writer 0

برزخ :شعور کی آزادی، وقت کی موت، اور ابدیت کی پہلی جھلک ہے

(Publish from Houston Texas USA)

(میاں افتخار احمد)

برزخ: زمانہ اور ابدیت کے درمیان رکاوٹ

دنیا، برزخ، قیامت، جنت اور دوزخ دراصل صرف مقامات نہیں بلکہ شعور کے مختلف مدارج ہیں اور ان سب کو سمجھنے کی کنجی وقت یعنی ٹائم کے تصور میں پوشیدہ ہے، انسان دنیا میں پیدا ہوتے ہی ایک ایسے نظام میں داخل ہوتا ہے جہاں وقت خطی ہے، گھڑی کی سوئیاں چلتی ہیں، دن رات بدلتے ہیں، عمر بڑھتی ہے، جسم کمزور ہوتا ہے، یادداشت ماضی میں جاتی ہے اور خواہش مستقبل میں، یہی وہ قید ہے جسے قرآن دنیا کہتا ہے اور اسی لیے دنیا کو فانی قرار دیتا ہے کیونکہ فنا دراصل جسم کی نہیں بلکہ وقت کی ہے، انسان جسم کے ساتھ وقت میں بندھا ہوا ہے اور جیسے ہی موت آتی ہے جسم اور وقت کا رشتہ ٹوٹ جاتا ہے، یہی لمحہ برزخ کا دروازہ ہے، قرآن برزخ کو دو چیزوں کے درمیان حائل حد کہتا ہے، یہ حد دراصل دنیا کے وقت اور آخرت کی ابدیت کے درمیان ہے، برزخ کوئی قبر کی مٹی نہیں بلکہ ایک شعوری عالم ہے جہاں جسم ختم ہو جاتا ہے مگر ادراک باقی رہتا ہے، یہی وجہ ہے کہ قرآن قیامت کے دن انسان کے اس جملے کو نقل کرتا ہے کہ ہم ایک دن یا دن کے کچھ حصے ٹھہرے رہے، حالانکہ دنیا کے حساب سے ہزاروں سال گزر چکے ہوں گے، اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ برزخ میں وقت کیلنڈر نہیں رہتا بلکہ احساس بن جاتا ہے، شدت بن جاتا ہے، کیفیت بن جاتا ہے، یہی نکتہ قبر کے عذاب اور راحت کو بھی سمجھاتا ہے کہ وہاں لمبائی یا مدت نہیں بلکہ شعور کی گہرائی فیصلہ کن ہے، تصوف اسی بات کو یوں بیان کرتا ہے کہ وقت دراصل وہم ہے اور اصل حقیقت حال ہے، صوفیاء کے نزدیک جو شخص حال میں داخل ہو جائے وہ وقت سے آزاد ہو جاتا ہے، اسی لیے ابن عربی عالم مثال کو برزخ کہتے ہیں اور خواب کو برزخ کی کھڑکی، انسان روز سوتے وقت دیکھتا ہے کہ چند لمحوں میں برسوں کی کہانی گزر جاتی ہے، ملاقاتیں ہوتی ہیں، شہر بنتے اور مٹتے ہیں، خوشی اور خوف دونوں شدت کے ساتھ محسوس ہوتے ہیں، یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ شعور وقت کا محتاج نہیں، وقت جسم کا تقاضا ہے، یہی وجہ ہے کہ کشف اور مکاشفہ میں صوفی مستقبل کے واقعات دیکھ لیتا ہے یا ماضی کے مناظر میں داخل ہو جاتا ہے کیونکہ اس لمحے وہ برزخی شعور میں داخل ہو چکا ہوتا ہے، موت کے بعد یہی کیفیت مستقل ہو جاتی ہے، فلسفہ بھی اسی سمت اشارہ کرتا ہے، افلاطون دنیا کو سائے کہتا ہے، کانٹ وقت کو ذہن کی تشکیل قرار دیتا ہے، ہائیڈیگر موت کو وقت