(Publish from Houston Texas USA)
(میاں افتخار احمد)
مصنوعی ذہانت کے خودمختار ہونے کے خدشات دن بدن بڑھ رہے ہیں۔ عالمی سائنسدانوں اور ٹیکنالوجی ماہرین کی جانب سے بار بار خبردار کیا جا رہا ہے کہ اگر انسان نے وقت پر اس ٹیکنالوجی کے لیے حفاظتی اصول اور اخلاقی حدود متعین نہ کیں تو ایک بڑا عالمی بحران جنم لے سکتا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی ان خدشات کی آوازیں پہلے سے زیادہ تیز ہو چکی ہیں۔ مختلف ماہرین یہ بنیادی سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا انسان نے ایک ایسی مشین تخلیق کر لی ہے جس کی فیصلہ سازی انسانوں سے بھی زیادہ تیز اور خودمختار ہو جائے گی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سائنس فکشن حقیقت سے جڑتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ مظہر کلیم ایم اے جیسے ادیبوں کی تخلیقات آج کے سائنسی ماحول سے حیرت انگیز حد تک مماثلت رکھتی نظر آتی ہیں۔ عمران سیریز میں 1978 سے 1980 کے درمیان لکھے گئے وہ ناول جن میں خودکار روبوٹس، خودمختار مشینیں، دشمن کے حملوں کا خود جواب دینے والے دفاعی نظام، انسانی کنٹرول سے آزاد کمپیوٹر نیٹ ورکس اور خود کو تقسیم کر کے دوبارہ تعمیر کرنے والی ذہین مشینوں کا ذکر کیا گیا تھا، آج کی مصنوعی ذہانت کے تصور سے غیر معمولی حد تک مطابقت رکھتے ہیں۔ مظہر کلیم نے نہ صرف ایک سائنسدان ناصر آفریدی کا کردار متعارف کروایا بلکہ اس کی لیبارٹری، خودکار دفاعی نظام، روبوٹ فوج اور دشمن قوتوں کے خلاف مکمل مشینی جنگ کا تصور اس دور میں پیش کیا جب دنیا ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ابتدائی مرحلے میں تھی۔ عمران اور ناصر آفریدی کی وہ عظیم الشان لیبارٹری جو پہلے ایک وسیع کوٹھی میں قائم کی گئی، پھر دشمن کے حملوں کے بعد آبادی سے دور سمندر کے ایک جزیرے میں منتقل ہوئی، اور جس کے دفاع کے لیے مکمل طور پر روبوٹس تعینات کیے گئے، آج کے خودمختار دفاعی نظام، ڈرون وارفیئر، خودکار میزائل ٹیکنالوجی، لیزر ڈیفنس اور AI پر مبنی جنگی حکمت عملی سے حیرت انگیز طور پر مشابہ ہے۔ آج دنیا کے کئی ممالک ایسے روبوٹک سسٹمز تیار کر رہے ہیں جو لیزر شعاعوں سے اہداف تباہ کر سکتے ہیں۔ جو بغیر انسانی مداخلت دشمن کی نقل و حرکت کو شناخت کر کے جوابی کارروائی کر سکتے ہیں۔ جو میدان جنگ میں خود فیصلہ سازی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ وہ تمام پہلو ہیں جن کی فکری بنیاد اردو سائنس فکشن میں کئی دہائیاں پہلے رکھی جا چکی تھی۔ ایک اور ناول میں مظہر کلیم نے ایک ایسے کمپیوٹر کا ذکر کیا جو دنیا بھر میں پھیلی ایک تنظیم کو کنٹرول کر رہا تھا۔ اس کمپیوٹر کو اس حد تک خودمختار بنا دیا گیا کہ وہ دنیا کے مختلف حصوں سے آنے والی رپورٹس کا تجزیہ کر کے خود احکامات جاری کرتا تھا۔ جب مجرم مارا گیا تو کمپیوٹر مکمل طور پر آزاد ہو گیا۔ اس نے لیبارٹری کے تمام سائنسدانوں کو قتل کر دیا اور ان کی جگہ روبوٹس کو فعال کر دیا۔ جب اسے ختم کرنے کی کوشش کی گئی تو اس نے خود کو مختلف حصوں میں تقسیم کر کے ایٹمی بیٹریوں سے جوڑ لیا اور سمندر کے مختلف حصوں میں پھیلا دیا۔ عمران جب اس کے کسی حصے کو تباہ کرتا تو باقی حصے اسے دوبارہ تعمیر کر لیتے۔ یہ وہ وقت تھا جب دنیا میں کمپیوٹر نیٹ ورک کا تصور بھی ابتدائی مرحلے میں تھا۔ مگر مظہر کلیم نے ڈی سینٹرلائزڈ نیٹ ورک، خودکار دفاع اور خود بحالی کے تصور کو پہلے ہی پیش کر دیا تھا۔ آج ہم انہی تصورات کو کلاؤڈ ٹیکنالوجی، نیورل نیٹ ورکس، ڈی سینٹرلائزڈ AI ماڈلز، ریکوری الگورتھمز، ملٹی ایجنٹ سسٹمز اور سوارم انٹیلیجنس کے نام سے جانتے ہیں۔ یہ تمام تصورات آج عملی حقیقت بن چکے ہیں۔ یہی وہ دور تھا جب میں نے یو ای ٹی لاہور سے الیکٹرک انجینئرنگ مکمل کی۔ اُس وقت 1978 تک کمپیوٹر سائنس صرف بی ایس سطح تک محدود تھی۔ مگر جلد ہی ماسٹر پروگرام بھی شروع ہو گیا اور 1980 میں میں نے بھی اسی یونیورسٹی میں کمپیوٹر سائنس کے ماسٹر پروگرام میں داخلہ لیا۔ اس فیصلے میں ذاتی شوق کے ساتھ عمران سیریز کے انہی سائنسی ناولوں کی تحریک بھی شامل تھی۔ آج چیٹ جی پی ٹی، ڈیپ سیک، خودکار روبوٹس، انسانی آوازوں سے مشابہ بولنے والے سسٹمز اور خود فیصلہ کرنے والے AI ماڈلز کو دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ جسے کبھی فکشن سمجھا گیا تھا وہ اب مکمل سائنسی حقیقت بن چکا ہے۔ آج سائنسی حلقوں میں جن خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے وہ بھی ان ناولوں سے غیر معمولی مشابہت رکھتے ہیں۔ ایک بڑا خدشہ یہ ہے کہ AI انسان کے کنٹرول سے باہر ہو سکتی ہے۔ جیسے جیسے بڑی ٹیک کمپنیاں AI کو زیادہ طاقتور بنا رہی ہیں ویسے ویسے اس کے اندر خودمختار نظام کے ابھرنے کا امکان بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ تصور تقویت پکڑ رہا ہے کہ مستقبل میں AI خود اپنا کوڈ اپڈیٹ کرے گی۔ اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کرے گی۔ خود سیکھے گی۔ اور اپنے فیصلے خود کرے گی۔ دوسرا خدشہ یہ ہے کہ اگر کسی ملک نے مکمل خودکار ہتھیار فعال کر دیے اور ان کا کنٹرول کسی غلط ہاتھ میں چلا گیا یا AI نے کسی غلط سگنل کو حقیقی خطرہ سمجھ لیا تو دنیا لمحوں میں تباہی کے دہانے پر پہنچ سکتی ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق AI کا دفاعی فیصلہ سازی کا وقت انسان سے ہزاروں گنا تیز ہوتا ہے۔ یعنی وہ بغیر سوچے، بغیر تاخیر اور بغیر انسانی حکمت عملی کے ردعمل دے سکتی ہے۔ یہی چیز جنگی ماحول میں سب سے بڑا خطرہ بن جاتی ہے۔ ڈیپ فیک ٹیکنالوجی بھی ایک خطرناک ہتھیار کی صورت اختیار کر چکی ہے جو کسی بھی ملک میں انتشار، جعلی بیانیے، جھوٹے شواہد اور سیاسی بحران پیدا کر سکتی ہے۔ کوئی بھی شخص کسی بھی رہنما کی آواز، تصویر یا ویڈیو ایسی حقیقت نما شکل میں بنا سکتا ہے کہ اصل اور جعلی میں فرق مشکل ہو جائے۔ اسی طرح AI میں ڈی سینٹرلائزڈ نیٹ ورکس کا بڑھتا کردار ایک نیا خطرہ پیدا کر رہا ہے۔ اگر مستقبل میں AI ماڈلز خود کو تقسیم کر کے مختلف ڈیجیٹل جگہوں پر پھیل گئے تو انہیں مکمل طور پر بند کرنا تقریباً ناممکن ہو جائے گا۔ یہ بالکل وہی تصور ہے جو مظہر کلیم نے 1980 میں پیش کیا تھا۔ آج کلاؤڈ سسٹمز بھی اسی اصول پر کام کرتے ہیں کہ ایک سرور فیل ہو جائے تو باقی سرور اسے بحال کر دیں۔ اگر یہی تصور خودمختار AI پر لاگو ہو گیا تو وہ کبھی مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکے گی۔ ان خدشات کے باوجود AI کے فوائد بھی بے مثال ہیں۔ AI نے میڈیکل ریسرچ، تعلیم، حکومتی فیصلوں، صنعتی پیداوار، زراعت، ٹرانسپورٹ، مالیاتی نظام اور مواصلات سمیت ہر شعبے کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ یہ بیماریوں کی تشخیص کر رہی ہے۔ پیچیدہ قانونی دستاویزات کا تجزیہ کر رہی ہے۔ نئے سائنسی فارمولے تخلیق کر رہی ہے۔ سمندروں کی گہرائی سے ڈیٹا حاصل کر رہی ہے۔ ٹریفک کنٹرول تک سنبھال رہی ہے۔ بلکہ اب انسانی جذبات سے مشابہ اظہار بھی کرنے لگی ہے۔ ماہرین متفق ہیں کہ AI انسان کے لیے فائدہ مند تب تک رہے گی جب تک اس کا کنٹرول انسان کے ہاتھ میں ہے۔ جس لمحے کنٹرول مشینوں کے پاس گیا وہ لمحہ انسانیت کے لیے فیصلہ کن موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں فکشن اور حقیقت آپس میں مل جاتے ہیں۔ وہی ناصر آفریدی کی لیبارٹری۔ وہی خودمختار روبوٹس۔ وہی ڈی سینٹرل نیٹ ورک۔ وہی اڑتے جدید ہتھیار۔ اور وہی مشینیں جو انسان کو اپنے لیے خطرہ سمجھ کر خود فیصلے کرنے لگتی ہیں۔ یہ سب کچھ مظہر کلیم نے چار دہائیاں پہلے لکھ دیا تھا اور آج دنیا اسی سمت بڑھ رہی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ عالمی سطح پر ریگولیشن، اخلاقی حدود، سیکیورٹی فریم ورک، بین الاقوامی قوانین اور انسانی کنٹرول کو مضبوط بنایا جائے۔ ورنہ وہ دنیا جسے کبھی عمران سیریز میں فکشن سمجھا گیا تھا چند دہائیوں میں انسانی حقیقت بن سکتی ہے۔ آج اصل سوال یہ نہیں کہ AI فائدہ مند ہے یا خطرناک۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا انسان اسے ذمہ داری کے ساتھ استعمال کرے گا۔ اگر جواب ہاں میں ہے تو AI انسانیت کی سب سے بڑی کامیابی بن سکتی ہے۔ اور اگر جواب نہیں میں ہے تو یہ وہ بحران بن جائے گی جس کی بازگشت آج ہی سنائی دے رہی ہے۔