(Publish from Houston Texas USA)
(میاں افتخار احمد)
اکیسویں صدی کی عالمی سیاست میں اگر کسی خاموش مگر فیصلہ کن جنگ نے عالمی طاقت کے توازن کو ہلا کر رکھ دیا ہے تو وہ ڈالر بمقابلہ ڈی ڈالرائزیشن کی مالیاتی کولڈ وار ہے، یہ جنگ ٹینکوں، میزائلوں اور فوجی اتحادوں سے نہیں لڑی جا رہی بلکہ بینکوں، کرنسیوں، ادائیگی کے نظاموں، پابندیوں اور مالیاتی اعتماد کے ذریعے لڑی جا رہی ہے، دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ نے جس عالمی مالیاتی نظام کی بنیاد رکھی اس کا مرکز امریکی ڈالر تھا، بریٹن ووڈز سسٹم، عالمی بینک، آئی ایم ایف اور بعد ازاں سوئفٹ جیسے اداروں نے ڈالر کو عالمی تجارت، توانائی، دفاع اور قرضوں کی ریڑھ کی ہڈی بنا دیا، سرد جنگ کے خاتمے کے بعد امریکہ واحد سپر پاور کے طور پر ابھرا اور ڈالر محض کرنسی نہیں بلکہ طاقت، سزا اور انعام کا ہتھیار بن گیا، جس ملک نے امریکی پالیسیوں سے انحراف کیا اس پر پابندیاں لگیں، اس کے بینک بند ہوئے، اس کی تجارت مفلوج کی گئی اور اس کی کرنسی کو عالمی نظام سے کاٹ دیا گیا، ایران، عراق، لیبیا، وینزویلا، روس اور حالیہ برسوں میں چین اس حقیقت کا عملی مشاہدہ کر چکے ہیں، یہی وہ لمحہ تھا جب دنیا نے یہ سوال اٹھانا شروع کیا کہ کیا ایک ہی ملک کو عالمی مالیاتی نظام پر مطلق کنٹرول حاصل ہونا چاہئے، اور یہی سوال ڈی ڈالرائزیشن کی بنیاد بنا، ابتدا میں ڈی ڈالرائزیشن کو محض ایک نعرہ سمجھا گیا مگر وقت کے ساتھ یہ ایک منظم، تدریجی اور اسٹریٹجک عمل بنتا چلا گیا، چین نے سب سے پہلے اس خطرے کو سمجھا کہ اگر اس کی معیشت کا انحصار ڈالر پر رہا تو کسی بھی لمحے اسے امریکی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اسی لیے چین نے یوآن کو بین الاقوامی سطح پر متعارف کرانے، دوطرفہ تجارتی معاہدوں میں مقامی کرنسی کے استعمال، سونے کے ذخائر میں اضافے اور ڈیجیٹل کرنسی کے اجرا پر کام شروع کیا، روس نے یوکرین جنگ کے بعد اس عمل کو تیز کر دیا جب اس کے اربوں ڈالر کے ذخائر منجمد کر دیے گئے، یہ واقعہ دنیا کے لیے ایک ویک اپ کال تھا کہ ڈالر میں رکھے گئے ذخائر درحقیقت امریکہ کی سیاسی مرضی کے تابع ہیں، نتیجتاً روس نے تیل اور گیس کی فروخت روبل، یوآن اور دیگر کرنسیوں میں شروع کی، ایران جو دہائیوں سے پابندیوں کا شکار تھا اس نے بھی بارٹر سسٹم، مقامی کرنسی تجارت اور علاقائی مالیاتی نیٹ ورکس پر انحصار بڑھایا، برکس ممالک نے ایک مشترکہ کرنسی یا کم از کم ڈالر سے آزاد ادائیگی کے نظام پر سنجیدگی سے غور شروع کیا، شنگھائی تعاون تنظیم اور آسیان ممالک نے بھی مقامی کرنسیوں میں تجارت کے تجربات کیے، اس پورے عمل نے واضح کر دیا کہ ڈی ڈالرائزیشن کوئی اچانک انقلاب نہیں بلکہ ایک طویل المدتی حکمت عملی ہے جس کا مقصد امریکہ کی مالیاتی اجارہ داری کو کمزور کرنا ہے، امریکہ اس تبدیلی کو محض معاشی چیلنج نہیں بلکہ اپنی قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے کیونکہ ڈالر کی بالادستی ہی وہ بنیاد ہے جس پر امریکی فوجی طاقت، عالمی اڈے، اتحادی نظام اور قرضوں پر مبنی معیشت کھڑی ہے، اگر ڈالر کی طلب کم ہوئی تو امریکہ کے لیے خسارے میں بجٹ چلانا، دنیا بھر میں فوجی موجودگی برقرار رکھنا اور پابندیوں کے ذریعے دنیا کو کنٹرول کرنا ممکن نہیں رہے گا، اسی لیے امریکہ ڈی ڈالرائزیشن کو روکنے کے لیے ہر ممکن حربہ استعمال کر رہا ہے، ایک طرف وہ اپنے اتحادیوں کو خبردار کرتا ہے کہ متبادل نظام غیر محفوظ ہیں، دوسری طرف وہ ٹیکنالوجی، پابندیوں اور سیاسی دباؤ کے ذریعے چین، روس اور ایران کو محدود کرنے کی کوشش کرتا ہے، سوئفٹ سے روسی بینکوں کا اخراج، چینی ٹیک کمپنیوں پر پابندیاں اور ایرانی تیل کی فروخت پر قدغنیں اسی مالیاتی جنگ کا حصہ ہیں، مگر مسئلہ یہ ہے کہ امریکہ خود اس جنگ میں اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار رہا ہے، جب مالیاتی نظام کو بار بار سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے تو اعتماد ختم ہو جاتا ہے، اور عالمی مالیاتی نظام کی بنیاد اعتماد ہی ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ آج سعودی عرب جیسے قریبی اتحادی بھی چین کے ساتھ یوآن میں تیل تجارت پر غور کر رہے ہیں، خلیجی ممالک اپنے زرمبادلہ کے ذخائر میں تنوع لا رہے ہیں، افریقی اور لاطینی امریکی ریاستیں ڈالر کے علاوہ دیگر کرنسیوں میں قرض اور تجارت کے راستے تلاش کر رہی ہیں، ڈیجیٹل کرنسیاں اور بلاک چین ٹیکنالوجی اس پورے عمل کو مزید تیز کر رہی ہیں کیونکہ یہ روایتی بینکاری نظام سے باہر متبادل فراہم کرتی ہیں، چین کی ڈیجیٹل یوآن، روس کے ڈیجیٹل روبل اور دیگر ریاستی ڈیجیٹل کرنسیاں مستقبل میں ڈالر کی گرفت کو مزید کمزور کر سکتی ہیں، تاہم یہ کہنا بھی حقیقت سے دور ہوگا کہ ڈالر فوری طور پر ختم ہو جائے گا، ڈالر اب بھی عالمی ذخائر، تجارت اور مالیاتی منڈیوں میں غالب حیثیت رکھتا ہے، امریکہ کی معیشت کا حجم، اس کی مالیاتی مارکیٹوں کی گہرائی اور اس کی فوجی طاقت اب بھی ایک حقیقت ہیں، مگر تاریخ یہ بتاتی ہے کہ کوئی بھی کرنسی ہمیشہ کے لیے غالب نہیں رہتی، جس طرح برطانوی پاؤنڈ نے اپنی بالادستی کھوئی اسی طرح ڈالر بھی بتدریج زوال کی طرف جا سکتا ہے، ڈی ڈالرائزیشن کا اصل مطلب ڈالر کا خاتمہ نہیں بلکہ اس کی اجارہ داری کا خاتمہ ہے، ایک کثیر کرنسی عالمی نظام جہاں طاقت چند ہاتھوں میں مرتکز نہ ہو بلکہ تقسیم ہو، یہی وہ ماڈل ہے جس کی طرف دنیا بڑھ رہی ہے، اس مالیاتی کولڈ وار کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ اگر معاشی نظام تیزی سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوا تو عالمی کساد بازاری، مالی بحران اور علاقائی عدم استحکام جنم لے سکتا ہے، ترقی پذیر ممالک خاص طور پر اس جنگ کے بیچ میں پس سکتے ہیں، پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ وہ اندھی وابستگی کے بجائے متوازن حکمت عملی اپنائیں، تجارتی تنوع، علاقائی کرنسی تعاون اور مالیاتی خودمختاری کی طرف قدم بڑھائیں، کیونکہ مستقبل کی جنگیں صرف سرحدوں پر نہیں بلکہ بینکوں، کرنسیوں اور ڈیجیٹل نظاموں میں لڑی جائیں گی، ڈالر بمقابلہ ڈی ڈالرائزیشن دراصل ایک نئے عالمی نظام کی پیدائش کی علامت ہے، ایک ایسی دنیا جہاں طاقت کا مرکز بدل رہا ہے، اور جہاں مالیاتی کولڈ وار آنے والے عشروں کی سیاست، جنگ اور امن کا تعین کرے گی، سوال یہ نہیں کہ یہ جنگ ہو گی یا نہیں، سوال یہ ہے کہ کون اس جنگ کے لیے تیار ہے اور کون محض تماشائی بن کر تاریخ کے ہاتھوں روند دیا جائے گا۔
