0

ایران کے ہنگامے، ٹرمپ ڈاکٹرائن اور عالمی طاقت کی نئی جنگ: مشرق وسطیٰ سے جنوبی ایشیا تک بدلتا ہوا منظرنامہ

(Publish from Houston Texas USA)

(میاں افتخار احمد)
ایران میں حالیہ مہینوں کے دوران جس نوعیت کے مظاہرے اور عوامی ہنگامے سامنے آئے ہیں وہ محض داخلی معاشی یا سماجی بے چینی تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک وسیع تر عالمی طاقت کی کشمکش، توانائی کے وسائل پر کنٹرول، رجیم چینج کی پرانی مگر نئے انداز میں سامنے آنے والی حکمت عملیوں اور امریکہ کی نئی جارحانہ خارجہ پالیسی کا تسلسل دکھائی دیتے ہیں، ایران کے مختلف شہروں اور صوبوں میں پھیلنے والے احتجاج ابتدا میں مہنگائی، بے روزگاری، کرنسی کی قدر میں شدید کمی، تیل و گیس سے مالا مال ملک میں عوام کی زندگی کے بنیادی مسائل اور پابندیوں سے پیدا ہونے والی گھٹن کے خلاف تھے مگر بہت جلد یہ مظاہرے سیاسی نعروں، ریاستی ڈھانچے پر سوالات اور بعض مقامات پر نظام کی تبدیلی کے مطالبات میں ڈھل گئے، اندازوں کے مطابق یہ احتجاج درجنوں بڑے شہروں اور سیکڑوں قصبات تک پھیلے، ہزاروں افراد کو گرفتار کیا گیا، سینکڑوں زخمی ہوئے اور درجنوں سے لے کر سینکڑوں تک ہلاکتوں کی غیر مصدقہ اطلاعات سامنے آئیں، اگرچہ ایرانی ریاست ان اعداد و شمار کو مبالغہ قرار دیتی ہے مگر یہ حقیقت واضح ہے کہ احتجاج کی شدت معمولی نہیں رہی، ان مظاہروں کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ کسی ایک طبقے، ایک شہر یا ایک مخصوص گروہ تک محدود نہیں رہے بلکہ نوجوان، محنت کش، متوسط طبقہ اور بعض علاقوں میں تاجر بھی اس میں شامل دکھائی دیے، اسی وسعت نے عالمی طاقتوں کی توجہ دوبارہ ایران پر مرکوز کر دی، یہاں یہ سوال شدت سے اٹھتا ہے کہ آیا یہ سب ایک فطری عوامی ردعمل ہے یا اس کے پس منظر میں رجیم چینج کی منظم کوشش کارفرما ہے، تاریخی طور پر دیکھا جائے تو ایران ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں امریکہ اور اس کے اتحادی ماضی میں براہ راست اور بالواسطہ رجیم چینج کی کوششیں کر چکے ہیں، 1953 میں مصدق حکومت کا تختہ الٹنا اس کی کلاسیکی مثال ہے، موجودہ حالات میں اگرچہ کوئی کھلا اعلان یا فوجی مداخلت نظر نہیں آتی مگر سافٹ پاور، میڈیا وار، معاشی پابندیاں، سائبر مداخلت اور اندرونی اختلافات کو ہوا دینا جدید رجیم چینج ماڈل کا حصہ بن چکا ہے، امریکہ اور اسرائیل ایران کو نہ صرف اپنے خطے میں سب سے بڑا اسٹریٹجک حریف سمجھتے ہیں بلکہ اسے چین اور روس کے ساتھ ابھرتے ہوئے بلاک کا اہم ستون بھی تصور کرتے ہیں، اسی لیے ایران میں عدم استحکام ان طاقتوں کے لیے ایک اسٹریٹجک موقع کے طور پر دیکھا جاتا ہے، دوسری طرف روس اور چین واضح طور پر کسی بھی قسم کی رجیم چینج کے خلاف ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ایران میں نظام کی تبدیلی دراصل ان کے مفادات، توانائی راہداریوں، دفاعی تعاون اور امریکی اثر و رسوخ کے پھیلاؤ کے لیے خطرہ بن سکتی ہے، یہی وجہ ہے کہ چین طویل المدتی اقتصادی معاہدوں کے ذریعے ایران کو سہارا دے رہا ہے اور روس عسکری و سفارتی سطح پر ایران کے ساتھ کھڑا نظر آتا ہے، اب اگر اس تمام صورتحال کو پاکستان کے تناظر میں دیکھا جائے تو خطرات بھی واضح ہیں اور پیچیدگیاں بھی، پاکستان ایران کے ساتھ طویل سرحد رکھتا ہے، کسی بھی بڑے عدم استحکام کی صورت میں پناہ گزینوں کا دباؤ، سرحدی سلامتی کے مسائل، اسمگلنگ اور شدت پسند عناصر کی نقل و حرکت بڑھ سکتی ہے، اس کے علاوہ توانائی، تجارت اور علاقائی سفارت کاری پر بھی براہ راست اثر پڑے گا، پاکستان پہلے ہی ایک نازک معاشی مرحلے سے گزر رہا ہے اور وہ کسی نئے علاقائی بحران کا متحمل نہیں ہو سکتا، اسی لیے پاکستان کے لیے توازن کی پالیسی مزید مشکل ہوتی جا رہی ہے جہاں ایک طرف امریکہ کے ساتھ تعلقات ہیں اور دوسری طرف ایران، چین اور روس کے ساتھ علاقائی تقاضے، اسی عالمی منظرنامے میں وینزویلا کی مثال کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، وینزویلا ایک ایسا ملک ہے جو تیل کے بے پناہ ذخائر رکھنے کے باوجود امریکی پابندیوں، اندرونی سیاسی بحران اور بیرونی دباؤ کا شکار رہا، وینزویلا کے صدر کے خلاف عدالتی کارروائیاں، گرفتاری کے اعلانات اور امریکی عدالتوں میں مقدمات دراصل اس بات کا عندیہ دیتے ہیں کہ امریکہ اب محض پابندیوں پر اکتفا نہیں کرنا چاہتا بلکہ توانائی کے وسائل پر براہ راست کنٹرول کی راہیں تلاش کر رہا ہے، یہ سوال فطری ہے کہ کیا ایران میں بھی وینزویلا جیسا ماڈل اپنایا جا سکتا ہے، بظاہر یہ آسان نہیں کیونکہ ایران فوجی، جغرافیائی اور سیاسی طور پر کہیں زیادہ مضبوط ہے، اس کے پاس منظم ریاستی ادارے، علاقائی اتحادی اور ایک نظریاتی ڈھانچہ موجود ہے، مگر دباؤ کی حکمت عملی، اندرونی خلفشار اور طویل المدتی عدم استحکام کے ذریعے کسی بڑے ہدف کی طرف بڑھنا ناممکن بھی نہیں، اسی پس منظر میں نومبر 2025 میں سامنے آنے والی ٹرمپ ڈاکٹرائن کو دیکھا جانا چاہیے، یہ ڈاکٹرائن دراصل امریکہ کی روایتی سفارتی زبان سے ہٹ کر ایک کھلے طاقت کے اظہار پر مبنی سوچ کی نمائندگی کرتی ہے، اس میں واضح طور پر کہا گیا کہ امریکہ اپنے دشمنوں کو توانائی کے ذخائر پر قابض نہیں ہونے دے گا، امریکہ کو معاشی اور عسکری طور پر دوبارہ طاقتور بنایا جائے گا اور اسرائیل کی سکیورٹی کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا، یہ محض بیانات نہیں بلکہ ایک جامع پالیسی کا خاکہ ہیں، اس ڈاکٹرائن کے اثرات مشرق وسطیٰ میں فوری طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں جہاں ایران، شام، عراق اور لبنان میں امریکی مفادات اور اسرائیلی تحفظ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، چین کے لیے یہ ڈاکٹرائن ایک براہ راست چیلنج ہے کیونکہ چین کی صنعتی مشینری توانائی پر چلتی ہے اور وہ مشرق وسطیٰ، ایران اور روس کے تیل و گیس پر انحصار بڑھا رہا ہے، روس کے لیے بھی یہ ایک خطرے کی گھنٹی ہے کیونکہ روسی تیل کے جہازوں پر قبضے اور پابندیوں کا مقصد صرف یوکرین جنگ نہیں بلکہ روس کی توانائی کی طاقت کو توڑنا ہے، اگر روس کے تیل کے جہازوں پر قبضے کا رجحان بڑھتا ہے تو اس سے عالمی توانائی مارکیٹ میں عدم استحکام، قیمتوں میں اضافہ اور سیاسی کشیدگی بڑھے گی، پاکستان جیسے درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والے ممالک اس کا براہ راست نقصان اٹھائیں گے، ٹرمپ ڈاکٹرائن کے اسرائیل سے متعلق پہلو نے پورے مشرق وسطیٰ کو مزید حساس بنا دیا ہے کیونکہ اسرائیل کو غیر مشروط تحفظ دینے کا مطلب فلسطین، لبنان اور ایران کے خلاف مزید جارحانہ رویہ ہے، ایران میں جاری ہنگامے اگر کسی بڑی رجیم چینج کی کوشش میں بدلتے ہیں تو اس کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عراق، شام، خلیجی ریاستیں، افغانستان اور پاکستان سب اس کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں، تیل کی ترسیل، آبنائے ہرمز کی سکیورٹی، عالمی تجارت اور خطے کی سیاسی صف بندیاں سب متاثر ہوں گی، پاکستان کے لیے اس منظرنامے میں سب سے بڑا چیلنج یہ ہو گا کہ وہ کسی ایک بلاک کا حصہ بننے کے بجائے اپنی بقا، معیشت اور داخلی استحکام کو کیسے محفوظ رکھے، کیونکہ ایک طرف امریکہ کی طاقت ہے، دوسری طرف چین اور روس کے ساتھ وابستگیاں، اور تیسری طرف ایران کے ساتھ جغرافیائی اور مذہبی حساسیت، یہ تمام عوامل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایران میں مظاہرے محض ایک ملک کا داخلی مسئلہ نہیں بلکہ عالمی طاقت کی نئی جنگ کا ایک اہم محاذ بن چکے ہیں، یہ جنگ ٹینکوں اور میزائلوں سے زیادہ معیشت، توانائی، بیانیے اور اندرونی انتشار کے ذریعے لڑی جا رہی ہے، اور اس جنگ کے اثرات آنے والے برسوں میں مشرق وسطیٰ سے لے کر جنوبی ایشیا تک سیاسی، معاشی اور سلامتی کے نقشے کو ازسرنو ترتیب دے سکتے ہیں۔ایران میں جاری ہنگاموں اور عالمی طاقتوں کی مداخلت کے امکانات کو اگر طویل المدتی زاویے سے دیکھا جائے تو یہ تصویر مزید گہری اور پیچیدہ ہو جاتی ہے کیونکہ یہ بحران محض ایک وقتی سیاسی اضطراب نہیں بلکہ عالمی نظام میں جاری طاقت کی ازسرنو تقسیم کا حصہ ہے، روس، چین، یورپ اور ابھرتی ہوئی طاقتیں اس پورے منظرنامے میں خاموش تماشائی نہیں بلکہ اپنے اپنے مفادات کے تحت متحرک کردار ادا کر رہی ہیں، روس کے لیے ایران ایک اسٹریٹجک شراکت دار ہے جو نہ صرف مغربی پابندیوں کے مقابلے میں ایک متبادل معاشی اور عسکری بلاک کو مضبوط کرتا ہے بلکہ مشرق وسطیٰ میں امریکی اثر و رسوخ کو محدود رکھنے کا ذریعہ بھی ہے، روس یوکرین جنگ کے بعد جس شدید دباؤ کا شکار ہوا ہے اس میں ایران کے ساتھ توانائی، اسلحہ اور سفارتی تعاون اس کے لیے زندگی کی لکیر بن چکا ہے، اسی لیے روس کسی بھی ایسی تبدیلی کی سخت مخالفت کرے گا جو ایران کو مغرب کے قریب لے جائے یا وہاں کسی غیر یقینی صورتحال کو جنم دے، روسی تیل کے جہازوں پر قبضے اور پابندیوں کے بعد ماسکو یہ بخوبی سمجھ چکا ہے کہ توانائی اب محض معاشی اثاثہ نہیں بلکہ ایک ہتھیار ہے، اگر ایران میں عدم استحکام بڑھتا ہے اور تیل کی ترسیل متاثر ہوتی ہے تو روس وقتی طور پر قیمتوں کے اضافے سے فائدہ اٹھا سکتا ہے مگر طویل مدت میں یہ غیر یقینی صورتحال خود روس کے لیے بھی نقصان دہ ہو گی کیونکہ عالمی توانائی مارکیٹ میں عدم توازن نئے کھلاڑیوں اور متبادل راستوں کو جنم دے گا، چین اس پوری صورتحال میں شاید سب سے زیادہ محتاط مگر سب سے زیادہ متاثر ہونے والا فریق ہے، چین کی معاشی طاقت کا انحصار سستی اور مسلسل توانائی پر ہے، ایران چین کے لیے نہ صرف تیل اور گیس کا ایک اہم ذریعہ ہے بلکہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کا ایک کلیدی ستون بھی ہے، ایران میں کسی بھی قسم کی رجیم چینج یا طویل خانہ جنگی چین کے اس خواب کو شدید دھچکا پہنچا سکتی ہے جس کے تحت وہ مشرق وسطیٰ، وسطی ایشیا اور یورپ کو زمینی و بحری راستوں سے جوڑنا چاہتا ہے، اسی لیے چین عمومی طور پر ایران کے داخلی معاملات میں عدم مداخلت کا اصولی موقف اختیار کرتا ہے اور پردے کے پیچھے معاشی سہارا، سفارتی حمایت اور متبادل مالی نظام کے ذریعے ایران کو عالمی پابندیوں سے نکالنے کی کوشش کرتا ہے، یورپ کی پوزیشن اس معاملے میں قدرے متذبذب ہے، ایک طرف یورپی ممالک انسانی حقوق، جمہوریت اور آزادی اظہار کے بیانیے کے تحت ایران پر تنقید کرتے ہیں، دوسری طرف وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ ایران میں کسی بڑی تباہی یا خانہ جنگی کا مطلب مہاجرین کی ایک نئی لہر، توانائی کی قلت اور مشرق وسطیٰ میں مزید عدم استحکام ہے جس کا بوجھ بالآخر یورپ کو ہی اٹھانا پڑے گا، اسی لیے یورپ ایک طرف بیانات اور محدود پابندیوں تک خود کو محدود رکھتا ہے مگر دوسری طرف وہ کھلی رجیم چینج کی کسی مہم میں پیش پیش نظر نہیں آتا، اب اگر پاکستان کے لیے ممکنہ حکمت عملی پر غور کیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ آنے والے برسوں میں پاکستان کو جذباتی یا وقتی فیصلوں کے بجائے طویل المدتی ریاستی مفاد کو سامنے رکھنا ہو گا، پاکستان کو ایک طرف اپنی مغربی سرحد کی سلامتی کو یقینی بنانا ہے جہاں پہلے ہی بلوچستان میں حساس صورتحال موجود ہے، دوسری طرف اسے اپنی توانائی ضروریات، تجارت اور علاقائی رابطوں کو بھی برقرار رکھنا ہے، ایران کے ساتھ تعلقات میں سرد مہری یا کسی ایک عالمی بلاک کے دباؤ میں آ کر فیصلے پاکستان کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں، اسی طرح امریکہ کے ساتھ مکمل تصادم یا غیر ضروری قربت دونوں خطرناک راستے ہیں، پاکستان کے لیے سب سے دانشمندانہ راستہ وہی ہو سکتا ہے جو اس نے ماضی میں سرد جنگ کے بعض مراحل میں اختیار کیا تھا یعنی محدود تعاون، واضح سرخ لکیریں اور اپنی داخلی مضبوطی پر توجہ، داخلی مضبوطی اس لیے بھی اہم ہے کہ عالمی طاقتیں عموماً کمزور معیشتوں اور منقسم معاشروں کو ہی اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہیں، اگر پاکستان اپنی معیشت کو مستحکم کرنے، توانائی کے متبادل ذرائع پیدا کرنے اور علاقائی تجارت کو فروغ دینے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو وہ اس طوفان میں نسبتاً محفوظ رہ سکتا ہے، مستقبل کے پانچ سے دس برسوں کا عالمی منظرنامہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ دنیا ایک بار پھر بلاکوں میں بٹتی جا رہی ہے، ایک طرف امریکہ اور اس کے اتحادی ہیں جو طاقت، پابندیوں اور فوجی برتری کے ذریعے عالمی نظام کو کنٹرول میں رکھنا چاہتے ہیں، دوسری طرف چین، روس اور ان کے شراکت دار ہیں جو کثیر قطبی دنیا کا خواب دیکھتے ہیں، ایران اس کشمکش کا ایک مرکزی میدان بن چکا ہے، اگر یہاں استحکام برقرار رہتا ہے تو یہ چین اور روس کے بلاک کے لیے ایک بڑی اخلاقی اور اسٹریٹجک کامیابی ہو گی، اگر یہاں طویل عدم استحکام یا رجیم چینج ہوتی ہے تو یہ امریکہ اور اسرائیل کے لیے ایک بڑی پیش رفت سمجھی جائے گی، مگر دونوں صورتوں میں قیمت عام عوام، علاقائی ممالک اور عالمی معیشت کو چکانا پڑے گی، یہی وجہ ہے کہ ایران کے موجودہ ہنگامے محض آج کی خبر نہیں بلکہ آنے والے عشروں کی عالمی سیاست کا پیش خیمہ ہیں، یہ ایک ایسی بساط ہے جس پر ہر چال کا اثر صرف ایک ملک نہیں بلکہ پورے خطے اور دنیا پر پڑتا ہے، اور پاکستان سمیت تمام ذمہ دار ریاستوں کے لیے یہ لمحہ جذبات سے زیادہ بصیرت، جلد بازی سے زیادہ تدبر اور نعروں سے زیادہ حکمت عملی کا تقاضا کرتا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں