0

جغرافیائی سیاست سے جغرافیائی معیشت تک: پاک–امریکہ تعلقات کا ایک نیا امتحان

(Publish from Houston Texas USA)

(عاصم صدیقی واشنگٹن ڈی سی)
پاکستان ایک بار پھر امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کی سمت تبدیل کرنے کا عندیہ دے رہا ہے—اس مرتبہ سیکیورٹی اور جغرافیائی سیاست کے بجائے معاشی تعاون کو بنیاد بنانے کی کوشش کے ساتھ۔

حالیہ دنوں میں واشنگٹن میں امریکی کانگریس کے اہم اراکین سے ملاقاتوں کے دوران پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے اعلیٰ سطحی اقتصادی مکالمے کے آغاز پر زور دیا اور 2026 کو “سالِ عمل” قرار دیا۔ پیغام واضح تھا: پاکستان چاہتا ہے کہ امریکہ اسے محض ایک تزویراتی ضرورت کے طور پر نہیں بلکہ ایک اقتصادی شراکت دار کے طور پر دیکھے۔

تاریخی طور پر پاک–امریکہ تعلقات زیادہ تر سلامتی اور وقتی جغرافیائی مفادات کے گرد گھومتے رہے ہیں، جن سے دونوں ممالک کو محدود اور عارضی فوائد حاصل ہوئے۔ تجارت، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون ہمیشہ پس منظر میں رہا، حالانکہ یہی وہ شعبے ہیں جو دیرپا تعلقات کی بنیاد بن سکتے ہیں۔

توانائی، معدنیات، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت جیسے شعبوں میں تعاون کی بات ایک ایسے وقت میں کی جا رہی ہے جب عالمی معیشت نئی ترتیب اختیار کر رہی ہے اور سپلائی چینز متبادل راستے تلاش کر رہی ہیں۔ اس تناظر میں پاکستان کی معاشی سفارت کاری ایک عملی ضرورت بن چکی ہے، نہ کہ محض ایک خواہش۔

تاہم سوال یہ ہے کہ کیا واشنگٹن اس پیشکش کو سنجیدگی سے لے گا؟ کسی بھی بامعنی اقتصادی شراکت کے لیے پاکستان کو شفافیت، حکمرانی اور پالیسی تسلسل جیسے چیلنجز پر بھی پیش رفت دکھانا ہوگی—وہ عوامل جو ماضی میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹ بنتے رہے ہیں۔

اس کے باوجود، بیانیے میں یہ تبدیلی اہم ہے۔ اگر دونوں ممالک ماضی کے بحران زدہ تعلقات سے نکل کر ایک منظم اور معاشی بنیادوں پر استوار مکالمہ قائم کر پائیں، تو پاک–امریکہ تعلقات ایک زیادہ مستحکم اور متوازن دور میں داخل ہو سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں