(Publish from Houston Texas USA)
(میاں افتخار احمد)
امریکہ میں وفاقی حکومت اور ریاستی حکومتوں کے درمیان طاقت کا تاریخی اور موجودہ تصادم ایک پیچیدہ اور مسلسل جاری موضوع رہا ہے جو امریکی جمہوریت کے بنیادی ڈھانچے اور ملکی پالیسی سازی پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے امریکہ کی بانی دستاویزات آئین نے وفاقی اور ریاستی حکومتوں کے درمیان طاقت کو تقسیم کیا تاکہ کسی ایک فریق کے غلبے سے بچا جا سکے اور ایک متوازن حکومتی نظام قائم کیا جا سکے لیکن وقت کے ساتھ یہ توازن کئی بار چیلنج ہوا ہے اور نئے سیاسی، معاشرتی اور اقتصادی حالات نے اس پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے امریکہ میں فیڈرل حکومت کی طاقت کو بڑھانے یا کم کرنے کی بحث خاص طور پر اہمیت اختیار کر گئی ہے کیونکہ ملک میں مختلف ریاستوں کی سیاسی شناخت اور معاشرتی ترجیحات وفاق کے ساتھ ٹکرانے لگی ہیں مثال کے طور پر صحت عامہ، ماحولیاتی قوانین، ہتھیاروں کے قوانین، اور ووٹنگ کے حقوق جیسے معاملات میں ریاستی اور وفاقی قوانین کے درمیان تناؤ واضح طور پر نظر آتا ہے وفاقی حکومت بعض اوقات ایسے اقدامات کرتی ہے جو ریاستوں کے اختیارات پر اثر انداز ہوتے ہیں اور بعض ریاستیں اپنے آئینی حقوق کے دفاع میں چیلنج کرتی ہیں تاریخی طور پر یہ تصادم متعدد مواقع پر ملکی سیاست اور عدالتی نظام میں واضح ہوا ہے مثلاً گرینڈ اسپلٹ کے دوران ریاستی حقوق کے حامیوں اور وفاقی حکومت کے درمیان اختلافات نے ملک کو داخلی محاذ پر تقسیم کر دیا اسی طرح سول رائٹس موومنٹ کے دوران وفاق نے نسلی امتیاز کے خاتمے کے لیے قوانین نافذ کیے لیکن متعدد جنوبی ریاستیں ابتدائی طور پر ان قوانین کے نفاذ میں ہچکچاہٹ یا مزاحمت کرتی رہیں اس وقت ریاستی اور وفاقی حکومت کے درمیان طاقت کے توازن کا معاملہ صرف عدالتی فیصلوں تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ سیاسی اور انتخابی مہمات کا حصہ بھی بن گیا ہے ریاستوں کی مختلف سیاسی پارٹیوں کی حکمرانی اور وفاقی سطح پر پارٹیوں کے غلبے نے اختلافات کو بڑھا دیا ہے مثال کے طور پر ٹیکساس اور فلوریڈا جیسے ریاستیں اکثر وفاقی پالیسیوں کے خلاف بیلٹ باکس اور عدالتوں کے ذریعے چیلنج کرتی ہیں اور اس طرح طاقت کے جدید تصادم کی مثالیں قائم کی جاتی ہیں موجودہ دور میں صحت عامہ کی ایمرجنسیز جیسے وبائی امراض، ماحولیاتی تبدیلی، اور ہتھیاروں کی پابندی جیسے حساس معاملات میں وفاقی اور ریاستی اختیارات کے درمیان توازن کے سوالات دوبارہ ابھرے ہیں کووڈ انیس کے دوران وفاقی حکومت نے ریاستوں سے تعاون کی کوشش کی تاکہ ویکسین کی تقسیم اور صحت عامہ کے اقدامات مؤثر انداز میں نافذ کیے جا سکیں لیکن بعض ریاستیں اپنی خودمختاری کے حق میں وفاقی ہدایات کو چیلنج کرتی رہیں اور اپنے مقامی قوانین اور رہنما اصول نافذ کیے وفاق اور ریاستوں کے درمیان یہ جدید تصادم ملکی میڈیا، عوامی مباحثے اور سیاست میں ایک اہم موضوع بن چکا ہے اور اس نے امریکی شہریوں کو بھی وفاق اور ریاست کے اختیارات کے فرق اور حدود کے بارے میں شعور دلایا ہے طاقت کی یہ نئی جنگ بنیادی طور پر اس بات کا عکاس ہے کہ امریکہ میں فیڈرلزم صرف ایک آئینی ڈھانچہ نہیں بلکہ مسلسل ارتقا پذیر سیاسی اور معاشرتی حقیقت ہے اس میں طاقت کے دائرہ کار اور اختیارات کا تعین وقت کے تقاضوں، عوامی توقعات، اور عدالتوں کے فیصلوں کے مطابق بدلتا رہتا ہے اس لیے ریاستوں کی خودمختاری اور وفاقی حکومتی اقدامات کے درمیان توازن قائم کرنا ایک مسلسل اور پیچیدہ چیلنج ہے موجودہ سیاسی منظر نامے میں یہ سوال اہم ہے کہ آیا وفاقی حکومت کو زیادہ طاقت دی جائے یا ریاستوں کی خودمختاری کو ترجیح دی جائے امریکہ میں سیاستدان، تجزیہ کار اور عوام اس مسئلے پر شدید اختلاف رکھتے ہیں اور ہر فریق اپنے موقف کے حق میں تاریخی، قانونی اور معاشرتی دلائل پیش کرتا ہے فیڈرلزم کے حامی استدلال کرتے ہیں کہ وفاقی حکومت کے مضبوط اقدامات قومی یکجہتی، مساوات اور معیاری پالیسی سازی کے لیے ضروری ہیں جبکہ ریاستی حقوق کے حامی مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ ریاستوں کی خودمختاری شہری آزادیوں اور مقامی ترجیحات کے تحفظ کے لیے لازمی ہے یہ طاقت کا نازک توازن امریکی جمہوریت کی مضبوطی اور لچک کا امتحان ہے اور اسی وجہ سے اس پر بحث کبھی ختم نہیں ہوتی آئینی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ آئین میں واضح اختیارات اور حدود ہونے کے باوجود ان کی تشریح اور عملی نفاذ ہر دور میں مختلف ہوتا ہے اور عدالتیں اکثر ایسے معاملات میں فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہیں سپریم کورٹ کے فیصلے تاریخی اور موجودہ تصادم دونوں میں رہنمائی فراہم کرتے ہیں اور آئین کے مختلف دفعات کی تشریح ریاستی اور وفاقی اختیارات کے درمیان توازن کا تعین کرتی ہے مستقبل میں امریکہ میں طاقت کی یہ نئی جنگ مزید پیچیدہ ہونے کا امکان رکھتی ہے کیونکہ دنیا کے بدلتے ہوئے سیاسی اور اقتصادی حالات، ٹیکنالوجی کی ترقی، ماحولیاتی تبدیلی اور عالمی وبائیں وفاق اور ریاستوں کے اختیارات پر نئے سوالات اٹھا رہی ہیں امریکہ کے وفاقی نظام کے لیے یہ ایک مستقل چیلنج ہے کہ کس طرح ریاستوں کی خودمختاری اور وفاقی حکومتی اقدامات کے درمیان توازن قائم رکھا جائے تاکہ نہ صرف ملکی یکجہتی اور قانون کی حکمرانی برقرار رہے بلکہ امریکی شہریوں کے حقوق اور مفادات بھی محفوظ رہیں آئندہ برسوں میں اس تصادم کی نوعیت اس بات پر منحصر ہوگی کہ وفاقی اور ریاستی حکمران کس حد تک تعاون اور مفاہمت کی راہ اپناتے ہیں یا مزاحمت اور سیاسی کشمکش کو فروغ دیتے ہیں امریکی تاریخ میں یہ تصادم بار بار ابھر چکا ہے اور ہر بار اس نے ملک کے آئینی ڈھانچے اور سیاسی منظر نامے کو نئے سرے سے تشکیل دیا ہے اس لیے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ فیڈرل بمقابلہ اسٹیٹس امریکہ میں طاقت کی نئی جنگ صرف موجودہ سیاسی تنازع نہیں بلکہ امریکی جمہوریت کی بنیادی پہچان اور آئینی جدوجہد کی علامت بھی ہے یہ جدوجہد نہ صرف اختیارات کے تعین بلکہ قومی یکجہتی، شہری آزادیوں اور مقامی خودمختاری کے درمیان نازک توازن کا مظہر ہے اور مستقبل میں بھی امریکہ کی سیاست، عدلیہ اور عوامی مباحثوں پر اس کے اثرات جاری رہیں گے کیونکہ ہر نیا بحران، ہر نیا قانون، اور ہر نئی پالیسی اس طاقت کی جنگ کو مزید ابھارتا ہے اور امریکی فیڈرلزم کے ارتقا کو نئی شکل دیتا ہے اس جدوجہد کا دائرہ صرف وفاق اور ریاست تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات ملکی معیشت، سماجی انصاف، شہری حقوق، صحت عامہ، تعلیم اور ماحولیاتی تحفظ تک پھیلے ہوئے ہیں اس لیے امریکی فیڈرلزم کی یہ نئی جنگ ایک متحرک عمل ہے جو ملک کے آئینی ڈھانچے، سیاست، اور معاشرتی دھاروں کو مسلسل متاثر کرتا ہے اور مستقبل میں بھی امریکہ میں طاقت، اختیارات اور خودمختاری کے درمیان کشمکش کی کہانی جاری رہے گی
