پاکستان اسٹاک ایکسچینج 0

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تاریخی مندی، حقائق، اسباب اور ذمہ داری کا تعین جلد ہو جائے گا

(Publish from Houston Texas USA)

(میاں افتخار احمد)

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تاریخی مندی: کے ایس ای-100 انڈیکس 6,682 پوائنٹس گر گیا، ایک ہی دن میں 713 ارب روپے کا صفایا

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں 19 فروری 2026 کو تاریخ کی سب سے بڑی یک روزہ مندی ریکارڈ کی گئی جب کے ایس ای 100 انڈیکس میں 6682 پوائنٹس کی کمی واقع ہوئی اور انڈیکس ایک لاکھ 72 ہزار 170 پوائنٹس پر بند ہوا، دوران کاروبار ایک موقع پر گراوٹ 7 ہزار سے زائد پوائنٹس تک بھی پہنچ گئی جس سے مارکیٹ میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا، اس مندی کے نتیجے میں مارکیٹ کی مجموعی مالیت میں تقریباً 713 ارب روپے کی کمی واقع ہوئی جو کسی ایک دن میں سرمایہ کاروں کے لیے غیر معمولی نقصان سمجھا جا رہا ہے، گراوٹ کا آغاز کاروبار کے ابتدائی اوقات میں ہی فروخت کے دباؤ سے ہوا جب بڑے ادارہ جاتی سرمایہ کاروں اور بعض غیر ملکی فنڈز نے حصص فروخت کرنا شروع کئے، ابتدائی چند گھنٹوں میں انڈیکس تیزی سے نیچے آیا جس کے بعد گھبراہٹ میں چھوٹے سرمایہ کار بھی فروخت میں شامل ہو گئے اور یوں سیلنگ پریشر میں شدت آتی گئی، بینکنگ، آئل اینڈ گیس، سیمنٹ، فرٹیلائزر، پاور اور بڑے صنعتی گروپس کے شیئرز میں نمایاں کمی دیکھی گئی جس نے انڈیکس کو مزید نیچے دھکیل دیا، مارکیٹ میں ٹریڈ ہونے والی بیشتر کمپنیوں کے حصص منفی زون میں بند ہوئے جبکہ صرف چند کمپنیوں میں معمولی بہتری دیکھی گئی، تجزیہ کاروں کے مطابق اس شدید مندی کے پس منظر میں متعدد عوامل کارفرما تھے جن میں عالمی مالیاتی غیر یقینی صورتحال، بیرونی سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع کا حصول اور سرمایہ نکالنا، شرح سود اور معاشی پالیسیوں سے متعلق خدشات، کرنٹ اکاؤنٹ اور زرمبادلہ ذخائر پر دباؤ، اور آئی ایم ایف پروگرام سے متعلق قیاس آرائیاں شامل ہیں، بعض ماہرین کے مطابق مارکیٹ گزشتہ کئی ہفتوں سے مسلسل تیزی کے بعد اوور بوٹ صورتحال میں تھی جس کے باعث معمولی منفی خبر بھی بڑے تصحیحی عمل کا سبب بن سکتی تھی، ایک رائے یہ بھی ہے کہ لیکویڈیٹی کی کمی اور رمضان کے قریب کم ٹریڈنگ حجم نے اتار چڑھاؤ کو بڑھایا، جہاں تک ذمہ داری کا تعلق ہے تو اسے کسی ایک فرد یا ادارے پر ڈالنا درست نہیں ہوگا کیونکہ اسٹاک مارکیٹ بنیادی طور پر توقعات، اعتماد اور معلومات کے بہاؤ پر چلتی ہے، تاہم پالیسی غیر یقینی، معاشی فیصلوں میں تاخیر، حکومتی بیانات میں تضاد، اور بروقت ریگولیٹری وضاحت نہ آنا سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کرتا ہے جس کا براہ راست اثر مارکیٹ پر پڑتا ہے، اسی طرح بڑے بروکریج ہاؤسز اور ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی جانب سے بیک وقت فروخت بھی گراوٹ کو تیز کر دیتی ہے، نتیجتاً یہ مندی محض ایک دن کا واقعہ نہیں بلکہ معاشی توقعات، نفسیاتی ردعمل، عالمی حالات اور مقامی پالیسی ماحول کے مجموعی اثر کا نتیجہ تھی، اب آئندہ سمت کا انحصار حکومتی معاشی اقدامات، مالیاتی استحکام، بیرونی سرمایہ کاری کے رجحان اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی پر ہوگا۔

مزید معلومات کے لیے براہ کرم ہماری قومی خبریں دیکھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں