اسکرینز 0

کراچی میں ڈیجیٹل ایڈورٹائزمنٹ اسکرینز ہیک، غیر اخلاقی مواد نشر، تحقیقات شروع

(Publish from Houston Texas USA)

(میاں افتخار احمد)

ڈی ایچ اے، شاہراہِ فیصل اور کارساز روڈ پر نصب متعدد اسکرینز احتیاطی طور پر بند، سائبر سیکیورٹی کی سنگین کمزوریاں بے نقاب

کراچی : کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی میں خیابانِ اتحاد روڈ پر نصب ڈیجیٹل ایڈورٹائزمنٹ اسکرینز کو نامعلوم ہیکرز نے ہیک کرکے مختصر وقت کے لیے غیر اخلاقی اور نامناسب مواد نشر کر دیا، واقعہ دن کے اوقات میں پیش آیا جس کے باعث عوامی حلقوں میں شدید تشویش پائی گئی، شہریوں کی بڑی تعداد کی موجودگی کے باعث واقعے کو حساس نوعیت کا قرار دیا جا رہا ہے، ہیک شدہ اسکرینز کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں تو انتظامیہ فوری طور پر حرکت میں آئی۔
واقعے کے فوراً بعد ڈی ایچ اے انتظامیہ نے متاثرہ ڈیجیٹل اسکرینز کو بند کر دیا جبکہ احتیاطی تدابیر کے تحت ڈی ایچ اے کی دیگر اہم شاہراہوں کے علاوہ شاہراہِ فیصل اور کارساز روڈ پر نصب متعدد ڈیجیٹل ایڈورٹائزمنٹ اسکرینز کو بھی عارضی طور پر بند کر دیا گیا تاکہ کسی ممکنہ مزید سائبر حملے یا غیر اخلاقی مواد کی دوبارہ اشاعت کو روکا جا سکے۔
حکام کے مطابق اس واقعے کی تحقیقات نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی، پولیس کے سائبر کرائم ونگ اور متعلقہ تکنیکی اداروں نے مشترکہ طور پر شروع کر دی ہیں، ابتدائی تحقیقات میں یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہیکنگ ریموٹ ایکسس، کمزور پاس ورڈز، غیر محفوظ آئی پی ایڈریسز یا تھرڈ پارٹی ایڈورٹائزمنٹ سافٹ ویئر کے ذریعے کی گئی، اس بات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا یہ کارروائی محض شرارت تھی یا کسی منظم سائبر نیٹ ورک کا حصہ۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین کے مطابق پاکستان میں نصب بیشتر ڈیجیٹل ایڈورٹائزمنٹ اسکرینز جدید سیکیورٹی معیار کے بغیر چل رہی ہیں، ان میں فائر وال، ڈیٹا انکرپشن، ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن اور باقاعدہ سیکیورٹی آڈٹ کا فقدان ہے، یہی کمزوریاں ہیکرز کے لیے ایسے عوامی انفرااسٹرکچر کو آسان ہدف بنا دیتی ہیں، حالیہ واقعے نے شہری ڈیجیٹل نظام میں سائبر تحفظ کی کمی کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ کے تحت قابلِ سزا جرم ہے، جس میں غیر مجاز رسائی، عوامی مقامات پر غیر اخلاقی مواد کی نمائش اور ڈیجیٹل سسٹمز میں مداخلت جیسے الزامات شامل ہو سکتے ہیں، ملزمان کی شناخت کی صورت میں انہیں بھاری جرمانے اور قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ادھر شہری اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی مقامات پر نصب ڈیجیٹل ایڈورٹائزمنٹ اسکرینز کے لیے سخت ریگولیٹری فریم ورک، لائسنسنگ سسٹم اور سائبر سیکیورٹی آڈٹ کو لازمی قرار دیا جائے تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کے واقعات سے بچا جا سکے، حکام کے مطابق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی

مزید معلومات کے لیے براہ کرم ہماری قومی خبریں دیکھیں۔


اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں