(Publish from Houston Texas USA)
(میاں افتخار احمد)
وینزویلا کے صدر کی گرفتاری یا اغوا سے متعلق دعوے خواہ حتمی طور پر ثابت ہوں یا ابھی الزامات اور اطلاعات کے دائرے میں ہوں، اس واقعے نے ایک بار پھر اس حقیقت کو عیاں کر دیا ہے کہ اکیسویں صدی کا عالمی نظام اب قوانین، اداروں اور اخلاقی اصولوں کے بجائے طاقت، وسائل اور جغرافیائی سیاست کے ننگے تصادم کے تابع ہو چکا ہے، وینزویلا محض ایک ملک نہیں بلکہ توانائی، خودمختاری اور عالمی بالادستی کی اس طویل جنگ کا مرکز ہے جو دراصل امریکہ اور چین کے درمیان مستقبل کی عالمی قیادت کے سوال پر لڑی جا رہی ہے، امریکہ کی جانب سے وینزویلا پر دباؤ، پابندیاں، رجیم چینج کی کوششیں اور اب ممکنہ فوجی کارروائی یا قیادت کو غیر مؤثر بنانے کے اقدامات ایک طویل تاریخی تسلسل کا حصہ ہیں جو 1998 میں ہوگو شاویز کے اقتدار میں آنے سے شروع ہوتا ہے، شاویز نے جب تیل کے قومیانے، سماجی فلاح اور امریکی اجارہ داری کے خاتمے کی بات کی تو لاطینی امریکہ میں صدیوں سے قائم مینرو ڈاکٹرائن کے مفادات کو براہ راست چیلنج کیا، یہی وہ لمحہ تھا جب وینزویلا کو عدم استحکام، سازشوں، بغاوتوں اور معاشی پابندیوں کے ایک نہ ختم ہونے والے سلسلے میں دھکیل دیا گیا، 2002 کی ناکام فوجی بغاوت اور عوامی مزاحمت نے ثابت کیا کہ یہ محض اقتدار کی لڑائی نہیں بلکہ خودمختاری کی جنگ ہے، اس کے بعد پابندیوں کے ذریعے معیشت کو مفلوج کیا گیا تاکہ عوام کو ریاست کے خلاف کھڑا کیا جا سکے، اس پورے عمل میں انسانی حقوق، جمہوریت اور منشیات کے الزامات کو بطور ہتھیار استعمال کیا گیا، حالانکہ اصل مسئلہ ہمیشہ توانائی کے وسائل اور ان پر کنٹرول رہا، وینزویلا کے پاس دنیا کے سب سے بڑے ثابت شدہ تیل کے ذخائر موجود ہیں اور یہی حقیقت اسے عالمی سیاست کے مرکز میں لے آتی ہے، چین آج وینزویلا کی توانائی کا ایک بڑا خریدار ہے اور بعض اندازوں کے مطابق اس کی برآمدات کا بڑا حصہ مشرق کی طرف جاتا ہے، اس تناظر میں وینزویلا پر کسی بھی قسم کی امریکی کارروائی محض ایک ملک کے خلاف نہیں بلکہ چین کی توانائی سلامتی پر بالواسطہ حملہ تصور کی جاتی ہے، یہی وجہ ہے کہ یہ بحران واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان بڑھتی ہوئی سرد جنگ کا ایک گرم محاذ بنتا جا رہا ہے، امریکہ کی اپنی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہے، بڑھتا ہوا قرض، مالیاتی عدم توازن اور عالمی سطح پر ڈالر کی بالادستی کو درپیش چیلنجز واشنگٹن کو مجبور کر رہے ہیں کہ وہ طاقت کے انجکشن کے ذریعے اپنی بالادستی برقرار رکھنے کی کوشش کرے، تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی زوال پذیر طاقت کو اندرونی معاشی بحران کا سامنا ہوتا ہے تو وہ بیرونی محاذوں پر جارحیت کے ذریعے اپنے نظام کو سہارا دینے کی کوشش کرتی ہے، وینزویلا کے تیل پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنا امریکی کمپنیوں کے لئے اربوں ڈالر کے مفادات کا معاملہ ہے، خاص طور پر وہ حقوق جو شاویز کے دور میں قومیائے گئے تھے، ایک امریکی حمایت یافتہ حکومت ان تمام معاہدوں کو بحال کر سکتی ہے، اسی تناظر میں اپوزیشن قیادت، عبوری صدارت اور بیرونی سرپرستی کے کردار پر سوالات اٹھتے ہیں، یہ دعوے کہ ایک مخصوص خاتون نائب صدر یا اپوزیشن لیڈر امریکی پراکسی کے طور پر اقتدار سنبھال سکتی ہے، لاطینی امریکہ کی اس طویل تاریخ سے مطابقت رکھتے ہیں جہاں واشنگٹن نے ہمیشہ اپنے مفادات کے مطابق سیاسی انجینئرنگ کی، تاہم آج کا وینزویلا 1970 یا 1980 کا لاطینی امریکہ نہیں، ریاستی اداروں کے اندر ایک مضبوط امریکہ مخالف انفراسٹرکچر موجود ہے، فوج میں ایسے عناصر ہیں جو چین اور روس کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات کے حامی ہیں، اس لئے کسی بھی فوری اور ہموار رجیم چینج کی راہ میں شدید مزاحمت متوقع ہے، ابتدائی صدمے کے بعد عوامی ردعمل، امریکہ مخالف مظاہرے اور مزاحمتی سیاست اس بات کی علامت ہیں کہ یہ معرکہ آسان نہیں ہوگا، طاقت کی دھاک بظاہر وقتی طور پر قائم کی جا سکتی ہے مگر جب اس کے معاشی اور سیاسی اخراجات بڑھنے لگتے ہیں تو وہی طاقت اپنے بوجھ تلے دبنے لگتی ہے، اگر وینزویلا ایک طویل مزاحمتی دلدل میں تبدیل ہوتا ہے تو امریکی خزانے پر دباؤ بڑھے گا، فوجی وسائل بکھریں گے اور مشرق وسطیٰ سمیت دیگر خطوں میں اس کی مداخلت کی صلاحیت متاثر ہوگی، یہی وہ نکتہ ہے جہاں اسرائیلی اسٹریٹجک منصوبہ بندی بھی براہ راست متاثر ہوتی ہے کیونکہ امریکی علاقائی طاقت اس کی پشت پر کھڑی ہے، اگر واشنگٹن وینزویلا میں الجھ جاتا ہے تو ایران کے خلاف کسی بڑے اقدام کی قیمت کہیں زیادہ ہو جائے گی، اسی لئے بعض تجزیہ کاروں کے نزدیک وینزویلا پر کنٹرول حاصل کرنا ایران کے خلاف ممکنہ دباؤ کی راہ ہموار کرنے کی کوشش بھی ہو سکتی ہے، کیونکہ اس سے امریکہ کو خلیج فارس میں توانائی سپلائی شاکس کے اثرات کم کرنے کا متبادل ذریعہ مل سکتا ہے، اس پورے منظرنامے میں چین کا کردار فیصلہ کن ہے، بیجنگ بظاہر خاموش ہے مگر اس کی زنبیل میں سفارتی، معاشی اور اسٹریٹجک کئی کارڈ موجود ہیں، چین کی حکمت عملی اب تک یہ رہی ہے کہ براہ راست عسکری تصادم سے گریز کرتے ہوئے معاشی اور تکنیکی برتری کے ذریعے عالمی توازن بدلا جائے، لیکن امریکہ کی جانب سے عسکری دباؤ اور گھیراؤ کی پالیسی چین کو مجبور کر سکتی ہے کہ وہ اپنی روایتی احتیاط پر نظرثانی کرے، یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ آج کا امریکہ ماضی والا امریکہ نہیں رہا اور آج کا چین بھی وہ چین نہیں جو چند دہائیاں قبل تھا، عالمی تجارت میں چین کی برتری، لاطینی امریکہ، افریقہ اور ایشیا میں اس کی موجودگی اور ٹیکنالوجی میں تیز رفتار پیش رفت نے مغرب کی صدیوں پرانی اجارہ داری کو چیلنج کیا ہے، یہی وہ بنیادی خوف ہے جو مغربی جارحیت کے پیچھے کارفرما نظر آتا ہے، اسرائیل کی جانب سے غزہ میں جاری جارحیت، عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی اور اس پر مغربی خاموشی نے ایک خطرناک مثال قائم کی ہے، جب ایک ریاست کو یہ پیغام ملتا ہے کہ طاقت کے استعمال پر کوئی جواب دہی نہیں تو عالمی نظام عملاً ختم ہو جاتا ہے، وینزویلا کے معاملے میں بھی یہی بیانیہ سامنے آتا ہے کہ انسانی حقوق اور منشیات کے الزامات محض جواز ہیں، اصل ہدف وسائل اور جغرافیائی کنٹرول ہے، مینرو ڈاکٹرائن کی روح آج بھی زندہ ہے، فرق صرف یہ ہے کہ اب اس کا اظہار زیادہ بے نقاب اور زیادہ بے رحم ہو چکا ہے، اس صورتحال میں تیسری عالمی جنگ کے خدشات محض مبالغہ نہیں بلکہ ایک تدریجی حقیقت بنتے جا رہے ہیں، یہ جنگ روایتی انداز میں ایک دن میں شروع نہیں ہوگی بلکہ ایک ایک کر کے مغرب مخالف ریاستوں کو دباؤ، پابندیوں، عدم استحکام اور پھر براہ راست مداخلت کے ذریعے نشانہ بنایا جائے گا، دنیا کو یہ انتخاب دیا جا رہا ہے کہ یا تو اس جنگی پالیسی کا حصہ بنو یا پھر کھنڈر بننے کے لئے تیار رہو، پاکستان جیسے ممالک کے لئے یہ لمحہ نہایت نازک ہے، اگر پالیسی واضح نہ ہوئی اور داخلی سطح پر سنجیدہ بحث کے بجائے اندھا دھند صف بندی کی گئی تو نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں، وینزویلا کے بعد ایران کا نام اسی تسلسل میں لیا جا رہا ہے اور اگر مشرق وسطیٰ ایک نئے بڑے تصادم کی لپیٹ میں آتا ہے تو اس کے اثرات پورے خطے کو اپنی گرفت میں لے لیں گے، آج یہ بات بالکل واضح ہو چکی ہے کہ عالمی سطح پر انسانی حقوق اور جمہوریت کے نعرے ایک سیاسی آلہ بن چکے ہیں، عالمی نظام عسکری طاقت کے تابع ہو چکا ہے اور اس حقیقت کو تسلیم کئے بغیر کوئی مزاحمتی یا حفاظتی حکمت عملی ترتیب نہیں دی جا سکتی، اصل سوال اب یہ نہیں کہ آئیڈیل آزادی کیسے حاصل کی جائے بلکہ یہ ہے کہ قومی سالمیت، دفاع اور خارجہ پالیسی کے فیصلوں کو جمہوری، شفاف اور عوامی مفاد سے ہم آہنگ کیسے بنایا جائے، وینزویلا کا بحران ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ریاستیں ٹینکوں سے کم اور اندرونی کمزوریوں، غداریوں اور ادارہ جاتی شکست و ریخت سے زیادہ گرتی ہیں، اگر داخلی اتحاد مضبوط ہو تو بیرونی مداخلت مہنگی اور غیر مؤثر ہو جاتی ہے، آنے والے دن واقعی فیصلہ کن ہیں، وینزویلا میں امریکی منصوبہ بندی کامیاب ہوتی ہے یا مزاحمت اسے ایک نئے بحران میں دھکیل دیتی ہے، اس کے اثرات لاطینی امریکہ سے کہیں آگے جائیں گے، یہ توانائی، عالمی طاقت کے توازن اور مستقبل کے عالمی آرڈر کی سمت کا تعین کریں گے، اور شاید یہی وہ موڑ ہے جہاں ایک پرانا نظام مکمل طور پر زمین بوس اور ایک نیا، زیادہ خطرناک مگر زیادہ واضح نظام جنم لے گا۔
