(Publish from Houston Texas USA)
(میاں افتخار احمد)
اکیسویں صدی کی عالمی سیاست ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں بظاہر چھوٹے فیصلے بھی طاقت کے توازن میں بڑے زلزلے پیدا کر رہے ہیں، حالیہ دنوں میں کینیڈا کے وزیر اعظم کا چین کا دورہ اور وہاں اسٹریٹیجک تعلقات کے قیام کا اعلان اسی نوعیت کا ایک واقعہ ہے جسے محض ایک تجارتی پیش رفت یا وقتی سفارتی حکمت عملی سمجھ کر نظرانداز کرنا تاریخ کے دھارے کو سمجھنے میں سنگین غلطی ہوگی، کیونکہ یہ قدم اس پورے بیانیے کو چیلنج کرتا ہے جس کے تحت امریکہ گزشتہ کئی دہائیوں سے براعظم امریکہ کو اپنی غیر متنازعہ اسفیئر آف انفلوئنس تصور کرتا آیا ہے اور خاص طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں جس جارحانہ انداز میں یہ تصور دنیا کے سامنے رکھا گیا کہ مغربی نصف کرے میں کسی بیرونی طاقت کو قدم جمانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اس کا ہدف بظاہر لاطینی امریکہ تھا مگر اصل نشانہ چین کی بڑھتی ہوئی معاشی اور سفارتی موجودگی تھی، یہی وجہ ہے کہ وینزویلا، کیوبا اور نکاراگوا جیسے ممالک کو مثال بنا کر یہ تاثر دیا گیا کہ آئندہ باری کسی بھی ایسے ملک کی ہو سکتی ہے جو امریکی پالیسی لائن سے ہٹ کر چین یا روس کے ساتھ کھڑا ہونے کی جسارت کرے، اس تناظر میں اگر کینیڈا جیسا ملک جو نہ صرف جغرافیائی طور پر امریکہ کے ساتھ جڑا ہوا ہے بلکہ نیٹو، فائیو آئیز اور مغربی اتحاد کا کلیدی رکن بھی ہے، کھلے عام بیجنگ جا کر اسٹریٹیجک تعلقات کی بات کرے، ٹیرف میں نمایاں کمی کے معاہدے کرے اور عالمی نظام کے نئے توازن کی اصطلاح استعمال کرے تو یہ محض سفارت کاری نہیں بلکہ طاقت کے نفسیاتی توازن میں ایک واضح دراڑ ہے، کینیڈا کا یہ قدم اس مفروضے کو کمزور کرتا ہے کہ امریکی اتحاد میں شامل ممالک کے پاس آزاد خارجہ پالیسی کی گنجائش ختم ہو چکی ہے، درحقیقت یہ فیصلہ کینیڈین ریاستی سوچ میں ایک گہری تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے جو پچھلے چند برسوں میں امریکی داخلی سیاست کی غیر یقینی صورتحال، تجارتی جنگوں، اتحادیوں کے ساتھ توہین آمیز رویے اور عالمی اداروں سے لاتعلقی کے باعث پروان چڑھی، ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں کینیڈا کو بارہا یہ احساس دلایا گیا کہ وہ واشنگٹن کے لیے ایک برابر کا شراکت دار نہیں بلکہ ایک ماتحت ہے، تجارتی معاہدوں پر دباؤ، اسٹیل اور ایلومینیم پر پابندیاں، اور عوامی سطح پر کینیڈین قیادت کی تضحیک نے کینیڈین اسٹیبلشمنٹ اور عوام دونوں میں یہ سوال پیدا کیا کہ کیا قومی مفاد کا تقاضا یہی ہے کہ ہر صورت امریکی لائن پر چلا جائے، اسی سوال کا عملی جواب ہمیں بیجنگ میں نظر آتا ہے جہاں کینیڈا نے یہ پیغام دیا کہ وہ اب یک طرفہ انحصار کی پالیسی سے نکلنا چاہتا ہے، چین کے ساتھ الیکٹرک گاڑیوں، زرعی اجناس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون دراصل آنے والی دہائیوں کی معیشت کا رخ متعین کرنے کی کوشش ہے کیونکہ کینیڈا بخوبی جانتا ہے کہ مستقبل کی عالمی معیشت میں گرین ٹیکنالوجی، بیٹری اسٹوریج، سپلائی چینز اور فوڈ سیکیورٹی فیصلہ کن عوامل ہوں گے اور چین ان تمام شعبوں میں ایک مرکزی حیثیت اختیار کر چکا ہے، اس فیصلے کے اثرات فوری طور پر امریکہ کینیڈا تعلقات کے خاتمے کی صورت میں ظاہر نہیں ہوں گے کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم، جغرافیائی قربت اور سلامتی کے مفادات بہت گہرے ہیں، لیکن یہ ضرور ہوگا کہ امریکہ اب کینیڈا کو ایک خودکار اتحادی کے طور پر نہیں بلکہ ایک محتاط اور حساب کتاب کرنے والے شراکت دار کے طور پر دیکھنے پر مجبور ہوگا، یہی وہ تبدیلی ہے جو عالمی سیاست میں آہستہ آہستہ مگر گہرے اثرات کے ساتھ سامنے آ رہی ہے، جہاں ممالک کھلے تصادم کے بجائے ملٹی الائنمنٹ اور اسمارٹ بیلنسنگ کی راہ اختیار کر رہے ہیں، لاطینی امریکہ کے لیے کینیڈا کا یہ قدم اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ انہیں یہ اعتماد دیتا ہے کہ چین کے ساتھ تعلقات رکھنے کا مطلب لازماً امریکی پابندیوں یا سیاسی تنہائی کا شکار ہونا نہیں، اگر ایک مغربی، سفید فام، انگریزی بولنے والا ملک یہ راستہ اختیار کر سکتا ہے تو برازیل، میکسیکو، ارجنٹائن اور چلی جیسے ممالک کے لیے چین کے ساتھ مزید آزادانہ معاشی روابط قائم کرنا نفسیاتی طور پر آسان ہو جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اس پیش رفت کو لاطینی دنیا میں خاموشی سے مگر گہری دلچسپی سے دیکھا جا رہا ہے، یورپ میں بھی اس کے اثرات محض سوشل میڈیا شور تک محدود نہیں بلکہ توانائی بحران، یوکرین جنگ کے بعد پیدا ہونے والی معاشی مشکلات اور امریکہ پر سیکیورٹی انحصار کے بوجھ نے یورپی عوام کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ آیا ان کے قومی مفادات واقعی امریکی پالیسیوں سے ہم آہنگ ہیں یا نہیں، اگرچہ یورپی حکومتیں فی الحال کھل کر کسی بغاوت کا راستہ اختیار نہیں کر رہیں مگر کینیڈا کا کیس ان کے لیے ایک تجربہ بن چکا ہے، اگر کینیڈا کو اس فیصلے کی بھاری قیمت ادا نہیں کرنا پڑتی تو یہ یورپی پالیسی سازوں کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے کہ محدود دائرے میں ہی سہی مگر چین کے ساتھ معاشی تعاون کو وسعت دی جا سکتی ہے، اس پورے منظرنامے میں پاکستان کے لیے بھی اہم اسباق اور مواقع موجود ہیں، چین کا ایک قریبی اتحادی ہونے کے ناطے پاکستان طویل عرصے سے یہ دعویٰ کرتا آیا ہے کہ وہ بیجنگ کے لیے ایک اسٹریٹیجک شراکت دار ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ عالمی سطح پر چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے فائدہ اٹھانے کے لیے محض سیاسی نعروں سے آگے بڑھ کر معاشی اور ادارہ جاتی اصلاحات ضروری ہیں، اگر چین مغربی ممالک کے ساتھ براہ راست تجارتی اور تکنیکی روابط بڑھا رہا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنی سپلائی چینز کو زیادہ محفوظ اور متنوع بنانا چاہتا ہے، اس عمل میں پاکستان ایک ٹرانزٹ اور صنعتی مرکز بن سکتا ہے بشرطیکہ وہ سی پیک کو محض سڑکوں اور پاور پلانٹس تک محدود رکھنے کے بجائے صنعتی ویلیو چین، ایکسپورٹ بیسڈ مینوفیکچرنگ اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر کے پلیٹ فارم میں تبدیل کرے، دوسری طرف امریکہ کی اندرونی کمزوریوں اور اتحادیوں میں بڑھتی بے چینی پاکستان کے لیے سفارتی اسپیس پیدا کرتی ہے کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی کو زیادہ متوازن بنا سکے، مگر یہ تبھی ممکن ہوگا جب ریاست جذباتی ردعمل کے بجائے طویل المدتی قومی مفاد کو سامنے رکھے، نہ تو اندھی امریکہ دشمنی پاکستان کے حق میں ہے اور نہ ہی غیر مشروط وابستگی، دنیا اس وقت جس مرحلے سے گزر رہی ہے وہ نہ مکمل نیو ورلڈ آرڈر ہے اور نہ ہی پرانے نظام کی فوری موت بلکہ یہ ایک عبوری دور ہے جہاں طاقت بکھر رہی ہے، ادارے کمزور ہو رہے ہیں اور فیصلے زیادہ پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں، ایسے دور میں وہی ممالک فائدہ اٹھاتے ہیں جو اپنے اندرونی معاشی ڈھانچے کو مضبوط بناتے ہیں، خارجہ پالیسی میں لچک رکھتے ہیں اور عالمی رجحانات کو جذبات کے بجائے حقائق کی بنیاد پر سمجھتے ہیں، کینیڈا کا چین کی طرف جھکاؤ اسی حقیقت کی علامت ہے کہ اب خوف کی سیاست آہستہ آہستہ دم توڑ رہی ہے اور مفاد کی سیاست ابھر رہی ہے، یہ زلزلہ شاید فوری طور پر مغربی اتحاد کو نہیں توڑے گا مگر اس کی بنیادوں میں ایسی دراڑیں ضرور ڈال دے گا جو آنے والے برسوں میں عالمی طاقت کے نقشے کو یکسر مختلف شکل دے سکتی ہیں، اور یہی وہ لمحہ ہے جہاں پاکستان سمیت تمام درمیانے درجے کے ممالک کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ تاریخ کے بہاؤ کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں یا پرانی عادتوں اور غلط فہمیوں کے بوجھ تلے دب کر ایک بار پھر موقع گنوا بیٹھیں گے۔