کے خاتمے کا دروازہ کہتا ہے، جدید سائنس اس تصور کی تصدیق اس وقت کرتی ہے جب آئن اسٹائن وقت کو نسبتی قرار دیتا ہے اور بتاتا ہے کہ رفتار بڑھنے سے وقت سست ہو جاتا ہے اور بلیک ہول کے کنارے وقت تقریباً رک جاتا ہے، کاسمولوجی یہ تسلیم کرتی ہے کہ وقت بگ بینگ کے ساتھ شروع ہوا اور کائنات کے خاتمے پر ختم ہو جائے گا، یہ بات قرآن کے اس اعلان سے ہم آہنگ ہے کہ قیامت کے دن زمین و آسمان بدل دیے جائیں گے، سورج لپیٹ دیا جائے گا، ستارے بجھ جائیں گے، یعنی وہ تمام کائناتی گھڑیاں جن سے وقت ناپا جاتا ہے ٹوٹ جائیں گی، قیامت دراصل وقت کا انہدام ہے، اسی لیے قرآن کہتا ہے کہ ایک دن پچاس ہزار سال کے برابر ہو گا کیونکہ وہاں انسانی پیمانے بے معنی ہو جائیں گے، قیامت کے بعد جنت اور دوزخ کا مرحلہ آتا ہے جو کسی ٹائم لائن پر نہیں بلکہ وجودی حالت پر قائم ہے، جنت میں نہ انتظار ہے نہ اختتام، دوزخ میں نہ موت ہے نہ فرار، یہاں ہمیشہ ایک مدت نہیں بلکہ حالت ہے، یہی وجہ ہے کہ جنت و دوزخ کو ابدی کہا گیا ہے، دیگر الہامی مذاہب بھی اسی تصور کے گرد گھومتے ہیں، یہودیت کا شیول، عیسائیت کا ہیڈیز اور پرگٹری، زرتشت کا چینوت پل سب دراصل برزخ کے مختلف نام ہیں، سب میں روح فیصلہ تک ایک درمیانی کیفیت میں رہتی ہے، فرق صرف تعبیر کا ہے، نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دنیا وقت کی قید ہے، برزخ وقت کی تحلیل، قیامت وقت کا خاتمہ اور جنت و دوزخ وقت سے ماورا ابدیت، انسان اگر اس حقیقت کو دنیا میں سمجھ لے تو اس کی زندگی کا زاویہ بدل جاتا ہے کیونکہ پھر وہ جان لیتا ہے کہ اصل سرمایہ وقت نہیں بلکہ شعور ہے اور اصل کامیابی وقت کے اندر زیادہ جمع کرنا نہیں بلکہ وقت سے آزاد ہونا ہے۔
برزخ میں داخل ہونے کے بعد روح کسی خلا میں معلق نہیں ہو جاتی بلکہ ایک ایسے نظام میں داخل ہوتی ہے جہاں اعمال شکل اختیار کر لیتے ہیں، اسلام کا یہ تصور کہ نیکی اور بدی قبر میں سوال بن جاتی ہے دراصل ایک گہرا نفسیاتی اور وجودی اصول ہے، دنیا میں عمل جسم کے ذریعے ہوتا ہے مگر اثر شعور پر پڑتا ہے، موت کے بعد جسم ختم ہو جاتا ہے مگر وہی اثرات ایک زندہ حقیقت بن کر روح کے سامنے آ جاتے ہیں، اسی لیے قرآن کہتا ہے کہ انسان کے اعمال اس کے گلے کا ہار بنا دیے جائیں گے، یہ کوئی تمثیل نہیں بلکہ برزخی شعور کی اصل کیفیت ہے، نیک عمل سکون اور وسعت بن جاتا ہے اور بد عمل گھٹن اور خوف، یہی وجہ ہے کہ قبر یا برزخ کی تنگی یا کشادگی کسی مٹی کے گڑھے سے نہیں بلکہ شعور کے پھیلاؤ یا سکڑاؤ سے متعلق ہے، یہاں وقت نہ ہونے کے برابر ہے اس لیے