطح پر ماحول دوست پیداوار اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی طلب میں اضافہ ہو رہا ہے جس سے پاکستانی صنعت کو نئے مواقع مل سکتے ہیں، تاہم ماحولیاتی ضوابط، ٹینریز کی جدید کاری اور فیشن ٹرینڈ کے مطابق ڈیزائننگ کی ضرورت اس شعبے کے لیے اہم تقاضے ہیں۔ اسپورٹس گڈز کا شعبہ خصوصاً سیالکوٹ کی وجہ سے عالمی شہرت رکھتا ہے جہاں فٹ بال، کرکٹ بیٹ، ہاکی اسٹکس اور دیگر کھیلوں کا سامان تیار کیا جاتا ہے۔ سالانہ چار سو سے پانچ سو ملین ڈالر کی برآمدات کے ساتھ یہ شعبہ اگرچہ مجموعی حجم میں چھوٹا ہے لیکن معیار اور مہارت کے اعتبار سے نمایاں مقام رکھتا ہے اور عالمی کھیلوں کے مقابلوں میں استعمال ہونے والی مصنوعات پاکستان کی صنعتی صلاحیت کا ثبوت ہیں۔ سرجیکل آلات کا شعبہ بھی تقریباً پانچ سو ملین ڈالر سالانہ برآمدات فراہم کرتا ہے اور پاکستان عالمی مارکیٹ میں قابل ذکر حصہ رکھتا ہے، اس شعبے میں معیار، جراثیم سے پاک تیاری، بین الاقوامی سرٹیفیکیشن اور طبی ضوابط کی سختی کے باعث مسلسل اپ گریڈیشن کی ضرورت رہتی ہے۔
آئی ٹی اور سروسز کا شعبہ گزشتہ برسوں میں تیزی سے ابھرا ہے اور پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے مطابق آئی ٹی برآمدات ڈھائی سے تین ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں۔ سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، موبائل ایپلیکیشنز، فری لانسنگ، بزنس پراسیس آؤٹ سورسنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور کلاؤڈ سروسز اس شعبے کے اہم اجزا ہیں۔ نوجوان آبادی، انگریزی زبان پر دسترس اور نسبتاً کم لاگت پاکستان کو عالمی ڈیجیٹل مارکیٹ میں مسابقتی بناتی ہے، تاہم اسکل گیپ، انٹرنیٹ انفراسٹرکچر، عالمی برانڈنگ اور سرمایہ کاری کی کمی رکاوٹیں پیدا کرتی ہیں۔ اگر تعلیمی اصلاحات، ٹیکنالوجی پارکس، اسٹارٹ اپ کلچر اور برآمدی مراعات کو فروغ دیا جائے تو یہ شعبہ مستقبل میں برآمدی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلی لا سکتا ہے اور ٹیکسٹائل پر انحصار کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

مجموعی چیلنجز، جغرافیائی منڈیوں کا تفصیلی تجزیہ، پالیسی مسائل، مستقبل کی حکمت عملی

پاکستان کی برآمدی ساخت کو سمجھنے کے لیے صرف شعبہ جاتی تجزیہ کافی نہیں بلکہ جغرافیائی منڈیوں، عالمی معاشی رجحانات، تجارتی پالیسیوں اور داخلی معاشی حالات کا جائزہ بھی ضروری ہے کیونکہ برآمدات محض پیداوار کا نتیجہ نہیں ہوتیں بلکہ یہ بین الاقوامی طلب، تجارتی معاہدوں، کرنسی کی قدر، لاجسٹکس نظام اور سفارتی تعلقات سے گہرا تعلق رکھتی ہیں۔ پاکستان کی برآمدات کا سب سے بڑا حصہ امریکہ کو جاتا ہے جو گارمنٹس، ہوم ٹیکسٹائل اور آئی ٹی سروسز کا اہم خریدار ہے، اس کے بعد یورپی یونین کے ممالک جن میں جرمنی، نیدرلینڈز، اسپین اور اٹلی شامل ہیں نمایاں مقام رکھتے ہیں، برطانیہ بریگزٹ کے بعد بھی ایک مستحکم منڈی کے طور پر موجود ہے جبکہ چین پاکستان کے لیے نہ صرف درآمدی بلکہ برآمدی اعتبار سے بھی اہم شراکت دار ہے خصوصاً چاول اور کچھ زرعی مصنوعات کے لیے، مشرق وسطیٰ کے ممالک خاص طور پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات خوراک، چاول اور ٹیکسٹائل مصنوعات کے بڑے خریدار ہیں۔ منڈیوں کی یہ جغرافیائی تقسیم پاکستان کو کسی حد تک تنوع فراہم کرتی ہے لیکن عالمی کساد بازاری، افراط زر، جنگی تنازعات اور سپلائی چین میں رکاوٹیں برآمدات کو متاثر کر سکتی ہیں جیسا کہ کووڈ انیس کے دوران عالمی تجارت میں شدید کمی دیکھی گئی تھی۔
برآمدی کارکردگی کا ایک اہم پہلو کرنسی کی قدر ہے کیونکہ جب مقامی کرنسی کی قدر کم ہوتی ہے تو برآمدات بظاہر سستی ہو جاتی ہیں اور عالمی منڈی میں مسابقت بڑھتی ہے لیکن دوسری طرف درآمدی خام مال مہنگا ہو جاتا ہے جس سے پیداواری لاگت بڑھ سکتی ہے۔ پاکستان میں روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ نے برآمدی شعبے کو ملے جلے اثرات دیے ہیں، بعض اوقات برآمد کنندگان کو فائدہ ہوا لیکن توانائی، مشینری اور کیمیکلز کی درآمد مہنگی ہونے سے لاگت میں اضافہ بھی دیکھنے میں آیا۔ اسی طرح توانائی کی بلند قیمتیں پاکستان کے صنعتی شعبے کے لیے ایک مستقل چیلنج رہی ہیں کیونکہ ٹیکسٹائل، چمڑا اور دیگر صنعتیں توانائی پر انحصار کرتی ہیں، اگر بجلی اور گیس کی فراہمی مہنگی یا غیر یقینی ہو تو عالمی آرڈرز کی بروقت تکمیل مشکل ہو جاتی ہے اور خریدار متبادل ممالک کا رخ کر سکتے ہیں۔
لاجسٹکس اور انفراسٹرکچر بھی برآمدی مسابقت میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ بندرگاہوں پر تاخیر، کسٹمز کلیئرنس میں سست روی، سڑک اور ریل کے محدود نیٹ ورک اور کولڈ چین کی کمی زرعی اور صنعتی دونوں شعبوں کو متاثر کرتی ہے۔ اگر اشیاء بروقت اور محفوظ انداز میں منڈی تک نہ پہنچ سکیں تو معیار متاثر ہوتا ہے اور عالمی خریدار اعتماد کھو سکتے ہیں۔ جدید بندرگاہی نظام، ڈیجیٹل کسٹمز، ون ونڈو آپریشن اور مربوط ٹرانسپورٹ نیٹ ورک برآمدات کے فروغ کے لیے ناگزیر ہیں۔
پاکستان کی برآمدی ساخت میں ایک اور اہم مسئلہ ویلیو ایڈیشن کی کمی ہے۔ مثال کے طور پر اگر خام کپاس یا یارن کی بجائے تیار ملبوسات اور برانڈڈ مصنوعات برآمد کی جائیں تو فی یونٹ زیادہ زرمبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح خام چمڑے کی بجائے تیار جوتے اور فیشن مصنوعات زیادہ منافع بخش ہوتی ہیں۔ زرعی شعبے میں بھی خام پھل برآمد کرنے کے بجائے پراسیسڈ فوڈ، جوسز اور پیک شدہ مصنوعات زیادہ آمدنی دے سکتی ہیں۔ ویلیو ایڈیشن کے لیے تحقیق و ترقی، ڈیزائننگ، مارکیٹنگ اور برانڈنگ میں سرمایہ کاری ضروری ہے جو پاکستان میں نسبتاً کم ہے۔
علاقائی مسابقت بھی ایک نمایاں عنصر ہے۔ بنگلہ دیش نے ٹیکسٹائل اور گارمنٹس کے شعبے میں کم لاگت اور پالیسی تسلسل کے ذریعے عالمی منڈی میں مضبوط مقام بنایا ہے، ویتنام نے آزاد تجارتی معاہدوں کے ذریعے یورپی اور امریکی منڈیوں تک بہتر رسائی حاصل کی ہے، بھارت زرعی اور آئی ٹی شعبے میں نمایاں پیش رفت کر چکا ہے۔ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی پالیسیوں میں تسلسل، شفافیت اور برآمدی مراعات کو مؤثر انداز میں نافذ کرے تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو اور صنعتیں طویل مدتی منصوبہ بندی کر سکیں۔
آئی ٹی شعبے کے تناظر میں دیکھا جائے تو عالمی ڈیجیٹل معیشت تیزی سے پھیل رہی ہے اور ریموٹ ورک، فری لانسنگ اور آن لائن سروسز کی مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان کے نوجوان فری لانسرز عالمی پلیٹ فارمز پر نمایاں کارکردگی دکھا رہے ہیں لیکن باضابطہ آئی ٹی کمپنیوں کی تعداد اور عالمی سطح پر برانڈ شناخت ابھی محدود ہے۔ اگر حکومت ٹیکنالوجی پارکس، ٹیکس مراعات، وینچر کیپیٹل اور ہنر مندی کی تربیت کے پروگراموں کو فروغ دے تو آئی ٹی برآمدات چند برسوں میں نمایاں حد تک بڑھ سکتی ہیں اور مجموعی برآمدی ساخت میں تنوع پیدا ہو سکتا ہے۔
پالیسی سطح پر برآمدی ترقی کے لیے ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے جس میں قلیل مدتی اور طویل مدتی اقدامات شامل ہوں۔ قلیل مدتی اقدامات میں ایکسپورٹ ری فنانس اسکیم، ڈیوٹی ڈرا بیک، ریفنڈز کی فوری ادائیگی اور توانائی کی مسابقتی قیمتیں شامل ہو سکتی ہیں جبکہ طویل مدتی اقدامات میں صنعتی اپ گریڈیشن، ٹیکنالوجی کی منتقلی، تعلیم اور ہنر کی بہتری، تحقیق و ترقی میں سرمایہ کاری اور نئے تجارتی معاہدے شامل ہونے چاہئیں۔ خصوصی اقتصادی زونز اور برآمدی پروسیسنگ زونز صنعتی سرگرمیوں کو منظم اور تیز کر سکتے ہیں بشرطیکہ وہاں بنیادی سہولیات اور پالیسی استحکام موجود ہو۔
مستقبل کی حکمت عملی میں برآمدی تنوع کو مرکزی حیثیت دینی چاہیے تاکہ معیشت کسی ایک شعبے پر حد سے زیادہ انحصار نہ کرے۔ انجینئرنگ مصنوعات، آٹو پارٹس، فارماسیوٹیکل اشیاء، کیمیکلز اور قابل تجدید توانائی سے متعلقہ آلات ایسے شعبے ہیں جن میں عالمی طلب بڑھ رہی ہے اور پاکستان اپنی صنعتی بنیاد کو مضبوط بنا کر ان میں حصہ حاصل کر سکتا ہے۔ اسی طرح حلال فوڈ کی عالمی مارکیٹ تیزی سے پھیل رہی ہے اور پاکستان اپنی مذہبی اور زرعی شناخت کے باعث اس میدان میں نمایاں کردار ادا کر سکتا ہے۔
اگر مجموعی تجزیہ کیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کی برآمدی ساخت میں صلاحیت کی کمی نہیں بلکہ ساختی اصلاحات، پالیسی تسلسل، ٹیکنالوجی اپ گریڈیشن اور عالمی معیار کے مطابق پیداوار کی ضرورت ہے۔ انسانی وسائل کی ترقی، خواتین کی صنعتی شمولیت، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کی معاونت اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ سے برآمدات میں پائیدار اضافہ ممکن ہے۔ برآمدات میں اضافہ نہ صرف زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرے گا بلکہ صنعتی پیداوار، روزگار اور مجموعی قومی آمدنی میں بھی اضافہ کرے گا جس سے معاشی استحکام اور سماجی بہتری کے اہداف حاصل کیے جا سکیں گے۔

زرعی شعبے ، چمڑا، اسپورٹس گڈز ، سرجیکل آلات، آئی ٹی اور ڈیجیٹل سروسز، مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، ڈیٹا اینالیٹکس اور ای کامرس میں اصلاحات کی ضرورت ہے

پاکستان کی برآمدی ساخت کے جامع تجزیے کے بعد یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ مستقبل کے امکانات، مقداری تخمینوں، پالیسی روڈ میپ اور حتمی نتائج کو مربوط انداز میں بیان کیا جائے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ موجودہ ڈھانچے کو کس طرح زیادہ متوازن، متنوع اور پائیدار بنایا جا سکتا ہے۔ پاکستان کے پاس قدرتی وسائل، زرعی زمین، نوجوان افرادی قوت، اسٹریٹجک محل وقوع اور صنعتی بنیاد موجود ہے، تاہم ان تمام عناصر کو برآمدی حکمت عملی کے تحت منظم اور مربوط کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر موجودہ برآمدات تقریباً تیس سے بتیس ارب ڈالر کے درمیان ہیں تو مناسب پالیسی اصلاحات، ویلیو ایڈیشن، منڈیوں کے تنوع اور ٹیکنالوجی اپ گریڈیشن کے ذریعے آئندہ پانچ سے سات برسوں میں انہیں چالیس سے پچاس ارب ڈالر تک بڑھایا جا سکتا ہے، بشرطیکہ داخلی معاشی استحکام اور عالمی حالات نسبتاً سازگار رہیں۔
سب سے پہلے ٹیکسٹائل شعبے میں اصلاحات کی ضرورت ہے کیونکہ یہ سب سے بڑا برآمدی ستون ہے۔ اگر اس شعبے میں خام یارن یا کم ویلیو مصنوعات کے بجائے تیار ملبوسات، برانڈڈ گارمنٹس اور تکنیکی ٹیکسٹائل تیار کیے جائیں تو فی یونٹ آمدنی میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ تکنیکی ٹیکسٹائل میں میڈیکل فیبرکس، اسپورٹس ویئر، انڈسٹریل فیبرکس اور ماحول دوست کپڑے شامل ہیں جن کی عالمی طلب بڑھ رہی ہے۔ اس کے لیے جدید مشینری، ڈیزائننگ سینٹرز، فیشن انسٹیٹیوٹس اور بین الاقوامی برانڈز کے ساتھ شراکت داری ضروری ہے۔ توانائی کی مسابقتی قیمتیں، برآمدی ری فنڈز کی بروقت ادائیگی اور پالیسی تسلسل اس شعبے کو استحکام فراہم کر سکتے ہیں۔ اگر ٹیکسٹائل کی سالانہ برآمدات اٹھارہ ارب ڈالر سے بڑھا کر پچیس ارب ڈالر تک لے جائی جائیں تو مجموعی برآمدی حجم میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔
زرعی شعبے میں پیداواری لاگت کم کرنے، فی ایکڑ پیداوار بڑھانے اور پراسیسنگ سہولیات قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ چاول کے ساتھ ساتھ گندم سے بنی مصنوعات، پراسیسڈ فوڈ، حلال گوشت، ڈیری مصنوعات اور پیک شدہ پھل عالمی منڈی میں اچھی قیمت حاصل کر سکتے ہیں۔ کولڈ چین نیٹ ورک، فوڈ سیفٹی سرٹیفیکیشن اور بین الاقوامی معیار کی پیکجنگ اس سلسلے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ اگر زرعی برآمدات کو تین سے بڑھا کر چھ ارب ڈالر تک لے جایا جائے تو دیہی معیشت کو بھی فائدہ ہو گا اور برآمدی تنوع میں اضافہ ہو گا۔
چمڑا، اسپورٹس گڈز اور سرجیکل آلات جیسے شعبے اگرچہ حجم میں نسبتاً چھوٹے ہیں لیکن ان میں مہارت اور عالمی پہچان موجود ہے۔ ان شعبوں میں برانڈنگ، ای کامرس پلیٹ فارمز اور عالمی نمائشوں میں شرکت کے ذریعے نئی منڈیاں حاصل کی جا سکتی ہیں۔ اسپورٹس گڈز میں جدید مواد اور ڈیزائن متعارف کروا کر عالمی اسپورٹس برانڈز کے ساتھ شراکت داری کی جا سکتی ہے۔ سرجیکل آلات میں تحقیق و ترقی اور میڈیکل ڈیوائسز کی نئی اقسام کی تیاری کے ذریعے برآمدات کو ایک ارب ڈالر تک بڑھانے کی صلاحیت موجود ہے۔
آئی ٹی اور ڈیجیٹل سروسز مستقبل کا سب سے روشن شعبہ ہے۔ عالمی ڈیجیٹل معیشت تیزی سے پھیل رہی ہے اور مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، ڈیٹا اینالیٹکس اور ای کامرس میں خدمات کی مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان کی نوجوان افرادی قوت اگر جدید مہارتوں سے آراستہ ہو جائے تو آئی ٹی برآمدات کو تین ارب ڈالر سے بڑھا کر دس ارب ڈالر تک لے جانا ممکن ہے۔ اس مقصد کے لیے یونیورسٹیوں میں جدید نصاب، آن لائن تربیتی پروگرام، انکیوبیشن سینٹرز، اسٹارٹ اپ فنڈنگ اور عالمی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری ضروری ہے۔ حکومت اگر ٹیکس مراعات، غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے آسانیاں اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کو مستحکم کرے تو آئی ٹی شعبہ برآمدی ڈھانچے میں انقلابی تبدیلی لا سکتا ہے۔
برآمدی فروغ کے لیے سفارتی اور تجارتی پالیسی بھی کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ آزاد تجارتی معاہدے، ترجیحی تجارتی رسائی اور علاقائی تعاون کے ذریعے نئی منڈیوں تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ افریقہ، وسطی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا ابھرتی ہوئی منڈیاں ہیں جہاں پاکستانی مصنوعات کے لیے مواقع موجود ہیں۔ تجارتی مشنز، نمائشیں اور برآمدی کونسلز ان منڈیوں میں رسائی کو آسان بنا سکتی ہیں۔ اسی طرح بیرون ملک پاکستانی کمیونٹی کو بھی تجارتی روابط کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
مالیاتی اور ادارہ جاتی اصلاحات بھی ناگزیر ہیں۔ بینکاری نظام کے ذریعے سستے برآمدی قرضے، ایکسپورٹ کریڈٹ گارنٹی اسکیمیں اور انشورنس سہولیات چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو عالمی منڈی میں داخل ہونے میں مدد دے سکتی ہیں۔ ڈیجیٹل کسٹمز سسٹم، ون ونڈو آپریشن اور شفاف ریگولیٹری فریم ورک کاروباری لاگت کو کم کر سکتے ہیں۔ اگر پالیسیوں میں تسلسل ہو اور اچانک تبدیلیاں نہ کی جائیں تو سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو گا۔
پائیدار ترقی کے تناظر میں ماحول دوست پیداوار اور گرین انرجی کا استعمال بھی اہم ہوتا جا رہا ہے کیونکہ یورپی اور امریکی منڈیاں کاربن فٹ پرنٹ اور ماحولیاتی معیارات پر سختی سے عمل کر رہی ہیں۔ اگر پاکستانی صنعتیں قابل تجدید توانائی، پانی کی بچت اور فضلہ کے مؤثر انتظام کو اپنائیں تو نہ صرف عالمی تقاضے پورے ہوں گے بلکہ طویل مدتی لاگت میں بھی کمی آئے گی۔
پاکستان کی برآمدی ساخت اگرچہ تاریخی طور پر ٹیکسٹائل پر مرکوز رہی ہے لیکن مستقبل کی پائیدار ترقی کے لیے تنوع، ویلیو ایڈیشن اور ٹیکنالوجی اپ گریڈیشن ضروری ہیں۔ موجودہ چیلنجز جیسے توانائی کی لاگت، لاجسٹکس مسائل، اسکل گیپ اور پالیسی عدم تسلسل کو مؤثر حکمت عملی کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔ اگر مربوط قومی برآمدی پالیسی تشکیل دی جائے، صنعتی و زرعی اصلاحات نافذ کی جائیں، آئی ٹی اور انجینئرنگ شعبوں کو ترجیح دی جائے اور عالمی منڈیوں میں فعال سفارت کاری کی جائے تو پاکستان آئندہ دہائی میں اپنی برآمدات کو نمایاں حد تک بڑھا سکتا ہے۔ اس طرح نہ صرف تجارتی خسارہ کم ہو گا بلکہ زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم ہوں گے، صنعتی پیداوار میں اضافہ ہو گا، روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور معاشی خودمختاری کا خواب حقیقت کے قریب تر آ سکے گا۔

مزید معلومات کے لیے براہ کرم ہماری قومی خبریں دیکھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں