writer 0

سائنس کا انسان اور قرآن کا خلیفہ: انسان کی تخلیق ایک ہی حقیقت کے دو زاویے

(Publish from Houston Texas USA)

(میاں افتخار احمد)
انسان کی ابتدا کا سوال محض ایک سائنسی مسئلہ نہیں بلکہ ایک فکری، اخلاقی اور الہیاتی معمہ ہے جو صدیوں سے انسانی ذہن کو اپنی گرفت میں لیے ہوئے ہے، ایک طرف جدید سائنس ہے جو تجربہ، مشاہدہ، رکازی شواہد اور جینیاتی تجزیوں کی بنیاد پر انسان کو ایک طویل حیاتیاتی عمل کی پیداوار قرار دیتی ہے، اور دوسری طرف الہامی کتابیں ہیں جو انسان کو محض حیاتیاتی وجود نہیں بلکہ ایک منتخب، باشعور اور اخلاقی ذمہ داری کا حامل وجود بتاتی ہیں، عام طور پر ان دونوں بیانیوں کو ایک دوسرے کی ضد سمجھا جاتا ہے، لیکن اگر تعصب سے ہٹ کر ان کا مطالعہ کیا جائے تو یہ دونوں دراصل ایک ہی حقیقت کے دو مختلف پہلو سامنے لاتے ہیں، سائنس انسان کے جسمانی سفر کو بیان کرتی ہے اور وحی انسان کے شعوری اور اخلاقی منصب کو واضح کرتی ہے، قرآن مجید میں انسان کی تخلیق کو ایک سادہ اور یکساں عمل کے طور پر بیان نہیں کیا گیا بلکہ اسے مراحل میں تقسیم کیا گیا ہے، سورۃ نوح میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ اللہ نے تمہیں مختلف اطوار میں پیدا کیا، یہی لفظ اطوار اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ تخلیق ایک تدریجی اور مرحلہ وار عمل تھا، قرآن مجید میں ایک اور مقام پر انسان کی تخلیق کے لیے مٹی، گارا، سڑی ہوئی مٹی، خشک مٹی جیسے مختلف الفاظ استعمال کیے گئے ہیں، سورۃ الحجر میں اللہ فرماتا ہے کہ میں سڑی ہوئی مٹی کے خشک گارے سے ایک بشر پیدا کرنے والا ہوں، یہاں لفظ بشر استعمال ہوا ہے جو عربی لغت میں انسان کے ظاہری، جسمانی اور حیاتیاتی وجود کے لیے بولا جاتا ہے، بشر وہ ہستی ہے جو کھاتی پیتی ہے، چلتی پھرتی ہے، جس کا جسمانی ڈھانچہ ہے، لیکن یہی بشر ابھی اس مقام پر نہیں پہنچا کہ وہ خلافت کا اہل بن سکے، اسی آیت کے فوراً بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب میں اسے درست کرلوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم اس کے آگے سجدے میں گر جانا، یہی وہ لمحہ ہے جہاں بشر اور انسان کے درمیان بنیادی فرق پیدا ہوتا ہے، نفخ روح محض زندگی بخشنے کا عمل نہیں بلکہ شعور، اخلاق، ذمہ داری اور اختیار کا عطا ہونا ہے، یہی وہ مقام ہے جہاں انسان جانوروں سے اور فرشتوں سے ایک منفرد مقام حاصل کرتا ہے، اب اگر ہم سائنسی بیانیے کی طرف آئیں تو جدید ارتقائی حیاتیات یہ بتاتی ہے کہ انسان کا جسم اچانک وجود میں نہیں آیا بلکہ لاکھوں سال کے ارتقائی عمل کا نتیجہ ہے، ماہرین بشریات کے مطابق آج سے تقریباً ساٹھ سے ستر لاکھ سال پہلے افریقہ میں انسان اور موجودہ چمپانزی کے مشترکہ اجداد موجود تھے، ماحولیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں ایک شاخ نے درختوں سے اتر کر زمین پر چلنا شروع کیا، یہی وہ مرحلہ تھا جہاں دو پاؤں پر چلنے والی مخلوقات وجود میں آئیں، وقت گزرنے کے ساتھ ہومو جینس کا آغاز ہوا، پہلے ہومو ہیبیلس جسے ہنر مند انسان کہا جاتا ہے کیونکہ وہ سادہ پتھر کے اوزار بناتا تھا، پھر ہومو ایریکٹس جو سیدھا کھڑا ہوتا تھا، آگ کا استعمال جانتا تھا اور افریقہ سے نکل کر ایشیا اور یورپ تک پھیل گیا، یہ تمام مراحل سائنس کے نزدیک انسان کے جسمانی ارتقاء کی کہانی ہیں، جینیاتی سائنس یہ بتاتی ہے کہ آج کا جدید انسان یعنی ہومو سیپینز تقریباً تین لاکھ سال پہلے افریقہ میں جسمانی طور پر مکمل ہو چکا تھا، مراکش کے علاقے جبل ایرہود سے ملنے والی کھوپڑیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ اس وقت کے انسان کا دماغ، ہڈیاں اور جسمانی ساخت آج کے انسان سے تقریباً یکساں تھی، یعنی بشر کا حیاتیاتی ڈھانچہ مکمل ہو چکا تھا، لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ آثار قدیمہ کے شواہد بتاتے ہیں کہ جسمانی طور پر جدید ہونے کے باوجود یہ انسان طویل عرصے تک ذہنی اور تہذیبی جمود کا شکار رہا، نہ اس کے اوزاروں میں بڑی جدت نظر آتی ہے، نہ آرٹ، نہ مذہب، نہ علامتی زبان اور نہ ہی کوئی پیچیدہ سماجی نظام، وہ محض بقا کی جدوجہد میں مصروف ایک جاندار تھا، یہ وہ دور ہے جسے سائنس پری کاگنیٹو سیپینز کا دور کہتی ہے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں قرآن کا یہ بیان غیر معمولی معنویت اختیار کر لیتا ہے کہ کیا انسان پر زمانے کا ایک ایسا وقت نہیں گزرا جب وہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا، مفسرین کے مطابق یہ وہ دور تھا جب انسان کا جسم تو موجود تھا مگر وہ شعوری اور اخلاقی مقام حاصل نہیں ہوا تھا جو اسے انسان بناتا ہے، اس کے بعد سائنس ایک اچانک اور انقلابی تبدیلی کی بات کرتی ہے، تقریباً ستر ہزار سے پچاس ہزار سال پہلے انسانی رویے میں ایک زبردست تبدیلی رونما ہوتی ہے جسے ادراکی انقلاب کہا جاتا ہے، اس مختصر عرصے میں انسان نے پیچیدہ زبان ایجاد کی، تجریدی فن تخلیق کیا، مردوں کو دفنانا شروع کیا، مذہبی اور مابعد الطبیعی تصورات کو اپنایا، سمندر پار سفر کیے اور دنیا کے کونے کونے میں پھیل گیا، یہی وہ لمحہ ہے جہاں انسان محض ایک حیاتیاتی وجود نہیں رہتا بلکہ ایک باشعور، تخلیقی اور اخلاقی ہستی بن جاتا ہے، اگر اس مقام کو قرآن کے تصور علم الاسماء سے جوڑا جائے تو ایک حیرت انگیز مطابقت سامنے آتی ہے، سورۃ البقرہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے آدم کو تمام اشیاء کے نام سکھائے، علم الاسماء محض الفاظ کا علم نہیں بلکہ تصورات، علامات، زبان اور معنی کا علم ہے، یہی وہ صلاحیت ہے جو انسان کو جانوروں سے ممتاز کرتی ہے، سائنس جسے زبان اور علامتی سوچ کی ارتقائی جست قرار دیتی ہے، الہامی بیان اسے علم الاسماء کا عطا ہونا کہتا ہے، اسی مقام پر فرشتوں کا وہ سوال بھی معنی خیز ہو جاتا ہے جب انہوں نے کہا کہ کیا تو زمین میں ایسی ہستی کو پیدا کرے گا جو فساد کرے گی اور خون بہائے گی، فرشتوں کے پاس غیب کا علم نہیں تھا، ان کا یہ خدشہ غالباً زمین پر پہلے سے موجود انسان نما مخلوقات کے مشاہدے پر مبنی تھا جو طاقت، بقا اور علاقائی غلبے کے لیے خونریزی کرتی تھیں، دینی روایات میں ان مخلوقات کو حن اور بن کہا گیا ہے، جبکہ سائنس انہیں ہومو ایریکٹس اور نینڈرتھال جیسے نام دیتی ہے، یہ مخلوقات دو پاؤں پر چلتی تھیں، اوزار استعمال کرتی تھیں، مگر ان کے پاس وہ اخلاقی اور شعوری امانت نہیں تھی جو انسان کو خلیفہ بناتی ہے، اللہ نے فرشتوں کو جواب دیا کہ میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے، یعنی اس بار محض بشر نہیں بلکہ انسان تخلیق کیا جا رہا ہے، وہ انسان جس کے اندر روح پھونکی جائے گی، جسے علم دیا جائے گا اور جسے اختیار کے ساتھ ذمہ داری سونپی جائے گی، یہاں آدم علیہ السلام کا انتخاب بھی اہم ہو جاتا ہے، سورۃ آل عمران میں کہا گیا ہے کہ اللہ نے آدم، نوح اور آل ابراہیم کو چن لیا، لفظ چننا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ آدم کا انتخاب کسی موجود مجموعے میں سے کیا گیا، یعنی یہ ممکن ہے کہ زمین پر پہلے سے بشر موجود تھے اور ان میں سے ایک بہترین وجود کو روح، علم اور نبوت سے سرفراز کیا گیا، اس طرح آدم علیہ السلام پہلے حیاتیاتی انسان نہیں بلکہ پہلے مکمل شعوری اور اخلاقی انسان تھے، یہی وہ نقطہ ہے جہاں سائنس اور وحی ایک دوسرے کی نفی نہیں بلکہ تکمیل کرتی نظر آتی ہیں، سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ جسم کیسے بنا، وحی ہمیں بتاتی ہے کہ انسان کیوں بنا، سائنس ہارڈویئر کی کہانی سناتی ہے اور الہامی کتابیں سافٹ ویئر کی تنصیب بیان کرتی ہیں، مٹی سے بشر تک کا سفر ارتقائی ہو سکتا ہے، مگر بشر سے انسان تک کا سفر انتخاب، ارادہ اور روح کے بغیر ممکن نہیں، یہی وہ مقام ہے جہاں انسان محض ارتقاء کی پیداوار نہیں بلکہ ایک امانت دار اور جواب دہ ہستی بن جاتا ہے۔
جب انسان کو محض ایک حیاتیاتی وجود کے بجائے ایک باشعور، مختار اور جواب دہ ہستی تسلیم کیا جائے تو تخلیق کا سوال صرف یہ نہیں رہتا کہ انسان کہاں سے آیا، بلکہ اصل سوال یہ بن جاتا ہے کہ انسان کو کیوں بھیجا گیا، یہی وہ نکتہ ہے جہاں سائنس خاموش ہو جاتی ہے اور الہامی کتابیں گفتگو سنبھال لیتی ہیں، قرآن مجید میں آدم علیہ السلام کی تخلیق کے فوراً بعد ان کے سامنے امانت، اختیار اور آزمائش کا ذکر آتا ہے، اللہ تعالیٰ نے آدم کو علم دیا، فرشتوں کے سامنے اس علم کا اظہار کروایا، پھر انہیں جنت میں بسایا گیا اور ایک واضح ہدایت دی گئی، یہی ہدایت دراصل انسان کی اخلاقی آزادی اور ذمہ داری کا پہلا اعلان تھی، سائنس انسان کو جبلت، جینز اور ماحول کا اسیر سمجھتی ہے، جبکہ وحی انسان کو مختار مانتی ہے، وہ اختیار جو انسان کو فرشتوں سے ممتاز کرتا ہے، فرشتے معصوم ہیں، ان کے پاس نافرمانی کی صلاحیت نہیں، جبکہ انسان کو جان بوجھ کر غلط یا درست کا انتخاب کرنے کی آزادی دی گئی، یہی آزادی اسے عظمت کی انتہا تک لے جا سکتی ہے اور یہی آزادی اسے پستی کی گہرائیوں میں بھی گرا سکتی ہے، قرآن میں انسان کے بارے میں کہا گیا کہ ہم نے اسے بہترین ساخت پر پیدا کیا پھر وہ پست ترین درجے تک بھی گر سکتا ہے، یہ بیان اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ انسان کی اصل آزمائش اس کا جسم نہیں بلکہ اس کا شعور اور اس کا اخلاق ہے، اب اگر ہم اس نکتے کو سائنسی زاویے سے دیکھیں تو جدید نیوروسائنس یہ تسلیم کرتی ہے کہ انسانی دماغ میں فیصلہ سازی، اخلاقی احساس اور ہمدردی کے مراکز موجود ہیں، لیکن سائنس یہ نہیں بتا سکتی کہ انسان کیوں اپنے مفاد کے خلاف جا کر قربانی دیتا ہے، کیوں سچ بولنے کے لیے جان دے دیتا ہے اور کیوں ظلم کے خلاف کھڑا ہوتا ہے، یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب محض نیورونز یا کیمیکل ردعمل میں نہیں ملتا، یہی وہ خلا ہے جسے الہامی تصور روح پُر کرتا ہے، روح محض زندگی کی توانائی نہیں بلکہ اخلاقی ضمیر، جواب دہی کا احساس اور خیر و شر کی تمیز ہے، قرآن میں انسان کو امانت کا حامل کہا گیا، یہ امانت آسمانوں، زمین اور پہاڑوں نے اٹھانے سے انکار کر دیا مگر انسان نے قبول کر لی، مفسرین کے مطابق یہ امانت اختیار اور اخلاقی ذمہ داری ہے، سائنس کے نزدیک انسان ایک کامیاب حیاتیاتی نوع ہے، مگر وحی کے نزدیک انسان ایک آزمائشی منصوبہ ہے، جنت سے زمین پر آدم کی آمد بھی اسی آزمائش کا حصہ ہے، یہ واقعہ محض ایک مذہبی قصہ نہیں بلکہ انسان کی فطرت کی علامت ہے، انسان کو ایک بلند مقام دیا گیا، پھر اسے زمین پر اتارا گیا تاکہ وہ اپنے اختیار کو استعمال کر کے دوبارہ بلندی حاصل کرے، سائنس انسان کی ہجرت کی بات کرتی ہے، افریقہ سے نکل کر ایشیا، یورپ اور آسٹریلیا تک پھیلنے کی داستان سناتی ہے، جبکہ قرآن انسان کی اخلاقی ہجرت کی بات کرتا ہے، نفس سے اوپر اٹھنے اور شعور کی طرف سفر کرنے کی دعوت دیتا ہے، زمین پر انسان کی تاریخ دراصل ان دونوں ہجرتوں کا مجموعہ ہے، جسمانی ہجرت بھی اور شعوری ہجرت بھی، یہاں ایک اور اہم نکتہ سامنے آتا ہے، جدید سائنس یہ تسلیم کرتی ہے کہ انسان واحد نوع ہے جو اپنی ہی بقا کے لیے خطرہ بن چکی ہے، ایٹمی ہتھیار، ماحولیاتی تباہی اور اجتماعی قتل اس بات کا ثبوت ہیں کہ محض ذہانت انسان کو مہذب نہیں بناتی، اگر شعور اخلاق سے خالی ہو جائے تو وہ خونریزی کا وہی راستہ اختیار کر لیتا ہے جس کا خدشہ فرشتوں نے ظاہر کیا تھا، قرآن اسی لیے انسان کو بار بار یاد دلاتا ہے کہ وہ خلیفہ ہے، مالک نہیں، زمین اس کی امانت ہے، اس کی ملکیت نہیں، سائنس انسان کو کائنات کا مرکز نہیں مانتی بلکہ ایک معمولی سی نوع قرار دیتی ہے، جبکہ وحی انسان کو مرکز نہیں بلکہ ذمہ دار بناتی ہے، یہی فرق انسان کے بحران کی جڑ ہے، جب انسان نے خود کو محض ارتقائی حادثہ سمجھا تو اس کے اعمال بے مقصد ہو گئے، اور جب اس نے خود کو خدا سمجھ لیا تو وہ ظلم پر اتر آیا، قرآن ان دونوں انتہاؤں کے درمیان توازن قائم کرتا ہے، وہ کہتا ہے کہ انسان مٹی سے بنا ہے، اس لیے تکبر نہ کرے، اور اس میں روح پھونکی گئی ہے، اس لیے خود کو حقیر بھی نہ سمجھے، یہی توازن وہ نکتہ ہے جسے جدید تہذیب کھو چکی ہے، سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ ہم کہاں تک پہنچ سکتے ہیں، مگر وحی ہمیں بتاتی ہے کہ ہمیں کہاں رک جانا چاہیے، اگر انسان اپنے سائنسی علم کو الہامی اخلاق سے جدا کر دے تو وہ اپنی ہی ایجاد سے تباہ ہو جائے گا، اور اگر وہ وحی کو سائنس سے کاٹ دے تو وہ جہالت میں جکڑا رہ جائے گا، انسان کی اصل نجات اسی میں ہے کہ وہ اپنے اندر کے بشر اور انسان دونوں کو پہچانے، بشر کو نظم و ضبط دے اور انسان کو مقصد عطا کرے، یہی وہ مقام ہے جہاں آدم کا قصہ ماضی کی داستان نہیں بلکہ حال کا آئینہ بن جاتا ہے، آج کا انسان بھی اسی دوراہے پر کھڑا ہے، ایک راستہ اسے محض طاقت، مفاد اور بقا کی جنگ کی طرف لے جاتا ہے، اور دوسرا راستہ اسے شعور، اخلاق اور خلافت کے منصب کی طرف بلاتا ہے، انتخاب آج بھی انسان کے ہاتھ میں ہے، اور یہی اختیار اسے انسان بناتا ہے۔
انسان کی انفرادیت کا سب سے گہرا اور پیچیدہ پہلو گناہ کا شعور، ندامت کا احساس اور واپسی کی صلاحیت ہے، یہی وہ وصف ہے جو انسان کو محض ایک ذہین جانور یا پروگرام شدہ مشین سے جدا کرتا ہے، قرآن مجید میں آدم علیہ السلام کی لغزش کا بیان کسی اخلاقی تحقیر کے لیے نہیں بلکہ انسان کی فطرت کو سمجھانے کے لیے آیا ہے، آدم نے خطا کی، مگر انہوں نے انکار نہیں کیا، جواز نہیں گھڑا، الزام کسی اور پر نہیں ڈالا بلکہ اپنے رب کی طرف پلٹ آئے، یہی توبہ انسان کی سب سے بڑی اخلاقی قوت ہے، سائنس انسان کے رویے کو جینیاتی رجحانات، نفسیاتی دباؤ اور ماحول کی پیداوار سمجھتی ہے، اس کے نزدیک جرم اور اخلاق محض ارتقائی حکمت عملی ہیں، لیکن سائنس یہ نہیں بتا سکتی کہ انسان کیوں اپنے کیے پر شرمندہ ہوتا ہے، کیوں معافی مانگتا ہے اور کیوں خود کو بدلنے کی خواہش رکھتا ہے، یہ وہ داخلی تجربہ ہے جسے نہ نیورو سائنس مکمل طور پر ناپ سکتی ہے اور نہ ارتقائی حیاتیات اس کی مکمل توجیہ پیش کر سکتی ہے، قرآن انسان کو ایسا وجود قرار دیتا ہے جو بھولتا بھی ہے اور یاد بھی کرتا ہے، لفظ انسان ہی نسیان سے نکلا ہے، بھول جانا انسان کی کمزوری ہے مگر پلٹ آنا اس کی عظمت ہے، یہی وجہ ہے کہ قرآن میں شیطان کی سرکشی اور آدم کی لغزش کو ایک ساتھ بیان کیا گیا ہے، شیطان نے انکار کیا، آدم نے اعتراف کیا، یہی فرق انسان اور شیطان کے درمیان حد فاصل بن گیا، اب اگر اس پہلو کو سائنسی تناظر میں دیکھا جائے تو جدید نفسیات یہ تسلیم کرتی ہے کہ انسان کے اندر خود احتسابی کی صلاحیت موجود ہے، اخلاقی ضمیر، گِلٹ، اور ایمپتھی جیسے تصورات انسان کو سماجی جانوروں سے الگ کرتے ہیں، مگر یہ علوم اس سوال پر خاموش ہیں کہ یہ ضمیر کہاں سے آیا، کیا یہ محض ارتقائی فائدے کے لیے پیدا ہوا یا اس کے پیچھے کوئی اعلیٰ مقصد بھی ہے، وحی اس سوال کا جواب یوں دیتی ہے کہ انسان کے اندر یہ احساس جواب دہی اس امانت کا نتیجہ ہے جو اس نے قبول کی، یہی جواب دہی انسان کو وحی کی ضرورت سے جوڑتی ہے، اگر انسان خود بخود کامل ہوتا تو ہدایت کی ضرورت نہ ہوتی، قرآن بار بار کہتا ہے کہ اللہ نے رسول بھیجے تاکہ انسان کو یاد دہانی کرائیں، یہ یاد دہانی دراصل اس گمشدہ عہد کی یاد ہے جو انسان نے ابتدا میں کیا تھا، سائنس کے مطابق انسانی تاریخ میں مذہب کا ظہور بھی ایک تدریجی عمل ہے، آثار قدیمہ بتاتے ہیں کہ انسان نے تقریباً پچاس ہزار سال پہلے مردوں کو دفنانا شروع کیا، ان کے ساتھ زیورات اور اوزار رکھے، جو کسی نہ کسی مابعد الموت تصور کی علامت ہے، یہ وہی دور ہے جسے سائنس ادراکی انقلاب کہتی ہے، اور یہی وہ دور ہے جہاں وحی کے بیج پڑتے دکھائی دیتے ہیں، قرآن کہتا ہے کہ ہر قوم میں ہادی بھیجے گئے، یعنی شعور کے بیدار ہونے کے بعد انسان کو تنہا نہیں چھوڑا گیا بلکہ وحی کا تسلسل جاری رہا، آدم سے نوح، نوح سے ابراہیم، اور پھر موسیٰ، عیسیٰ اور محمد تک یہ سلسلہ دراصل انسان کی اخلاقی تربیت کی تاریخ ہے، سائنس انسان کی تہذیب کو زرعی انقلاب، صنعتی انقلاب اور ڈیجیٹل انقلاب میں تقسیم کرتی ہے، جبکہ وحی انسان کی تاریخ کو ہدایت اور گمراہی کے ادوار میں تقسیم کرتی ہے، یہ دونوں تقسیمیں ایک دوسرے سے متصادم نہیں بلکہ مختلف زاویوں سے ایک ہی سفر کو دیکھتی ہیں، جدید دور میں سب سے بڑا بحران یہی ہے کہ انسان نے سائنس کو تو قبول کیا مگر وحی کو ذاتی معاملہ بنا کر اجتماعی زندگی سے خارج کر دیا، نتیجہ یہ نکلا کہ علم بڑھا مگر حکمت کم ہو گئی، طاقت بڑھی مگر ذمہ داری گھٹ گئی، قرآن انسان کو بار بار یاد دلاتا ہے کہ وہ زمین میں فساد نہ کرے، کیونکہ وہ خلیفہ ہے، لیکن آج کا انسان خود کو مالک سمجھ بیٹھا ہے، ماحولیاتی تباہی، جنگیں اور معاشی نابرابری اسی غلط فہمی کا نتیجہ ہیں، سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ زمین محدود ہے اور وسائل ختم ہو سکتے ہیں، وحی ہمیں بتاتی ہے کہ اس زمین کا حساب بھی دینا ہے، یہی جواب دہی وہ اخلاقی فریم ہے جس کے بغیر سائنس خطرناک ہو سکتی ہے، اسی طرح مذہب اگر عقل اور مشاہدے سے کٹ جائے تو وہ جامد رسم بن جاتا ہے، قرآن بار بار انسان کو سوچنے، غور کرنے اور تدبر کی دعوت دیتا ہے، یہ دعوت اس بات کا ثبوت ہے کہ وحی اور عقل ایک دوسرے کے دشمن نہیں بلکہ رفیق ہیں، انسان کا اصل امتحان یہی ہے کہ وہ اپنی خطا کو مانے، سیکھے اور آگے بڑھے، یہی توبہ فرد کے لیے بھی نجات ہے اور تہذیب کے لیے بھی، اگر انسان اپنی غلطیوں کا اعتراف چھوڑ دے تو وہ تاریخ کے بدترین ادوار میں داخل ہو جاتا ہے، اور اگر وہ پلٹ آنے کی صلاحیت کو زندہ رکھے تو وہ ہر زوال کے بعد عروج پا سکتا ہے، یہی آدم کی کہانی کا خلاصہ ہے، یہی انسان کی تاریخ کا حاصل ہے، اور یہی وہ سبق ہے جسے جدید انسان نے سب سے زیادہ فراموش کیا ہے۔
انسانی تاریخ کا موجودہ مرحلہ اس لحاظ سے منفرد ہے کہ پہلی مرتبہ انسان اپنی ہی تخلیق کے عمل میں مداخلت کی صلاحیت حاصل کر چکا ہے، سائنس اب صرف فطرت کو سمجھنے تک محدود نہیں رہی بلکہ فطرت کو بدلنے، نئے جاندار بنانے اور خود انسان کی ساخت میں رد و بدل کرنے کے دروازے کھول چکی ہے، جینیاتی انجینئرنگ، کلوننگ، نیورل امپلانٹس اور مصنوعی ذہانت جیسے تصورات نے ایک نئے سوال کو جنم دیا ہے کہ مستقبل کا انسان کیسا ہوگا، سائنس اسے ٹرانس ہیومن یا پوسٹ ہیومن کہتی ہے، ایک ایسی ہستی جو حیاتیاتی کمزوریوں سے آزاد، زیادہ طاقتور، زیادہ ذہین اور زیادہ دیر تک زندہ رہ سکے، لیکن اس تمام گفتگو میں ایک بنیادی سوال اکثر نظر انداز ہو جاتا ہے کہ اگر انسان نے اپنی روحانی اور اخلاقی شناخت کھو دی تو یہ نئی طاقتیں اسے کہاں لے جائیں گی، قرآن انسان کو زمین کا خلیفہ قرار دیتا ہے، خلیفہ کا مطلب یہ نہیں کہ انسان مطلق العنان حکمران بن جائے بلکہ اس کا مطلب امانت دار نمائندہ ہے، نمائندہ وہ ہوتا ہے جو مالک کی مرضی کے مطابق عمل کرے، سائنس انسان کو فطرت کا مالک بنانے کی طرف بڑھ رہی ہے، جبکہ وحی انسان کو فطرت کا محافظ بننے کی دعوت دیتی ہے، یہی تصادم مستقبل کے سب سے بڑے بحران کی بنیاد ہے، مصنوعی ذہانت اس بحران کی ایک علامت ہے، سائنسدان ایسی مشینیں بنا رہے ہیں جو سیکھ سکتی ہیں، فیصلے کر سکتی ہیں اور حتیٰ کہ تخلیق بھی کر سکتی ہیں، سوال یہ نہیں کہ مشینیں کتنا سیکھ سکتی ہیں بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا وہ اخلاقی ذمہ داری اٹھا سکتی ہیں، قرآن کے مطابق خلافت کا اصل معیار علم نہیں بلکہ امانت ہے، فرشتوں کے پاس علم اور طاقت تھی مگر امانت انسان کو دی گئی، کیونکہ انسان کے پاس اختیار اور جواب دہی ہے، مشین کے پاس اختیار تو ہو سکتا ہے مگر جواب دہی نہیں، وہ ندامت محسوس نہیں کر سکتی، وہ توبہ نہیں کر سکتی، اور وہ اپنے عمل کا اخلاقی بوجھ نہیں اٹھا سکتی، یہی وجہ ہے کہ مصنوعی ذہانت چاہے کتنی ہی ترقی کر جائے، وہ انسان کا نعم البدل نہیں بن سکتی بلکہ صرف ایک آلہ رہ سکتی ہے، اگر انسان نے اس آلے کو اخلاقی رہنمائی کے بغیر استعمال کیا تو وہ خود اپنی تخلیق کا غلام بن جائے گا، جدید دنیا میں روح کے انکار نے انسان کو ایک خطرناک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے، جب انسان خود کو محض ڈی این اے، نیورونز اور الگورتھمز کا مجموعہ سمجھنے لگتا ہے تو اس کے اعمال سے مقصدیت ختم ہو جاتی ہے، وہ طاقت کو حق سمجھنے لگتا ہے اور کامیابی کو اخلاق سے جدا کر دیتا ہے، قرآن بار بار انسان کو یاد دلاتا ہے کہ اسے مٹی سے بنایا گیا ہے اور اسی مٹی میں لوٹنا ہے، یہ یاد دہانی تکبر کو توڑنے کے لیے ہے، اور یہ اعلان کہ اس میں روح پھونکی گئی ہے انسان کو وقار دینے کے لیے ہے، جدید تہذیب نے وقار کو تو قبول کیا مگر جواب دہی کو نظر انداز کر دیا، نتیجہ یہ نکلا کہ انسان ٹیکنالوجی کے ذریعے دیوتا بننے کی کوشش کر رہا ہے مگر اخلاقی سطح پر خود کو سنبھالنے سے قاصر ہے، مستقبل کا انسان اگر واقعی انسان رہنا چاہتا ہے تو اسے اپنے بشر اور انسان دونوں پہلوؤں میں توازن پیدا کرنا ہوگا، سائنس اس کے بشر کو طاقت دے سکتی ہے، مگر انسان کو معنی صرف وحی دے سکتی ہے، اگر یہ توازن ٹوٹ گیا تو انسان ایک ایسی مخلوق میں بدل جائے گا جو ظاہری طور پر انتہائی ذہین مگر باطنی طور پر کھوکھلی ہوگی، قرآن انسان کے انجام کو اس کے اعمال سے جوڑتا ہے، وہ کہتا ہے کہ جس نے ذرہ برابر بھلائی کی ہوگی وہ دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہوگی وہ بھی دیکھ لے گا، یہ تصور احتساب مستقبل کی ہر ٹیکنالوجی سے زیادہ طاقتور اخلاقی بریک ہے، سائنس قوانین بنا سکتی ہے، مگر ضمیر نہیں بنا سکتی، ضمیر وہی پیدا ہوتا ہے جہاں انسان خود کو جواب دہ سمجھے، اسی لیے وحی مستقبل کی بات کرتے ہوئے ماضی کی یاد دلاتی ہے، آدم کی کہانی، نوح کا طوفان، قوموں کا عروج و زوال سب اس بات کی علامت ہیں کہ جب انسان نے طاقت کو اخلاق سے الگ کیا تو تباہی اس کا مقدر بنی، آج کا انسان اگر واقعی ترقی چاہتا ہے تو اسے صرف نئے آلات نہیں بلکہ نئی بصیرت درکار ہے، وہ بصیرت جو اسے یاد دلائے کہ وہ نہ محض جانور ہے اور نہ خدا، بلکہ ایک امانت دار مسافر ہے جو خاک سے اٹھا ہے اور خاک ہی کی طرف لوٹنا ہے، مگر اس واپسی سے پہلے اسے اپنی روح کے سوال کا جواب دینا ہے، یہی سوال انسان کو انسان بناتا ہے، اور یہی سوال سائنس اور وحی کے درمیان اصل پل ہے۔ یہاں یہ سلسلہ فکری طور پر مکمل ہوتا ہے، مگر انسان کا سوال کبھی مکمل نہیں ہوتا، کیونکہ جب تک انسان زندہ ہے، خاک اور روح کے درمیان یہ مکالمہ جاری رہے گا۔خاک اور روح کا مکالمہ کوئی شاعرانہ استعارہ ہی نہیں بلکہ انسان کی اصل حقیقت کی جامع تعبیر ہے۔ اس سے مراد انسان کے اندر جاری وہ مسلسل کشمکش، ہم آہنگی اور سوال و جواب ہے جو اس کے مادی وجود اور اس کے ماورائی شعور کے درمیان برپا رہتا ہے۔
خاک انسان کے اس پہلو کی نمائندگی کرتی ہے جو مٹی سے بنا ہے، جو حیاتیاتی ہے، فانی ہے اور فطری قوانین کا پابند ہے۔ یہی وہ پہلو ہے جسے سائنس سمجھتی ہے، ناپتی ہے اور بیان کرتی ہے۔ جسم، جینز، جبلتیں، بھوک، خوف، بقا کی خواہش، طاقت، جنس، ملکیت اور غلبہ سب خاک کے دائرے میں آتے ہیں۔ خاک انسان کو زمین سے جوڑتی ہے، اسے محدود رکھتی ہے اور اسے یاد دلاتی ہے کہ وہ فطرت کا حصہ ہے، اس پر حاکم نہیں۔ قرآن جب انسان کی تخلیق کو مٹی، گارے اور سڑی ہوئی مٹی سے جوڑتا ہے تو دراصل انسان کو اس کی اصل، اس کی کمزوری اور اس کے انجام کی یاد دہانی کراتا ہے۔
روح انسان کے اس پہلو کی علامت ہے جو مادے سے ماورا ہے، جو سوال کرتا ہے، معنی تلاش کرتا ہے اور خیر و شر میں تمیز رکھتا ہے۔ ضمیر، ندامت، محبت، قربانی، عبادت، انصاف، جمالیات، دعا اور سچ کی جستجو روح کے مظاہر ہیں۔ روح وہ عنصر ہے جو انسان کو صرف زندہ نہیں بلکہ باشعور بناتا ہے۔ قرآن میں روح کے بارے میں کہا گیا کہ یہ میرے رب کے حکم سے ہے، یعنی یہ وہ حقیقت ہے جو سائنسی تجربے اور لیبارٹری سے ماورا ہے، مگر انسانی تجربے میں سب سے زیادہ حقیقی ہے۔انسان میں خاک اور روح کبھی مکمل طور پر الگ نہیں ہوتیں، دونوں ہر لمحہ ایک دوسرے سے بات کر رہی ہوتی ہیں۔ خاک انسان کو کہتی ہے کہ طاقت حاصل کرو، بقا کی جنگ جیتو، لذت اور فائدہ لو۔ روح انسان کو جواب دیتی ہے کہ انصاف کرو، حد میں رہو، قربانی دو اور جواب دہی کو یاد رکھو۔ خاک جلدی کامیابی چاہتی ہے، روح دیرپا معنی مانگتی ہے۔ خاک کہتی ہے کہ جو ممکن ہے وہی درست ہے، روح کہتی ہے کہ جو درست ہے وہی ممکن ہونا چاہیے۔
یہ مکالمہ آدم علیہ السلام کی کہانی میں علامتی طور پر بیان ہوا ہے۔ مٹی سے بنا ہوا وجود جنت میں رکھا گیا، اختیار دیا گیا، پھر لغزش ہوئی۔ یہ لغزش خاک کی طرف سے تھی، اور توبہ روح کی طرف سے۔ شیطان کا انکار دراصل خاک کے غرور کی انتہا ہے، اور آدم کا اعتراف روح کی بیداری ہے۔ یہی مکالمہ ہر انسان کے اندر روزانہ دہرایا جاتا ہے۔سائنسی زبان میں یہ مکالمہ جبلت اور شعور کے درمیان کشمکش ہے۔ حیاتیات انسان کو بقا کی طرف دھکیلتی ہے، جبکہ اخلاقیات انسان کو ضبط، ایثار اور انصاف کی طرف بلاتی ہیں۔ نفسیات اسے انا اور ضمیر کی جنگ کہتی ہے، فلسفہ اسے مادہ اور معنی کا تضاد قرار دیتا ہے، اور دین اسے نفس اور روح کی آزمائش کہتا ہے۔خاک اور روح کا مکالمہ دراصل انسان کی آزادی کی بنیاد ہے۔ اگر انسان صرف خاک ہوتا تو وہ محض ایک پروگرام شدہ جاندار ہوتا، اور اگر وہ صرف روح ہوتا تو اس پر آزمائش نہ ہوتی۔ انسان اس لیے انسان ہے کہ وہ دونوں کے درمیان انتخاب کرتا ہے۔ یہی انتخاب اسے فرشتوں سے بلند بھی کر سکتا ہے اور جانوروں سے نیچے بھی گرا سکتا ہے۔تمدن کی پوری تاریخ اسی مکالمے کی اجتماعی شکل ہے۔ جب تہذیب میں خاک غالب آ جاتی ہے تو طاقت، استعمار، جنگ اور تباہی جنم لیتی ہے۔ جب روح غالب آتی ہے تو قانون، اخلاق، فن، عبادت اور انصاف پروان چڑھتے ہیں۔ جدید دور کا بحران یہی ہے کہ خاک کی آواز بہت بلند ہو گئی ہے اور روح کی آواز دبتی جا رہی ہے۔لہٰذا خاک اور روح کا مکالمہ انسان کے اندر جاری وہ خاموش گفتگو ہے جو ہر فیصلے، ہر ارادے اور ہر عمل سے پہلے برپا ہوتی ہے۔ یہی مکالمہ انسان کو محض جینز کا مجموعہ بننے سے بچاتا ہے اور محض خوابوں کی مخلوق بننے سے بھی روکتا ہے۔ انسان کی نجات، توازن اور عظمت اسی میں ہے کہ وہ اس مکالمے کو سنے، سمجھے اور اس میں روح کی آواز کو رہنمائی کا حق دے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں