0

عالمی قرضی نظام، طاقت اور خودمختاری

(Publish from Houston Texas USA)

(میاں افتخار احمد)
دنیا 317 ٹریلین ڈالر کی مقروض ہے، مگر اصل سوال یہ نہیں کہ قرض کتنا ہے بلکہ یہ ہے کہ قرض کس کے پاس ہے۔ جب پیسہ قرض کے ساتھ پیدا ہوتا ہے مگر سود کے بغیر، تو یہ نظام معیشت نہیں بلکہ خاموش منتقلیٔ دولت ہے۔ اب سوال یہ نہیں کہ نظام ٹھیک ہے یا غلط، سوال یہ ہے کہ ہم اسے سمجھتے بھی ہیں یا نہیں۔عالمی معیشت اس وقت ایک ایسے قرضی ڈھانچے پر کھڑی ہے جس میں تقریباً ہر بڑی ریاست مقروض ہے اور مجموعی عالمی قرض 317 ٹریلین ڈالر تک پہنچ چکا ہے جو عالمی جی ڈی پی کے تقریباً 330 فیصد کے برابر ہے یہ صورت حال محض اعداد و شمار کا کھیل نہیں بلکہ طاقت دولت سیاست اور عوامی زندگی کے باہمی تعلق کا عکاس نظام ہے جس میں قرض لینے والے اور قرض دینے والے بیک وقت موجود ہیں اور سوال یہ نہیں کہ سب مقروض کیوں ہیں بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ اثاثے کس کے پاس ہیں اور طاقت کس کے ہاتھ میں مرکوز ہے جدید مالیاتی نظام میں قرض صرف سرمائے کی کمی پوری کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ پیسے کی تخلیق کا بنیادی طریقہ ہے جہاں مرکزی اور کمرشل بینک قرض کے عمل کے ذریعے نئی رقم پیدا کرتے ہیں مگر سود کی رقم پیدا نہیں کی جاتی یوں قرض ریاضیاتی طور پر کبھی مکمل ادا نہیں ہو سکتا اور نظام کو زندہ رکھنے کے لیے مسلسل نئے قرض کی ضرورت رہتی ہے اس عمل میں مرکزی بینک ادارہ جاتی سرمایہ کار غیر ملکی حکومتیں اور انتہائی امیر افراد وہ فریق ہیں جن کے پاس قرض کے مقابل اثاثے جمع ہوتے جاتے ہیں جبکہ ریاستیں اور عوام ذمہ داریوں کے بوجھ تلے دبتے جاتے ہیں اس نظام کی بنیاد سود پر ہے جو وقت کے ساتھ بڑھتا رہتا ہے اور دولت کو نچلی سطح سے اوپر کی طرف منتقل کرتا ہے تاریخ بتاتی ہے کہ جب بھی قرض دولت کی حقیقی پیداوار سے آگے بڑھا معاشرے عدم توازن کا شکار ہوئے قدیم بابل کے قرض معافی فرمان ہوں یا رومی سلطنت کا زوال جدید دور کے بحرانوں 1929 اور 2008 تک ایک ہی پیٹرن دکھائی دیتا ہے کہ ضرورت سے زیادہ قرض اور مالیاتی اثاثوں کا غیر حقیقی پھیلاؤ بالآخر بحران کو جنم دیتا ہے موجودہ دور میں ڈالر کی ریزرو حیثیت نے امریکہ کو غیر معمولی سہولت دی مگر ڈی ڈالرائزیشن کے رجحانات ظاہر کرتے ہیں کہ یہ غلبہ بھی غیر متزلزل نہیں چین روس ایران اور دیگر ممالک متبادل تجارت اور کرنسی انتظامات کی طرف بڑھ رہے ہیں مگر اس منتقلی میں خطرات بھی ہیں کیونکہ طاقت کے مراکز معاشی دباؤ سیاسی عدم استحکام اور بیانیاتی جنگ کے ذریعے مزاحمت کرتے ہیں قرضی نظام محض معاشی نہیں بلکہ سیاسی آلہ بھی ہے جس کے ذریعے بجٹ سازی قانون سازی اور عوامی پالیسیوں کو محدود کیا جاتا ہے ترقی پذیر ممالک خاص طور پر اس دباؤ کا شکار ہوتے ہیں جہاں آئی ایم ایف اور دیگر ادارے سخت شرائط کے ذریعے ریاستی ترجیحات طے کرتے ہیں اور اس کا براہ راست بوجھ عوام پر پڑتا ہے ٹیکسوں میں اضافہ مہنگائی بے روزگاری اور سماجی تحفظ میں کٹوتی قرض کی خاموش ادائیگی کے ذرائع بن جاتے ہیں متوسط طبقہ اس نظام کا ایندھن بنتا ہے کیونکہ وہ نہ اتنا طاقتور ہوتا ہے کہ مزاحمت کر سکے اور نہ اتنا کمزور کہ نظام سے باہر ہو جائے اس کے برعکس بڑی کارپوریشنز اور مالیاتی مفادات کو ٹیکس چھوٹ اور تحفظ حاصل رہتا ہے اس صورت حال سے نکلنے کا راستہ فوری یا آسان نہیں بلکہ تدریجی خودمختاری کا تقاضا کرتا ہے تاریخی تجربات بتاتے ہیں کہ چین نے بیرونی قرض پر کم انحصار اور داخلی صنعتی بنیاد کو مضبوط کر کے نسبتی آزادی حاصل کی ایران نے پابندیوں کے باوجود بارٹر اور مقامی پیداوار کے ذریعے بقا دکھائی لاطینی امریکہ کے بعض ممالک نے مخصوص ادوار میں قرض کی ری اسٹرکچرنگ اور قدرتی وسائل پر ریاستی کنٹرول سے سماجی بہتری حاصل کی اور آئس لینڈ نے بحران کے بعد بینکوں کو عوام پر لادنے کے بجائے نظامی اصلاح کو ترجیح دی ان مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ کامیابی کا کوئی واحد ماڈل نہیں مگر کچھ مشترک اصول ضرور ہیں جیسے داخلی پیداوار میں اضافہ زرعی اور توانائی خود کفالت صنعتی پالیسی مالیاتی شعبے پر ریاستی مفاد کی بالادستی اور عوامی حمایت قرضی آزادی کا اصل امتحان فکری میدان میں بھی ہے کیونکہ جب تک عوام یہ مانتے رہیں کہ قرض ناگزیر ہے اور سود ترقی کی قیمت ہے تب تک مزاحمت ممکن نہیں میڈیا نصاب اور تھنک ٹینکس کے ذریعے یہ بیانیہ مضبوط کیا جاتا ہے کہ متبادل غیر عملی ہیں اس کے مقابل فکری بیداری آزاد صحافت اور سماجی اداروں کا کردار اہم ہے کیونکہ سوال اٹھانے سے ہی پالیسی پر دباؤ پیدا ہوتا ہے عملی سطح پر ریاستوں کو بجٹ کی ترجیحات بدلنی ہوں گی غیر پیداواری اخراجات کم کرنا ہوں گے ٹیکس نظام کو منصفانہ بنانا ہوگا برآمدات میں حقیقی اضافہ اور ویلیو ایڈیشن کو فروغ دینا ہوگا اور قرض کو ترقی کا مستقل متبادل سمجھنے کے بجائے وقتی سہارا ماننا ہوگا یہ ایک سیاسی فیصلہ ہے جو اشرافیہ کے مفادات کو چیلنج کیے بغیر ممکن نہیں قرضی نظام کو چیلنج کرنے پر ردعمل آتا ہے سرمایہ کا انخلا کرنسی پر دباؤ اور بیانیاتی حملے مگر تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ جو معاشرے اتحاد تدریج اور حکمت کے ساتھ اس دباؤ کو برداشت کرتے ہیں وہ زیادہ خودمختار اور مستحکم نظام قائم کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں اس جامع تجزیے کا نچوڑ یہ ہے کہ عالمی قرضی نظام طاقت اور دولت کے ارتکاز کا آلہ ہے مگر ناقابل شکست نہیں ریاست معاشرہ اور فرد تینوں سطحوں پر کردار ادا کر کے نسبتی آزادی حاصل کر سکتے ہیں بشرطیکہ مقصد فوری آسائش کے بجائے طویل المدتی خودمختاری ہو اور یہی وہ راستہ ہے جو ایک زیادہ عادلانہ اور پائیدار معاشی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں