(Publish from Houston Texas USA)
(بریگیڈیئر صادق راہی، ستارہ امتیاز (ملٹری)، ریٹائرڈ)
گزشتہ دنوں ایک انگریزی اخبار میں شائع ہونے والا کالم
“It Is Over”
محض ایک تحریر یا کالم تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ دیکھتے ہی دیکھتے ایک علامت بنا دیا گیا۔ سوشل میڈیا پر اسے نوجوانوں کی اجتماعی بے چینی کی آواز کہا گیا، کچھ حلقوں نے اسے ریاستی جبر کی مثال قرار دیا، اور کچھ نے اسے اس نظام کے خاتمے کا اعلان سمجھ لیا۔
لیکن اگر ہم اس پورے معاملے کو جذبات اور نعروں سے ہٹا کر دیکھیں تو حقیقت نہایت مختلف اور کہیں زیادہ سادہ نظر آتی ہے۔

اصل سوال یہ نہیں کہ ایک کالم کیوں ہٹایا گیا،
اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اختلاف، تنقید اور احتجاج کے نام پر معیار اور ذمہ داری کو پسِ پشت ڈال رہے ہیں؟
ادارتی فیصلہ کیا ہوتا ہے؟
اخبارات، خاص طور پر معتبر اور پرانے ادارے، کسی تحریر کو شائع کرنا یا ہٹانا ایک طے شدہ ادارتی عمل کے تحت کرتے ہیں۔ دنیا بھر میں یہ معمول ہے کہ اگر کوئی مضمون:
فنی لحاظ سے کمزور ہو، غیر ضروری تکرار کا شکار ہو یا پروف ریڈنگ کے بنیادی تقاضے پورے نہ کرتا ہو
تو ادارہ یا تو اسے بہتر بناتا ہے یا شائع شدہ صورت میں خاموشی سے ہٹا دیتا ہے۔ یہ سنسر شپ نہیں ہوتی، یہ ادارتی اختیار ہوتا ہے۔
مسئلہ کہاں پیدا ہوا؟
مسئلہ وہاں پیدا ہوا جہاں اس پیشہ ورانہ فیصلے کو: آزادیٔ اظہار پر حملہ، نوجوانوں کی آواز دبانے کی سازش اور نظام کے خلاف سچ بولنے کی سزا بنا کر پیش کیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر اس کالم کو بغور دیکھا جائے تو:
-ایک ہی بات بار بار دہرائی گئی
-خیالات آگے بڑھنے کے بجائے دائرے میں گھومتے رہے
-زبان اور ساخت میں واضح کمزوریاں موجود تھیں.
یہ وہ خامیاں ہیں جو کسی بھی سنجیدہ پلیٹ فارم پر نظر انداز نہیں کی جاتیں۔
کیا ہر اختلاف انقلاب ہوتا ہے؟
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ: ہر تلخ بات انقلاب نہیں ہوتی اور ہر احتجاج تاریخ کا دھارا نہیں موڑ دیتا
پاکستان جیسے ملک میں، جہاں:
-آبادی 24 کروڑ سے زائد ہے
-انگریزی پڑھنے والا طبقہ محدود ہے
-اور اخبارات کا قاری پہلے ہی کم ہوتا جا رہا ہے
یہ تصور کرنا کہ ایک کمزور، غیر منقح انگریزی کالم پورے نظام کو ہلا دیتا ایک رومانوی خوش فہمی کے سوا کچھ نہیں۔
اظہارِ رائے اور فکری ذمہ داری
اظہارِ رائے ایک بنیادی حق ہے، مگر یہ حق ذمہ داری کے بغیر بے وزن ہو جاتا ہے۔
جب:
فنی کمزوری کو جبر کہا جائے
ادارتی اصلاح کو سازش بنا دیا جائے
اور ہر تنقید کو مقدس قرار دیا جائے
تو نہ صحافت مضبوط ہوتی ہے
نہ مکالمہ آگے بڑھتا ہے۔
نوجوان نسل اور اصل چیلنج
یہ حقیقت ہے کہ نوجوان نسل سوال کر رہی ہے، اور یہ خوش آئند بات ہے۔ لیکن سوال کرنے کے ساتھ ساتھ:
بہتر لکھنا، ٹھوس دلیل دینا، اور سنجیدہ معیار اپنانا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ اگر نئی نسل خود کو واقعی سنجیدہ متبادل کے طور پر منوانا چاہتی ہے تو اسے شور سے زیادہ شعور، اور نعرے سے زیادہ دلیل کی طرف آنا ہوگا۔
ریاستیں کب کمزور ہوتی ہیں؟
ریاستیں: تنقید سے نہیں گرتیں، سوال سے نہیں ٹوٹتیں، ریاستیں تب کمزور ہوتی ہیں جب:
ہر بات کو تماشا بنا دیا جائے، اداروں پر اعتماد ختم کر دیا جائے اور اصلاح کے بجائے محض نفی کو فیشن بنا لیا جائے
پاکستان ایک مشکل تاریخ رکھتا ہے،
لیکن یہ تاریخ مکمل مایوسی کی نہیں،
بلکہ بار بار سنبھلنے کی ہے۔
“It Is Over” نہیں
یہ ایک لمحۂ احتساب ہے
یہ کہنا آسان ہے کہ “سب ختم ہو چکا ہے”،
لیکن حقیقت یہ ہے کہ قومیں ختم نہیں ہوتیں، وہ آزمائش سے گزرتی ہیں۔ اور آزمائش کے وقت: چیخ نہیں، مکالمہ، الزام نہیں، دلیل
اور نفرت نہیں، اصلاح
راستہ دکھاتی ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ ایک کالم کیوں ہٹا،
اصل سوال یہ ہے کہ: کیا ہم سنجیدہ بات سنجیدگی سے کرنے کو تیار ہیں؟
اگر جواب ہاں میں ہے،
تو پھر یہ سب کچھ “اوور” نہیں
یہ صرف ایک نیا امتحان ہے۔

مصنف کا تعارف
ستارۂ امتیاز (ملٹری)
پاکستان آرمی کے سینئر ریٹائرڈ افسر، تجزیہ کار اور کالم نگار ہیں۔
انہوں نے تین دہائیوں سے زائد عرصہ دفاع، سلامتی، انتظامی اور پالیسی سازی کے شعبوں میں خدمات انجام دیں۔
اقوامِ متحدہ کے امن مشن میں خدمات کے علاوہ، قومی و بین الاقوامی امور پر ان کی تحریریں مختلف اخبارات اور جرائد میں شائع ہوتی رہی ہیں۔
ان کا اسلوب سنجیدہ، متوازن اور فکری ذمہ داری کا حامل سمجھا جاتا ہے۔