سوال جواب لمحوں میں بھی ہو سکتے ہیں اور ایک مسلسل کیفیت بھی بن سکتے ہیں، یہ کیفیت روح کے اپنے وزن سے طے ہوتی ہے، صوفیاء اسی نکتے کو یوں بیان کرتے ہیں کہ انسان مرنے کے بعد کہیں نہیں جاتا بلکہ خود اپنے اندر داخل ہو جاتا ہے، جو اندر ہے وہی سامنے آ جاتا ہے، خواب کی مثال یہاں سب سے زیادہ واضح ہے کیونکہ خواب میں بھی کردار، مناظر اور مکالمے انسان خود تخلیق کرتا ہے مگر انہیں بیرونی حقیقت کی طرح جیتا ہے، برزخ میں یہ تخلیق لاشعوری نہیں بلکہ مکمل شعوری ہو جاتی ہے، اسی لیے قرآن کہتا ہے کہ آنکھیں نہیں اندھی ہوتیں بلکہ دل اندھے ہوتے ہیں، برزخ دراصل دل کی بینائی یا نابینائی کا عالم ہے، یہی وہ مرحلہ ہے جہاں روح پر واضح ہو جاتا ہے کہ دنیا میں جن چیزوں کو حقیقت سمجھا جاتا تھا وہ محض حجاب تھیں اور جن چیزوں کو نظرانداز کیا گیا وہ اصل تھیں، یہی انکشاف قیامت کی تمہید بنتا ہے، قیامت کو عام طور پر صرف حساب کتاب کا دن سمجھ لیا جاتا ہے حالانکہ قرآن کے بیانیے میں قیامت ایک کائناتی اور شعوری انقلاب ہے، جس طرح بگ بینگ سے کائنات وجود میں آئی اسی طرح قیامت ایک بگ کرنچ یا بگ فریز یا کسی نامعلوم کاسمک ایونٹ کی صورت میں وقت اور مکان دونوں کو لپیٹ دے گی، سائنس ابھی صرف امکانات کی بات کرتی ہے مگر قرآن نتیجہ بیان کرتا ہے کہ وہ دن آ کر رہے گا جب سب ظاہری نظام ٹوٹ جائیں گے، اس دن انسان اپنے اعمال کو سامنے مجسم دیکھے گا کیونکہ وقت ختم ہونے کے بعد پردہ بھی ختم ہو جاتا ہے، ماضی حال مستقبل ایک ہی منظر میں آ جاتے ہیں، اسی لیے حساب ایک لمحے میں ہو جاتا ہے کیونکہ وہاں انتظار نہیں ہوتا، فلسفہ اسے Eternal Now کہتا ہے یعنی ایسا حال جو کبھی ماضی نہیں بنتا، اسی حال میں جنت اور دوزخ کا فیصلہ ہوتا ہے، جنت دراصل اس شعور کا پھیلاؤ ہے جو حق کے ساتھ ہم آہنگ ہو چکا ہو اور دوزخ اس شعور کی آگ ہے جو اپنی ہی نفی میں جل رہا ہو، قرآن جب کہتا ہے کہ دوزخ کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے تو اس کا مطلب یہی ہے کہ انسان اپنے ہی منجمد باطن میں جلتا رہے گا، جنت میں نہ نیند ہے نہ تھکن کیونکہ وہاں وقت نہیں جو جسم کو گھسائے، وہاں خواہش پوری ہونے سے پہلے ہی سکون میں بدل جاتی ہے کیونکہ تاخیر نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہتی، دیگر الہامی روایات بھی اسی مقام پر آ کر خاموش ہو جاتی ہیں کیونکہ زبان وقت کی پیداوار ہے اور جہاں وقت ختم ہو جائے وہاں لفظ بھی اشارہ بن جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ انبیاء نے آخرت کی حقیقت کو زیادہ تر مثالوں میں بیان کیا، اصل حقیقت مثال سے آگے ہے، انسان اگر دنیا میں ہی یہ سمجھ لے کہ اس کی اصل شناخت جسم نہیں بلکہ شعور ہے تو اس کے لیے موت حادثہ نہیں بلکہ منتقلی بن جاتی ہے، برزخ اندھیرا نہیں بلکہ پردہ ہٹنے کا مرحلہ بنتا ہے، قیامت خوف نہیں بلکہ مکمل سچائی کا ظہور بن جاتی ہے اور جنت و دوزخ دور کی کہانیاں نہیں بلکہ اسی شعور کی آخری شکلیں بن جاتی ہیں جن کی بنیاد یہاں اور اب رکھی جا رہی ہے۔
اگر وقت ایک مطلق حقیقت نہیں بلکہ ہر عالم میں ایک مختلف کیفیت رکھتا ہے تو پھر سب سے بڑا سوال تقدیر کا پیدا ہوتا ہے، انسان ہمیشہ یہ پوچھتا آیا ہے کہ اگر سب کچھ لکھا جا چکا ہے تو اختیار کہاں ہے، قرآن اس تضاد کو وقت کے مختلف مدارج سے حل کرتا ہے، تقدیر لوحِ محفوظ میں ہے اور لوحِ محفوظ وقت سے ماورا ہے جبکہ انسان کا عمل دنیا کے وقت میں ظہور پذیر ہوتا ہے، یعنی جو چیز الٰہی علم میں ایک ساتھ موجود ہے وہ انسانی سطح پر مرحلہ وار کھلتی ہے، اسی لیے دعا تقدیر بدلتی ہے کیونکہ دعا دراصل وقت کے اندر کی آواز نہیں بلکہ وقت سے اوپر اٹھنے کی کوشش ہے، جب انسان اخلاص کے ساتھ دعا کرتا ہے تو وہ اپنے شعور کو اس سطح سے جوڑتا ہے جہاں ماضی اور مستقبل ایک ہیں، صوفیاء اسی کو حال کی طاقت کہتے ہیں، معراج النبی ﷺ اسی حقیقت کی سب سے واضح مثال ہے جہاں ایک ہی رات میں آسمانوں کا سفر ہوا، انبیاء سے ملاقات ہوئی، جنت و دوزخ کے مناظر دکھائے گئے اور پھر اسی رات واپسی ہو گئی، یہ واقعہ اس بات کا اعلان ہے کہ الٰہی نظام میں وقت انسان کے زمینی قوانین کا پابند نہیں، معراج دراصل برزخی شعور کی کامل ترین شکل ہے جو جسم کے ساتھ واقع ہوئی، یہی وجہ ہے کہ عقل وہاں رک جاتی ہے مگر شعور تسلیم کر لیتا ہے، دنیا میں رہتے ہوئے برزخی شعور تک پہنچنے کا راستہ بھی اسی نکتے سے کھلتا ہے، جب انسان اپنی توجہ ماضی کی پشیمانی اور مستقبل کی خوف سے نکال کر حال میں مرکوز کر لیتا ہے تو وہ وقت کی گرفت ڈھیلی کر دیتا ہے، ذکر اسی لیے وقت کو توڑتا ہے کیونکہ ذکر میں زبان حال میں ہوتی ہے مگر دل لا زمانی کیفیت میں داخل ہو جاتا ہے، نماز کو معراج المؤمن اسی لیے کہا گیا ہے کہ وہ انسان کو چند لمحوں کے لیے وقت کی قید سے نکال کر ابدیت کے دروازے پر کھڑا کر دیتی ہے، فلسفہ جدید میں اسے Conscious Presence کہا جاتا ہے جبکہ تصوف میں اسے فنا فی الوقت کہا گیا، یہی کیفیت مرنے کے بعد مستقل ہو جاتی ہے، دنیا میں جو شخص اس کیفیت سے ناآشنا رہتا ہے وہ موت کے بعد اچانک اس عالم میں جا گرتا ہے جہاں وقت نہیں ہوتا اور یہی اچانک پن خوف کی صورت اختیار کر لیتا ہے، جبکہ وہ لوگ جو دنیا میں ہی وقت سے اوپر اٹھنے کی مشق کر لیتے ہیں ان کے لیے برزخ اجنبی نہیں رہتا، یہی وجہ ہے کہ اولیاء موت کو محبوب سے ملاقات کہتے ہیں، قیامت اسی برزخی شعور کا اجتماعی ظہور ہے، جس دن ہر فرد کا اندرونی حال سب کے سامنے ظاہر ہو جائے گا، اس دن کسی گھڑی کی ضرورت نہیں ہو گی کیونکہ ہر شخص اپنے انجام کو فوراً پہچان لے گا، جدید سائنس یہاں ایک دلچسپ نکتہ فراہم کرتی ہے کہ اگر وقت شعور کے ساتھ جڑا ہوا ہے تو کائنات کے خاتمے پر شعور کا نقشہ بھی بدل جائے گا، یعنی قیامت صرف مادے کی نہیں بلکہ ادراک کی بھی ہوگی، یہی وہ مقام ہے جہاں سائنس خاموش اور وحی گویا ہو جاتی ہے، وحی کہتی ہے کہ انسان نے دنیا میں جو بیج بویا ہے وہی آخرت میں درخت بنے گا، وقت بیج اور درخت کے درمیان فاصلے کا نام ہے، جب وقت ختم ہو جائے گا تو بیج اور درخت ایک ہی حقیقت بن جائیں گے، یہی جنت اور دوزخ کا راز ہے، جنت وہ شعور ہے جو حق کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر وسعت اختیار کر چکا ہو اور دوزخ وہ شعور ہے جو اپنی ضد میں منجمد ہو کر خود کو جلا رہا ہو، انسان اگر آج یہ سمجھ لے کہ وہ صرف وقت گزارنے نہیں آیا بلکہ وقت کو معنی دینے آیا ہے تو اس کی زندگی کا ہر لمحہ عبادت بن سکتا ہے اور موت ایک دروازہ بن جاتی ہے نہ کہ اختتام، یہی وہ مقام ہے جہاں دنیا، برزخ، قیامت، جنت اور دوزخ ایک ہی مسلسل حقیقت کے مختلف نام بن جاتے ہیں اور وقت ایک سیڑھی ثابت ہوتا ہے جسے استعمال کر کے انسان ابدیت تک پہنچتا ہے۔
آج کا انسان جس تیز رفتار دنیا میں سانس لے رہا ہے وہ دراصل وقت کی سب سے سخت آمریت کا دور ہے، گھڑی، کیلنڈر، ڈیڈ لائن، اسکرین اور نوٹیفکیشن نے شعور کو لمحہ موجود سے کاٹ کر یا تو ماضی کی یادداشت میں قید کر دیا ہے یا مستقبل کے خوف میں دھکیل دیا ہے، یہی وہ کیفیت ہے جسے قرآن غفلت کہتا ہے، غفلت دراصل وقت کے شور میں حال کی آواز کا دب جانا ہے، جب انسان مسلسل وقت کے پیچھے بھاگتا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ وہ زندگی گزار رہا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ وقت اسے گزار رہا ہوتا ہے، اسی لیے جدید دور میں اضطراب، ڈپریشن اور بے معنویت بڑھتی جا رہی ہے کیونکہ شعور اپنی فطری لا زمانی مرکزیت سے ہٹ چکا ہے، اسلام اس بحران کا حل کسی فلسفیانہ تجرید میں نہیں بلکہ عملی شعور سازی میں دیتا ہے، نماز دن میں پانچ بار انسان کو وقت کے بہاؤ سے نکال کر حال میں واپس لاتی ہے، روزہ جسمانی وقت کو معطل کر کے شعور کو اندر کی طرف موڑ دیتا ہے، زکوٰۃ مستقبل کے خوف کو توڑتی ہے اور حج انسان کو ایک ایسے اجتماع میں داخل کرتا ہے جہاں لاکھوں لوگ ایک ہی لباس، ایک ہی عمل اور ایک ہی حال میں داخل ہو جاتے ہیں، یہ سب عبادات دراصل وقت شکن مشقیں ہیں، صوفیاء نے اسی لیے خلوت، ذکر اور مراقبہ کو اختیار کیا تاکہ شعور وقت کی سطح سے اٹھ کر معنی کی سطح تک پہنچ سکے، جدید سائنس یہاں ایک نیا زاویہ فراہم کرتی ہے کہ مسلسل اسکرین ایکسپوژر دماغ کے ٹائم پرسیپشن کو بگاڑ دیتا ہے جبکہ خاموشی اور توجہ وقت کے احساس کو وسعت دیتی ہے، یہ وہی بات ہے جو صوفی صدیوں سے کہہ رہے تھے کہ خاموشی میں وقت پگھلتا ہے، اجتماعی سطح پر اگر قومیں صرف ترقی کو رفتار سے ناپیں اور مقصد سے کاٹ دیں تو وہ بظاہر آگے بڑھتی ہیں مگر اندر سے برزخی کیفیت میں پھنس جاتی ہیں، یعنی نہ مکمل دنیا میں زندہ رہتی ہیں نہ آخرت کے لیے تیار ہوتی ہیں، یہی کیفیت اخلاقی زوال، ناانصافی اور بے روح سیاست کو جنم دیتی ہے، اگر قیامت کو وقت کے خاتمے کے طور پر سمجھا جائے تو یہ محض ایک دور کا واقعہ نہیں بلکہ ایک مستقل تنبیہ بن جاتی ہے کہ جو چیز وقت میں جمع کی جا رہی ہے وہی وقت کے بعد ظاہر ہو گی، میڈیا اگر انسان کو لمحہ بہ لمحہ سنسنی میں قید رکھے تو وہ برزخی شعور کی تیاری کے بجائے غفلت کی مشق بن جاتا ہے، تعلیم اگر صرف کیریئر تک محدود ہو تو وہ وقت کے غلام پیدا کرتی ہے، جبکہ وہ تعلیم جو معنی، سوال اور خاموشی سکھائے وہ انسان کو ابدیت کے لیے تیار کرتی ہے، یہی نکتہ اس پوری بحث کا حتمی خلاصہ ہے کہ دنیا، برزخ، قیامت، جنت اور دوزخ کوئی الگ الگ دنیائیں نہیں بلکہ شعور کی ایک ہی حقیقت کے مختلف زاویے ہیں، دنیا وہ مقام ہے جہاں وقت غالب ہے، برزخ وہ مرحلہ ہے جہاں وقت تحلیل ہو رہا ہے، قیامت وہ لمحہ ہے جہاں وقت ختم ہو جاتا ہے اور جنت و دوزخ وہ حالتیں ہیں جہاں وقت کی ضرورت باقی نہیں رہتی، انسان اگر دنیا میں ہی یہ ترتیب سمجھ لے تو اس کی زندگی خوف سے نہیں شعور سے چلنے لگتی ہے، موت انجام نہیں رہتی بلکہ پردہ ہٹنے کا عمل بن جاتی ہے، اور وقت دشمن نہیں بلکہ سیڑھی بن جاتا ہے، یہی وہ مقام ہے جہاں مذہب، فلسفہ، تصوف اور سائنس ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ایک ہی سچ کے مختلف لہجے بن جاتے ہیں، اور انسان کو یہ یاد دلاتے ہیں کہ اصل سوال یہ نہیں کہ مرنے کے بعد کیا ہو گا بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ وقت ختم ہونے سے پہلے ہم کس حال میں کھڑے ہوں گے۔
مزید پڑھنے کے لیے براہ کرم ہمارے مضامین دیکھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں