writer 0

مریم نواز، بلاول بھٹو اور پاکستان کی آئندہ سیاسی بساط: اقتدار، اتحاد، تصادم اور اسٹیبلشمنٹ کا کردار

(Publish from Houston Texas USA)

(میاں افتخار احمد)
پاکستان کی موجودہ سیاست ایک ایسے نازک مگر فیصلہ کن موڑ پر کھڑی ہے جہاں ماضی کے تجربات، حال کے سیاسی سمجھوتے اور مستقبل کی طاقت کی کشمکش ایک دوسرے میں گتھم گتھا ہو چکے ہیں، اس منظرنامے میں سب سے زیادہ زیرِ بحث سوال یہی ہے کہ کیا مریم نواز شریف اور بلاول بھٹو زرداری آئندہ برسوں میں وزیراعظم پاکستان کے حقیقی امیدوار بن سکتے ہیں یا نہیں، اور اگر بن سکتے ہیں تو ان کے پیچھے کون سی سیاسی طاقتیں، رکاوٹیں اور سمجھوتے کارفرما ہوں گے، اس کے ساتھ ساتھ یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ نواز شریف، شہباز شریف اور آصف علی زرداری جیسے سینئر سیاسی کردار مستقبل میں کس نوعیت کا کردار ادا کریں گے، ماضی میں مریم نواز اور بلاول بھٹو کے درمیان تلخی کہاں تک پہنچی اور پھر یہ کشیدگی کس طرح ایک غیرعلانیہ سیز فائر میں بدلی، بائی الیکشن کے بعد قومی اسمبلی میں نشستوں کا تناسب کس سمت اشارہ کر رہا ہے، کیا پیپلز پارٹی واقعی حکومت گرانے کی پوزیشن میں ہے یا یہ محض دباؤ کی سیاست ہے، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اسٹیبلشمنٹ آئندہ سیاسی ترتیب میں کس حد تک خاموش تماشائی اور کس حد تک فعال کردار ادا کر سکتی ہے، ان تمام سوالات کا جواب ایک ہی جملے میں نہیں دیا جا سکتا بلکہ اس کے لئے پورے سیاسی تناظر کو ایک مسلسل بیانیے میں سمجھنا ضروری ہے، سب سے پہلے اگر مریم نواز اور بلاول بھٹو کے وزیراعظم بننے کے امکانات کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ دونوں رہنما اپنی اپنی جماعتوں میں آئندہ نسل کی قیادت کی علامت بن چکے ہیں، مریم نواز پنجاب کی وزارت اعلیٰ سنبھال کر عملی اقتدار، انتظامی کنٹرول اور پارٹی نظم و ضبط کے امتحان سے گزر رہی ہیں، پنجاب چونکہ پاکستان کی سیاست کا پاور ہاؤس سمجھا جاتا ہے اس لئے یہاں کامیاب حکمرانی کسی بھی قومی لیڈر کو وزیراعظم بننے کے لئے قدرتی برتری فراہم کرتی ہے، مسلم لیگ ن کے اندر بھی اب یہ سوچ مضبوط ہو رہی ہے کہ نواز شریف کا سیاسی کردار مستقبل میں براہ راست اقتدار سے زیادہ پس پردہ رہنمائی تک محدود ہو جائے گا اور اگلا چہرہ مریم نواز ہو سکتا ہے، اس کے برعکس بلاول بھٹو زرداری نے قومی سیاست میں خود کو ایک نوجوان مگر نظریاتی رہنما کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے، وہ خارجہ پالیسی، پارلیمانی مباحث اور وفاقی سیاست میں فعال رہے ہیں مگر ان کی اصل طاقت تاحال سندھ تک محدود ہے، پیپلز پارٹی کی یہ کمزوری ہے کہ وہ پنجاب میں فیصلہ کن سطح پر مقبولیت حاصل نہیں کر سکی، یہی وجہ ہے کہ بلاول بھٹو کا وزیراعظم بننے کا راستہ یا تو کسی بڑے سیاسی اتحاد سے ہو کر گزرے گا یا پھر کسی غیر معمولی سیاسی بحران کے نتیجے میں، مستقبل قریب میں اگر مسلم لیگ ن حکومت برقرار رہتی ہے اور اپنی معاشی و انتظامی پوزیشن کو مستحکم کر لیتی ہے تو مریم نواز کا وزیراعظم بننا بلاول کے مقابلے میں کہیں زیادہ حقیقت پسندانہ امکان دکھائی دیتا ہے، اب اگر سینئر قیادت کی بات کی جائے تو نواز شریف ایک بار پھر اس مقام پر آ کھڑے ہوئے ہیں جہاں وہ پارٹی کے نظریاتی باپ اور سیاسی سمت متعین کرنے والے بزرگ رہنما ہیں، وہ خود وزیراعظم بننے کی دوڑ میں شامل نہیں مگر ان کا ہر اشارہ پارٹی پالیسی اور اتحادوں پر اثر انداز ہوتا ہے، شہباز شریف بطور وزیراعظم اس وقت نظام کو چلانے، اتحادیوں کو ساتھ رکھنے اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ توازن برقرار رکھنے میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں، ان کی سیاست ٹکراؤ کے بجائے انتظام اور مفاہمت پر مبنی ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے لئے بھی قابل قبول چہرہ سمجھے جاتے ہیں، دوسری طرف آصف علی زرداری بطور صدر مملکت ایک بار پھر وہی کردار ادا کر رہے ہیں جس میں وہ بیک وقت آئینی عہدے، سیاسی جوڑ توڑ اور پارٹی مفادات کو ایک ساتھ لے کر چلتے ہیں، وہ حکومت کے اندر بھی ہیں اور حکومت پر دباؤ ڈالنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی وفاقی حکومت کا حصہ بن کر بھی خود کو مکمل طور پر اس میں ضم نہیں ہونے دیتی، ماضی میں مریم نواز اور بلاول بھٹو کے درمیان جو تلخی سامنے آئی وہ دراصل دو بڑی جماعتوں کی مستقبل کی قیادت کی جنگ کا ابتدائی اظہار تھی، ایک دوسرے کے خلاف سخت بیانات، پارلیمان میں واک آؤٹ، اور میڈیا پر لفظی حملے اس بات کا ثبوت تھے کہ دونوں جماعتیں ایک دوسرے کو سیاسی حریف کے طور پر دیکھ رہی ہیں، تاہم یہ کشیدگی اس وقت سیز فائر میں بدلی جب دونوں کو احساس ہوا کہ موجودہ سیاسی حالات میں تصادم کا فائدہ صرف تیسری قوتوں کو ہو سکتا ہے، حکومت کی بقا، آئینی تسلسل اور معاشی دباؤ نے مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کو مجبور کیا کہ وہ اختلافات کو وقتی طور پر فریز کریں، یہی وجہ ہے کہ آج دونوں جماعتیں ایک دوسرے پر تنقید کے باوجود ایک حد سے آگے نہیں بڑھتیں، بائی الیکشن کے نتائج نے بھی اس سیاسی حقیقت کو تقویت دی ہے کہ مسلم لیگ ن اس وقت سب سے مضبوط جماعت ہے، حالیہ بائی الیکشن میں زیادہ تر نشستیں مسلم لیگ ن نے حاصل کیں، پیپلز پارٹی محدود کامیابی حاصل کر سکی جبکہ تحریک انصاف یا اس سے وابستہ آزاد امیدوار نمایاں کامیابی حاصل نہ کر سکے، قومی اسمبلی میں اس وقت حکومتی اتحاد کے پاس تقریباً دو تہائی اکثریت ہے، مسلم لیگ ن سب سے بڑی جماعت ہے، پیپلز پارٹی دوسری بڑی اتحادی قوت ہے، ایم کیو ایم، ق لیگ اور دیگر چھوٹی جماعتیں حکومت کا حصہ ہیں، اپوزیشن بنیادی طور پر سنی اتحاد کونسل، جے یو آئی اور چند دیگر جماعتوں پر مشتمل ہے، اس عددی برتری کے باعث یہ سوال اہم ہو جاتا ہے کہ کیا پیپلز پارٹی حکومت گرانے کی پوزیشن میں ہے، زمینی حقیقت یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے بغیر حکومت کے لئے عددی مشکلات ضرور پیدا ہو سکتی ہیں مگر مکمل حکومت گرانا پیپلز پارٹی کے اپنے مفاد میں بھی نہیں، اگر پیپلز پارٹی حکومت سے الگ ہوتی ہے تو فوری فائدہ تحریک انصاف یا غیر منتخب قوتوں کو ہو سکتا ہے جبکہ پیپلز پارٹی خود نئے انتخابات کے لئے اس پوزیشن میں نہیں کہ وہ وفاق میں اکثریت حاصل کر سکے، اسی لئے پیپلز پارٹی کی پالیسی حکومت گرانے کے بجائے حکومت کے اندر رہ کر زیادہ سے زیادہ سیاسی اور آئینی فائدہ حاصل کرنے کی ہے، اس پورے منظرنامے میں اسٹیبلشمنٹ کا کردار سب سے حساس اور فیصلہ کن عنصر کے طور پر ابھرتا ہے، ماضی کے برعکس اس بار اسٹیبلشمنٹ براہ راست سیاسی کردار ادا کرنے کے بجائے توازن برقرار رکھنے کی حکمت عملی پر گامزن دکھائی دیتی ہے، اسٹیبلشمنٹ کے لئے اس وقت سب سے اہم ترجیح سیاسی استحکام، معاشی بحالی اور بین الاقوامی دباؤ سے نمٹنا ہے، اسی لئے وہ ایسی حکومت کو ترجیح دے رہی ہے جو کم از کم مدت پوری کرے، آئی ایم ایف اور دیگر عالمی اداروں کے ساتھ معاملات چلائے اور داخلی انتشار کو کم سے کم رکھے، مستقبل میں اگر مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے درمیان شدید تصادم پیدا ہوتا ہے تو اسٹیبلشمنٹ ممکنہ طور پر ثالث کا کردار ادا کرے گی نہ کہ کسی ایک فریق کو کھل کر سپورٹ کرے گی، مجموعی طور پر پاکستان کی سیاست اس وقت ایک عبوری دور سے گزر رہی ہے جہاں پرانی قیادت پس منظر میں جا رہی ہے اور نئی قیادت آہستہ آہستہ سامنے آ رہی ہے، مریم نواز اور بلاول بھٹو اس تبدیلی کی علامت ہیں مگر اقتدار کی حتمی کنجی ابھی بھی عددی طاقت، معاشی کارکردگی، اتحادی سیاست اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات کے امتزاج سے ہی حاصل ہو گی، یہی وجہ ہے کہ آنے والے چند سال پاکستان کی سیاست کے لئے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں جہاں یہ طے ہو گا کہ آیا اقتدار واقعی نئی نسل کو منتقل ہوتا ہے یا پرانی سیاست نئے چہروں کے ساتھ ہی جاری رہتی ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے براہ کرم ہمارے مضامین دیکھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں