0

صومالی نژاد امریکیوں کے لیے ٹی پی ایس کا خاتمہ: پالیسی، طاقت اور اثرات

(Publish from Houston Texas USA)

(عاصم صدیقی واشنگٹن ڈی سی)
امریکہ میں مقیم ہزاروں صومالی باشندے ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہو گئے ہیں، جب ٹرمپ انتظامیہ نے صومالیہ کے لیے ٹیمپریری پروٹیکٹڈ اسٹیٹس (TPS) ختم کرنے کا اعلان کیا۔ اس فیصلے کے تحت TPS رکھنے والے افراد کو 17 مارچ تک امریکہ چھوڑنا ہوگا، جب تک کہ وہ کوئی متبادل قانونی حیثیت حاصل نہ کر لیں۔

TPS ایک انسانی ہمدردی پر مبنی پروگرام ہے، جو دہائیوں سے جنگ اور عدم استحکام کا شکار صومالی عوام کو تحفظ فراہم کرتا رہا۔ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ صومالیہ میں حالات بہتر ہو چکے ہیں، تاہم ناقدین کے مطابق یہ دعویٰ زمینی حقائق اور جاری سلامتی کے خطرات سے مطابقت نہیں رکھتا۔

اس فیصلے کے اثرات خاص طور پر ریاست منیسوٹا میں نمایاں ہیں، جہاں امریکہ کی سب سے بڑی صومالی نژاد کمیونٹی آباد ہے۔ اسی دوران محکمۂ داخلی سلامتی کی جانب سے آئی سی ای (ICE) کی کارروائیوں میں بھی تیزی دیکھی جا رہی ہے، جنہیں امیگریشن خلاف ورزیوں اور بڑے فراڈ مقدمات سے جوڑا جا رہا ہے۔ انسانی حقوق کے علمبرداروں کا کہنا ہے کہ ان دونوں اقدامات کا امتزاج ایک پوری کمیونٹی کو اجتماعی طور پر بدنام کرنے کے مترادف ہو سکتا ہے۔

حکومتی حامیوں کا مؤقف ہے کہ امیگریشن قوانین کا یکساں نفاذ ضروری ہے اور عارضی تحفظ مستقل حیثیت اختیار نہیں کر سکتا۔ اس کے برعکس ناقدین خبردار کرتے ہیں کہ اچانک پالیسی تبدیلیاں خاندانوں کو توڑ دیتی ہیں، کمیونٹیز کو عدم استحکام سے دوچار کرتی ہیں اور امریکہ کی انسانی اقدار پر سوال اٹھاتی ہیں۔

یہ بحث دراصل امریکہ کی داخلی اور خارجی پالیسی میں موجود ایک بنیادی تضاد کو ظاہر کرتی ہے—طاقت اور رحم، قانون اور اخلاقیات کے درمیان توازن۔ اس معاملے کا انجام نہ صرف صومالی TPS ہولڈرز کے مستقبل کا تعین کرے گا بلکہ عالمی سطح پر امریکہ کی انسانی ساکھ پر بھی گہرے اثرات مرتب کرے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں